نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- گجرنالہ تجاوزات کیس،سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں سماعت
  • بریکنگ :- کراچی:گجرنالہ پرپیشرفت رپورٹ کہاں ہے؟چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- بورڈآف ریونیوکی جانب سےرپورٹ جمع کرائی ہے،ایڈووکیٹ جنرل سندھ
  • بریکنگ :- 258 ایکڑاراضی پرمتاثرین کومتبادل زمین مختص کردی،اے جی سندھ
  • بریکنگ :- کراچی:6 ہزار سےزائدگھربنائےجائیں گے،ایڈووکیٹ جنرل سندھ
  • بریکنگ :- کراچی:سندھ حکومت کےپاس بجٹ کی کمی ہے،ایڈووکیٹ جنرل
  • بریکنگ :- وزراکیلئےفنڈزہیں،عوام کیلئےنہیں،باقی سارےامورچلارہےہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- ابھی پیسےآئےنہیں،ساراجہاں لینےآگیا،جسٹس اعجازالاحسن
  • بریکنگ :- جب گاڑیاں خریدنی ہوتی ہیں تو پیسےآجاتےہیں،جسٹس اعجازالاحسن
  • بریکنگ :- اگرزلزلہ یاسیلاب آجائےتوپھرکیاکریں گے؟جسٹس اعجازالاحسن
  • بریکنگ :- کوئی آفت جائےتوکیاایک سال تک بجٹ کاانتظارکریں گے،جسٹس اعجازالاحسن
  • بریکنگ :- متاثرین کوگھردینےتک وزیراعلیٰ اورگورنرہاؤس الاٹ کردیتےہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- لوگوں کوکہتےہیں وزیراعلیٰ،گورنرہاؤس کےباہرٹینٹ لگالیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- ورلڈبینک کے کتنےمنصوبےہیں مگرکچھ نہیں ہورہا،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- جنہوں نےزمینیں الاٹ کیں،ان کیخلاف کیاایکشن لیا؟چیف جسٹس برہم
Coronavirus Updates

تازہ اسپیشل فیچر

آزاد کشمیر انتخابات: دنیا میڈیا گروپ نے نتائج کی کامیاب پیشگوئی کی روایت برقرار رکھی

پاکستان

لاہور: (دنیا الیکشن سیل) دنیا میڈیا گروپ نے ماضی کی طرح آزاد جموں وکشمیر کے انتخابات 2021ء میں بھی حلقہ جاتی سرویز کے ذریعے نتائج کی کامیاب پیشگوئی کی روایت برقرار رکھی۔

دنیا الیکشن سیل نے آزاد کشمیر کے انتخابات سے قبل حلقہ جاتی سرویز کیے تھے اور ان سرویز کی بنیاد پر اخذ کیے گئے ممکنہ نتائج کے حوالے سے دنیا نیوز، روزنامہ دنیا اور دنیا نیوز کی ویب سائٹ پر خبریں جاری کی تھیں۔

واضح رہے کہ دنیا میڈیا گروپ کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے عام انتخابات 2013ء سے قبل دنیا الیکشن سیل قائم کیا گیا تھا جس کا مقصد انتخابات سے قبل حلقہ جاتی سرویز اور عوامی آرا و زمینی حقائق سے آگاہی کے ذریعے ممکنہ نتائج کی پیشگوئی کرنا تھا۔

اس حوالے سے 2013ء کے عام انتخابات سے شروع ہونے والا دنیا میڈیا گروپ کے الیکشن سیل کا یہ سفر کامیابی سے جاری رہا۔ الیکشن سیل نے 2015ء میں خیبر پختونخوا کے بلدیاتی انتخابات کے کامیاب سرویز کیے اور عوامی آرا کی بنیاد پر ممکنہ نتائج کے حوالے سے آگاہ کیا تو 2016ء میں آزاد کشمیر کے انتخابات میں بھی یہی عمل دہرایا گیا۔

اسی طرح 2018ء کے عام انتخابات کے حوالے سے دنیا میڈیا گروپ کے الیکشن سیل کے سرویز اور ان کی بنیاد پر تشکیل دئے گئے ممکنہ نتائج نے ہلچل مچا دی تھی۔ جس کی وجہ دنیا الیکشن سیل کی جانب سے اپنے کیے گئے سرویز کی بنیاد پر تشکیل دیے گئے نتائج تھے۔

دنیا الیکشن سیل نے میڈیا میں الیکشن کی کوریج کے ایک نئے رجحان کو متعارف کرایا جس کے بعد مختلف میڈیا اداروں نے اسے اپنانے کی کوشش کی۔

اس کے بعد گلگت بلتستان کے انتخابات 2020ء میں بھی دنیا الیکشن سیل نے ایک بار پھر اپنا لوہا منوایا اور انتخابات کی کوریج کے حوالے سے ایک مستند فورم کی حیثیت اختیار کر گیا۔