نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- پشاورزلمی کا کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 198 رنز کاہدف
  • بریکنگ :- پشاورزلمی نےمقررہ اوورزمیں 5وکٹوں پر 197 رنزبنائے
  • بریکنگ :- ابوظہبی:ڈیوڈملر 73 رنزبناکرنمایاں رہے
  • بریکنگ :- کامران اکمل 59 ،ردرفورڈ 10 رنزبناکرآؤٹ ہوئے
  • بریکنگ :- روومین پاول 43 رنزبناکرناٹ آؤٹ رہے
  • بریکنگ :- ابوظہبی:محمدنوازنے 2 کھلاڑیوں کوآؤٹ کیا
  • بریکنگ :- محمدحسنین اورخرم شہزادکی ایک،ایک وکٹ
Coronavirus Updates

سعودی جیلوں میں موجود 1100 پاکستانی قیدیوں کی جلد واپسی ہوگی ، شیخ رشید

سعودی جیلوں میں موجود 1100 پاکستانی قیدیوں کی جلد واپسی ہوگی ، شیخ رشید

دنیا اخبار

کام مکمل ہو چکا،سنگین جرائم میں ملوث قید یوں کی واپسی کیلئے بھی تیار ہیں ، یہ کیسز علیحدہ ڈیل ہونگے 700قیدیوں پرجرمانے ہیں ،ایک ارب روپے مل جائیں تو یہ سب رہا ہو سکتے ہیں:سعودی اخبار کو انٹرویو

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں )وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورے میں ہونے والے معاہدوں کے بعد سعودی عرب کی جیلوں میں موجود 1100 قیدیوں کی جلد پاکستان واپسی ہوگی۔ جدہ میں سعودی اخبار سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سنگین جرائم میں قید پاکستانیوں کی واپسی کیلئے بھی تیار ہیں، سنگین کیسز کو علیحدہ سے ڈیل کیا جائے گا، انہوں نے کہا کہ ایک ارب روپے کی امداد مل جائے تو چھوٹے جرمانوں کی وجہ سے سعودی جیلوں میں موجود سینکڑوں مزید قیدیوں کو بھی رہائی دلا سکتے ہیں، شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کے دورہ سعودی عرب کے دوران ہونے والے معاہدوں کے بعد وہاں موجود گیارہ سو قیدیوں کو پاکستان لے کر جا رہے ہیں، یہ قیدی اپنی سزا کا بڑا حصہ کاٹ چکے ہیں اورتھوڑی قید رہ گئی ہے ،سعودی جیلوں میں وہ پاکستانی قیدی جو سنگین جرائم میں ملوث نہیں ہیں انہیں ہم لے جانے کیلئے تیار ہیں، اس سوال پر کہ قیدیوں کی پاکستان منتقلی کب تک مکمل ہوگی وزیر داخلہ نے کہا کہ سمجھ لیں یہ سارا پراسیس مکمل ہو گیا ہے ،جتنی جلد ممکن ہوسکے گا یہ کام کیا جائے گا،گیارہ سو قیدی ایسے ہیں جنہیں ہم نے منتقل کرنا ہے اور کوئی پیسے نہیں دینے ،انہوں نے بتایا کہ سعودی عرب کی جیلوں میں چھ سو سے سات سو قیدی ایسے ہیں جن پر جرمانے ہیں ان کی رقم ایک ارب روپے بنتی ہے میں نے وزیراعظم سے کہا ہے کہ یہ رقم مل جائے تو یہ سب قیدی بھی چھوٹ سکتے ہیں۔وفاقی وزیر داخلہ کے بقول سعودی عرب کی جیلوں میں جو پاکستانی قید ہیں ان کی پاکستان میں فیملیز ہیں انہیں پاکستان کی جیلوں میں منتقل کرنے سے وہ ان کی دیکھ بھال کرسکیں گی جبکہ انہیں یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement