نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- الجزائرکامراکش کےلیے فضائی حدود بند کرنےکا اعلان،خبرایجنسی
  • بریکنگ :- الجزائر نےحالیہ اقدام مغربی صحارا میں تنازع کےبعداٹھایا،خبرایجنسی
  • بریکنگ :- الجزائرنے 24اگست کومراکش سےسفارتی تعلقات بھی منقطع کرلیے تھے،خبرایجنسی
Coronavirus Updates

تازہ اسپیشل فیچر

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے کرکٹ مقابلوں کی تاریخ کیا ہے؟

کرکٹ

لاہور: (دنیا میگزین) 1958ء سے لے کر آج تک پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان 17 ٹیسٹ سیریز ہو چکی ہیں جن میں سے 6 سیریز میں پاکستان کا پلڑا بھاری رہا جبکہ ونڈیز کی ٹیم 5 سیریز جیت سکی ہے۔

دونوں ٹیموں کے درمیان کل 52 ٹیسٹ میچز کھیلے گئے جن میں سے پاکستان نے 20 میچز جیتے اور ونڈیز کی ٹیم 17 میں فاتح رہی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم کسی زمانے میں دنیا کی ٹاپ ٹیم ہوا کرتی تھی لیکن نوجوان نسل کا باسکٹ بال کی طرف رجحان ہونے سے اور ٹیم کی ناقص کارکردگی کے باعث وہاں کرکٹ کا رجحان کم ہوا۔

جہاں پہلے سٹیڈیم بھرے نظر آتے تھے وہاں اب خالی سٹیڈیمز میں میچز ہوتے ہیں۔ اگر تماشائی نظر آتے ہیں تو صرف کیربیئن لیگ کے دوران ورنہ انٹرنیشنل میچز میں تماشائیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہوتی ہے۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم اب تک دو ون ڈے کرکٹ اور دو ہی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ جیت چکی ہے ۔ اس کے علاوہ آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کی بھی ایک مرتبہ فاتح رہی ہے۔

پاکستان کرکٹ کی دورہ ویسٹ انڈیز سے بہت سی یادیں وابستہ ہیں۔ وہاں کی تیز دھوپ اور ماضی کی تباہ کن باؤلنگ پاکستانی بیٹسمینوں کیلئے ہمیشہ ڈراؤنا خواب رہی ہیں لیکن جاوید میانداد وہ واحد کھلاڑی تھے جو اس تیز باؤلنگ کا بہت دلیری سے مقابلہ کیا کرتے تھے۔

اس دور میں کولن کرافٹ، جوئیل گارنر، مائیکل ہولڈنگ، میلکم مارشل جیسی تیز بیٹری ہوا کرتی تھی۔

بیٹنگ میں بھی بہت بڑے بڑے نام تھے جن میں ووین رچرڈز کا نام قابل ذکر ہے۔ ان کے علاوہ سر گیری سوبرز، کلائیو لائیڈ، گس لوگی، رچی رچرڈسن، ڈیسمنڈ ہینز، گورڈن گرینج جیسے خطرناک بیٹسمین بھی شامل تھے۔

بعد میں کرٹلی ایمبروز، کورٹنی والش اور آئن بشپ نے بائولنگ بہت نام کمایا۔ ویسٹ انڈیز کی ٹیم 1980-84 کے سالوں میں دنیا کی مضبوط ٹیم تھی جب اس نے مسلسل11 ٹیسٹ میچز جیتے تھے۔

کلائیو لائیڈ کی قیادت میں کھیلنے والی اس ٹیم کو پھر ٹی ٹوئنٹی میں ہی عروج حاصل ہوا اور اس کے بہت سے کھلاڑی دنیا بھر کی لیگز میں کھیلنے لگے۔ اس ٹیم کیلئے ایک عشرہ1970 سے لیکر 1980تک یادگار تھا کیونکہ اس عشرے کے دوران وہ ایک مضبوط حریف تھی اور دنیا ئے ٹیسٹ کرکٹ کی ٹاپ ٹیم شمار ہوتی تھی۔ اس وقت ونڈیز کو ہرانا ایک ڈرائونا خواب لگتا تھا۔ ٹیسٹ کے ساتھ ساتھ ونڈیز ٹیم ون ڈے کی بھی خطرناک ٹیم رہی۔اسی تباہ کن بائولنگ اور بیٹنگ کی وجہ سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو’’ کالی آندھی‘‘ کے القاب سے یاد کیا جاتا تھا جو میچ میں ہرطرف تباہی مچا دیتی تھی۔ ان کی فیلڈنگ بھی ہمیشہ شاندار رہی۔

پاکستان اور ویسٹ انڈیز کی ٹیموں کے درمیان کئی یادگار ون ڈے میچز بھی ہوئے ۔ اگرچہ شروع میں ویسٹ انڈیز کی ون ڈے ٹیم کا پلڑا بھاری رہا اور وہ زیادہ ون ڈے میچز میں کامیابی سمیٹتی رہی لیکن بعد میں جب ان کی ٹیم کمزور ہوگئی تو پاکستان کی ون ڈے ٹیم ونڈیز کی ٹیم سے زیادہ مضبوط رہی۔ ویسٹ انڈیز میں کھیلا جانیوالا ایک ون ڈے میچ بہت یادگار رہے گا۔ یہ ون ڈے سیریز1993 میں کھیلی گئی جو کہ پانچ میچز پر مشتمل تھی ، پہلے دو میچز ویسٹ انڈیز نے جیتے اور اس کے بعد دو لگاتار میچز پاکستان کے حصے میں آئے۔

آخری اور پانچویں میچ میں سیریز کا فیصلہ ہونا تھا کہ یہ میچ اعصاب شکن ثابت ہوا اور ٹائی ہوگیا۔اس سیریز میں وسیم اکرم نے کپتانی کی تھی۔ اور ان دنوں میں وسیم اکرم اور وقار یونس کی تباہ کن بائولنگ مشہور تھی ۔ ان کے ساتھ جس کھلاڑی نے یاد گار اورز کرائے وہ عامر نذیر تھے انہوں نے برائن لارا کو ایک نہایت سوئنگ یارکر گیند پر بولڈ کرکے سب کو حیران کردیا تھا۔ یہ پانچواں اور آخری میچ جارج ٹائون میں کھیلا گیا تھا۔

پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ پچاس اوورز میں244 رنز بنائے تھے جواب میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم بھی پانچ وکٹوں پر مقررہ اوورز میں244 رنز بنا سکی تھی۔ اس میچ میں کارل ہوپر اور ڈیسمنڈ ہینز نے پاکستانی بائولرز کا ڈٹ کر مقابلہ کیا تھا اور خاص طور پر کارل ہوپر میچ کو ٹائی کرنے میں کامیاب ہوگئے تھے۔ عامر نذیر نے اس میچ میں بہت عمدہ لائن اینڈ لینتھ سے بائولنگ کرائی تھی جس کی بدولت ونڈیز بلے باز کھل کر نہ کھیل سکے تھے۔

اس طرح یہ ون ڈے سیریز ڈرا ہوگئی تھی۔ پاکستان نے پہلی ون ڈے سیریز ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر 2005 میں جیتی۔اس وقت ان کی ٹیم بہت کمزورہوچکی تھی۔ ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر یہ پہلی سیریز جیتنے والی ٹیم کے کپتان انضمام الحق تھے۔ دیگر نمایاں کھلاڑیوں میں عبدالرزاق، شاہد آفریدی، یونس خان، شعیب ملک اور سلمان بٹ تھے۔

جبکہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم میں گرس گیل، شیو نرائن چندرپال، ڈیوائن براوو شامل تھے۔ یہ سیریز اس لئے بھی یادگار تھی کیونکہ پاکستان نے تینوں ون ڈے جیت کر سیریز میں وائٹ واش کیا تھا۔ پاکستان نے اس کے بعد 2011 اور2017 میں ون ڈے سیریز جیتیں۔

سن 2000کی سیریز بھی یادگار تھی کیونکہ اس سیریز میں اگرچہ پاکستان کامیابی حاصل نہیں کرسکا تھا لیکن بھر پور مزاحمت دکھاتے ہوئے پانچ میں سے دو میچ جیت لئے تھے۔ اس وقت پاکستان ٹیم کے کپتان معین خان تھے۔ پاکستان نے پورٹ آف سپین اور برج ٹائون کے میچز جیتے تھے۔

2017 میں پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز جیت کر نئی تاریخ رقم کی تھی۔
پاکستان نے ویسٹ انڈیز کو ٹیسٹ سیریز کے تیسرے اور آخری کرکٹ میچ میں سنسنی خیز مقابلے کے بعد 101 رنز سے شکست دی۔اس فتح کے نتیجے میں پاکستان یہ سیریز دو ایک سے جیتنے میں کامیاب ہوا ہے اور یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستانی کرکٹ ٹیم نے ویسٹ انڈیز کو اس کی سرزمین پر ٹیسٹ سیریز ہرائی ہے۔ کھیل کے آخری دن ڈومینیکا کے ونڈسر سٹیڈیم میں کھیلے جانے والے میچ میں ویسٹ انڈیز کی پوری ٹیم دوسری اننگز میں 304 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 202 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔

پاکستان کی اس جیت میں کئی بار اعصاب شکن مراحل آئے۔ ایک مرحلے پر ایسا محسوس ہوتا تھا کہ ویسٹ انڈیز کی ٹیم یہ میچ ڈرا کرنے میں کامیاب ہو جائے گی تاہم پاکستان نے سکینڈ لاسٹ اوور میں کامیابی حاصل کی۔ویسٹ انڈیز کے آؤٹ ہونے والے آخری بیٹسمین شینن گیبریئل تھے جنھیں یاسر شاہ نے بولڈ کر کے پاکستان کو تاریخ ساز کامیابی دلائی۔پاکستان کے سپنر یاسر شاہ کو مین آف دی سیریز قرار دیا گیا، انھوں نے اس سیریز میں 25 وکٹیں حاصل کیں۔یہ ایک اعصاب شکن میچ تھا۔اس فتح کے ساتھ ہی پاکستان نے ویسٹ انڈیز کی سر زمین پر پہلی مرتبہ سیریز جیتنے کا اعزاز حاصل کر لیا اور ساتھ ساتھ اپنے کریئر کا آخری میچ کھیلنے والے یونس خان اور کپتان مصباح الحق کو بھی یادگار انداز میں رخصت کیا گیا۔یہ میچ دونوں کھلاڑیوں کا آخری انٹرنیشنل ٹیسٹ میچ تھا۔ مہمان ٹیم کی جانب سے روسٹن چیز نے شاندار اننگز کھیلتے ہوئے 101 رنز بنائے تھے لیکن ان کی اننگز بھی ویسٹ انڈیز کو شکست سے نہ بچا سکی۔

پاکستان کی جانب سے دوسری اننگز میں یاسر شاہ نے پانچ، حسن علی نے تین، جب کہ محمد عامر اور محمد عباس نے ایک، ایک کھلاڑی کو آؤٹ کیا۔اس سے پہلے میچ کے چوتھے دن پاکستان نے ویسٹ انڈیز کے خلاف 174 رنز آٹھ کھلاڑی آؤٹ پر دوسری اننگز ڈیکلیئر کر دی تھی۔مہمان ٹیم کی جانب سے یاسر شاہ نے اور محمد عامر نے آٹھویں وکٹ کے لیے 61 رنز کی اہم شراکت قائم کی تھی۔اس سے پہلے ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی پہلی اننگز میں 247 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی جس کے نتیجے میں پاکستان کو 129 رنز کی برتری حاصل ہوئی۔

ویسٹ انڈیز کی ٹیم اپنی سرزمین پر ہمیشہ ایک مشکل ہدف رہی ہے ۔ اس نے حالیہ دنوں میں اپنی سرزمین پر آسٹریلیا جیسی مضبوط ٹیم کو ٹی ٹوئنٹی سیریز میں شکست سے دوچار کیا تھا۔ پاکستان اب اس سرزمین پر دو ٹیسٹ میچز کھیلنے جارہی ہے جبکہ یہ تحریر شائع ہونے تک ٹی ٹوئنٹی میچز بھی ہورہے ہونگے۔ پاکستان ٹیم کا اصل امتحان اگرچہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ ہے لیکن وہ اس ایونٹ سے پہلے ٹی ٹوئنٹی فارمیٹ کی ماہر ٹیم سے نبردآزما ہوکر اچھی پریکٹس کرے گی۔ کیرئبین سرزمین پر قومی ٹیم کے بیٹسمینوں کو جم کر کھیلنا ہوگا۔

ویسٹ انڈیز کی طرف سے جو بیٹسمین پاکستان کے خلاف زیادہ چلتے تھے ان میں ڈیسمنڈ ہینز، ووین رچرڈ اور برائن لارا شامل تھے جبکہ پاکستان کی طرف سے جاوید میانداد ایک آہنی دیوار ثابت ہوتے تھے۔ ماضی میں بائولنگ میں پاکستان کی طرف سے وسیم اکرم اور وقار یونس کامیاب بائولر رہے جبکہ ویسٹ انڈیز کی طرف سے کرٹلی ایمبروز اور کورٹنی واش نے پاکستانی بیٹسمینوں کو خاصا پریشان کیا۔ پاکستان نے اپنا پہلا ٹیسٹ میچ ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر میں جیتا ۔ اگرچہ سیریز میں کامیاب نہیں ہوئے لیکن یہ ٹیسٹ میچ جیتنا پاکستان کیلئے یادگار تھا۔ یہ یادگار میچ پورٹ آف سپین میں کھیلا گیا تھا جس کی قیادت پاکستان کی طرف سے عبدالحفیظ کاردار نے کی تھی جبکہ ونڈیز کی طرف سے کپتان گیرالیگزینڈر تھے۔ یہ میچ پاکستان نے ایک اننگز اور ایک رن سے جیت لیا تھا۔

ایک اور یادگار میچ جو پاکستان نے ویسٹ انڈیز میں جیتا وہ اپریل 1977 میں کھیلاجانیوالا سیریز کا چوتھا ٹیسٹ میچ تھا۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کی ٹیم بہت مضبوط تھی اور اس کے خلاف میچ جیتنا ایسے ہی ہے جیسے آج کل آسٹریلیا یا نیوزی لینڈ کو اس کی سرزمین پر ٹیسٹ میچ ہرانا مشکل ہے۔ اس ٹیم میں اس وقت اینڈی رابرٹس، جوئیل گارنر، فریڈرک، کولن کرافٹ، ووین رچرڈ، گورڈن گرینج، ڈیریک مرے اور کلائیولائیڈ شامل تھے ۔ اس وقت ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹیسٹ میچ ڈرا کرنا ہی بہادری سمجھا جاتا تھا لیکن پاکستان کی بھی ایک مضبوط ٹیم تھی جو ہمیشہ ونڈیز کو ٹف ٹائم دیا کرتی تھی ۔ یہ میچ پاکستان نے 266رنز سے جیت لیا تھا۔ پاکستان نے اس سیریز میں دو میچز ڈرا کھیلے ۔ پاکستان نے اس میچ میں ویسٹ انڈیز جیسی مضبوط بائولنگ کیخلاف پہلی اننگز میں 341 رنز بنائے تھے جس میں کپتان مشتاق محمد کی شاندار سنچری شامل تھی۔ ماجد خان نے بھی اچھے کھیل کا مظاہرہ کیا تھا۔ پاکستان کی بائولنگ عمران خان، سرفراز نواز، اقبال قاسم ، مشتاق محمد اور وسیم راجہ پر مشتمل تھی۔ پاکستان نے پہلی اننگز میں تباہ کن بائولنگ کرائی اور ونڈیز کو صرف 152رنز پر آئوٹ کردیا۔ اس میچ میں مشتاق محمد کامیاب ترین بائولر رہے تھے۔ مشتاق محمد اس میچ میں مین آف دی میچ بھی قرار پائے ۔ انہوںنے ناصرف بیٹنگ میں زبردست کارکردگی کا مظاہرہ کیا بلکہ اچھی بائولنگ بھی کرائی۔

ویسٹ انڈیز کی سرزمین پر پاکسان کی ٹیم کے حوالے سے ایک ناخوشگوار واقعہ بھی پیش آیا تھا۔یہ1993 کی بات ہے جب پاکستان سیریز کھیلنے ویسٹ انڈیز کے دورے پر گئی ہوئی تھی۔ اور گرینیڈا کے ساحل سمندر پر پاکستانی کھلاڑی عاقت جاوید ، وسیم اکرم ، وقار یونس اور مشتاق احمد کو پولیس نے منشیات کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا۔ لیکن ثبوت نہ ہونے پر ضمانت پر رہا کردیاگیا۔ اس سیریز میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم دو صفر سے فاتح رہی تھی۔

سب سے اہم بات ویسٹ انڈیز کے کرکٹ سٹیڈیمز کی خوبصورتی ہے ۔ یہ سٹیڈیمز جہاں ناصرف خوبصورت قدرتی مناظر کے درمیان بنائے گئے ہیں وہاں ساحل سمندر بھی بہت خوبصورت ہیں۔ ڈیرن سیمی کرکٹ سٹیڈیم ویسٹ انڈیزکے انتہائی خوبصورت سٹیڈیمز میں سے ایک ہے اور یہ خوبصورت پہاڑیوں کے سنگم پر واقع ہے ۔ پہاڑی سلسلوں میں موجود گھر ، ساحل سمندر اور سبزہ اسے دنیا کے دوسرے ممالک سے ممتاز کرتا ہے ۔

تحریر: طیب رضا عابدی