نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کوروناکانیا ویرینٹ اومی کرون 40ممالک میں پہنچ گیا،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- اومی کرون سےابھی تک کوئی ہلاکت نہیں ہوئی،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- لوگ نئے ویرینٹ سے گھبرائیں نہیں،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- شہری پہلےسےثابت شدہ حفاظتی اقدامات پرعمل کریں،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- بچاؤکےلیےزیادہ سےزیادہ لوگوں کوویکسین لگائی جائے ،عالمی ادارہ صحت
  • بریکنگ :- ویکسین کواپ گریڈکرنےسےمتعلق ابھی کچھ کہہ نہیں سکتے،عالمی ادار صحت
  • بریکنگ :- نئے ویرینٹ کےخلاف بھی پہلےسےموجودویکسین کااستعمال جاری رکھاجائے،عالمی ادارہ صحت
Coronavirus Updates

تازہ اسپیشل فیچر

پنجاب:ہر شہر میں آٹے کی مختلف قیمتیں،انتظامی امورپر سوالیہ نشان

پاکستان

لاہور:(دنیا نیوز)پنجاب کے ہر شہر میں آٹے کی مختلف قیمتوں نے انتظامی امور پر سوالیہ نشان کھڑے کردیئےہیں،20 کلو آٹے کا تھیلا لاہور میں 1100 ،گوجرانوالہ میں 1300 جبکہ ملتان اور فیصل آباد میں 1400 روپے تک پہنچ گیا ،شہریوں نے قیمت کنٹرول نہ ہونے کو حکومت کی ناکامی قرار دیدیا۔

ذرائع کے مطابق پنجاب میں انتظامی نااہلی سے آٹے کی یکساں قیمتوں پر عمل درآمد نہ ہوسکا ،مختلف شہروں میں دکاندار آٹے کی من پسند قیمتیں وصول کرنے لگے جبکہ پرائس کنٹرول اتھارٹی اور گندم کا ایک جیساکوٹہ جاری کرنے کی پالیسی بھی ناکامی سےدوچار نظر آنے لگی

ذرائع کا کہنا ہے کہ صوبے بھر کی فلور ملز کو یومیہ 19ہزار میٹرک ٹن گندم کا اجرا ہونے کے باوجود بھی قیمتیں ایک جیسی نہیں ہوسکیں،لاہور میں 20کلو آٹے کے تھیلے کی قیمت 1100 ،راولپنڈی میں1160 روپے ہے جبکہ گوجرانوالہ میں آٹے کا تھیلہ 1300 جبکہ فیصل آباد اور ملتان میں 1400 روپےمیں فروخت ہورہا ہے، شہریوں نےبڑھتی قیمتوں کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیدیا ہے۔

 آٹے کی یکساں قیمت نہ ہوناکس کی کوتاہی ہے؟اہم ترین پرمعاملے پر حکومت کی جانب سے نوٹس کیوں نہ لیا گیا؟ معاملے میں غفلت کہاں برتی گئی،حکومتی خاموشی سے کئی سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب جنوبی پنجاب میں آٹے کی ڈیمانڈ اور سپلائی کو جواز بنا کر قیمتیں بڑھانے کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے گیارہ اضلاع میں ہی آٹے کی قیمت مختلف ہونے پر شہریوں نے حکومت سے نوٹس لینے کا مطالبہ کردیا ہے۔

 ذرائع کے مطابق ملتان سمیت جنوبی پنجاب کے مختلف اضلاع میں یوٹیلیٹی سٹورز پر آٹا گزشتہ کئی روز سے دستیاب نہیں جبکہ عام مارکیٹ میں بھی حکومتی نرخوں پر فراہم کردہ آٹا نایاب ہے جس کی وجہ سے شہریوں کی اکثریت دکانوں سے ہی اٹھائیس سو سے بتیس روپے من کے حساب سے آٹا خریدنے پر مجبور ہو گئی ہے جس کا شہریوں نے حکومت سے نوٹس لینے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔

ضلعی انتظامیہ کاموقف ہے کہ چالیس فلو ر ملز کو روزانہ کی بنیاد پر سات سو پچاس ٹن گندم کا کوٹہ فراہم کر کے ایک ہزار سستے آٹے کی دکانیں بنا دی ہیں لیکن اسکے باوجود قیمتوں میں خودساختہ اضافہ زیادتی ہے جس پر سپیشل برانچ کی مدد سے ناجائز منافع خوروں کیخلاف مقدمات کے اندراج کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔۔

حکومت نے رورل ایریاز کا کوٹہ بند کر کے صرف اربن ایریا کو کوٹہ فراہم کرنا شروع کر دیا ہے اور موجودہ صورتحال میں عام مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت پچیس سو روپے تک پہنچ چکی ہے جس کی وجہ سے فلور ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے گندم کا کوٹہ بڑھانے کا بھی مطالبہ کیا ہے۔