نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ کراچی رجسٹری،نسلہ ٹاورکیس کی سماعت
  • بریکنگ :- کراچی پرکینیڈاسےحکمرانی کی جارہی ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- یونس میمن سندھ کااصل حکمران ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- ایڈووکیٹ جنرل صاحب ہم آپ سےبات کررہےہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- آپ لوگ نالےصاف نہیں کرسکتے،صوبہ کیسےچلائیں گے؟چیف جسٹس
  • بریکنگ :- کراچی: یہاں گورننس نام کی چیز نہیں ہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- آپ لوگوں نےسروس روڈپربلڈنگ تعمیرکردی،جسٹس اعجازالاحسن
  • بریکنگ :- کراچی:پل کی تعمیرکےوقت سڑک کاسائزکم کیاگیاتھا،وکیل بلڈر
  • بریکنگ :- کراچی:شاہراہ فیصل کاسائزکبھی کم نہیں ہوا،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- آپ نےدونوں اطراف سےسڑک پرقبضہ کیاہے،چیف جسٹس گلزاراحمد
  • بریکنگ :- پتہ نہیں یہاں کیاہورہاہے؟ مسلسل قبضےکیےجارہےہیں،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- کمشنرکی رپورٹ موجودہے،نسلہ ٹاورمیں غیرقانونی تعمیرات شامل ہیں،عدالت
  • بریکنگ :- اب بھی دھنداچل رہاہے،ایس بی سی اےکاکام چل رہاہے،چیف جسٹس
  • بریکنگ :- کراچی:نسلہ ٹاورسےمتعلق کیس کی سماعت 16 جون تک ملتوی
  • بریکنگ :- نسلہ ٹاورکےوکلاسےکمشنرکراچی کی رپورٹ پرجواب طلب
Coronavirus Updates

لکھو ڈیرمیں سسرالیوں کے تشدد سے 18سالہ لڑکی جاں بحق

لکھو ڈیرمیں سسرالیوں کے تشدد سے 18سالہ لڑکی جاں بحق

دنیا اخبار

زینب کو باندھ کر تشدد کیا گیا:والد،ملزم غلام عباس اور شکیلہ بی بی گرفتار

لاہور (خبر نگار سے )لکھو ڈیر کے علاقہ میں سسرالیوں نے ظلم کی انتہا کر دی ، 18سالہ لڑکی کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا ۔ پولیس نے لاش پوسٹ مارٹم کیلئے مردہ خانے منتقل کر دی۔ تفصیلات کے مطابق باٹا پور کے علاقے لکھو ڈیر میں سسرالیوں نے 18سالہ زینب کو تشدد کا نشانہ بنا کر موت کی نیند سلا دیا ۔ لڑکی کی والد کا کہنا ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کی شادی اپنے سگے بھائی کے گھر کی تھی ۔ ملزم غلام عباس اور اس کی والدہ بے انتہاتشدد کرتے تھے ، گزشتہ روز ملزمان نے رسیوں سے باندھ کر زنیب کو تشدد کا نشانہ بنایا جس سے اس کی موت واقع ہو گئی ۔ اطلاع ملنے پر پولیس موقع پر پہنچ گئی ،پولیس نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرکے لاش کو مردہ خانے منتقل کر دیا ۔واقعہ کا مقدمہ مقتولہ زینب کے والد کی مدعیت میں شوہر غلام عباس اور ساس شکیلہ بی بی کے خلاف درج کرلیا گیا ۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے ،تفتیش جاری ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement