نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکےمزید 3582 کیس رپورٹ،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کورونامریضوں کی تعداد 10 لاکھ 43 ہزار 277 ہوگئی
  • بریکنگ :- ملک میں کوروناکےایکٹوکیسزکی تعداد 75 ہزار 373 ہے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں 24 گھنٹےکےدوران کوروناسےمزید 67 اموات
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں کوروناسےجاں بحق افرادکی تعداد 23 ہزار 529 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےمیں کوروناکے 1355 مریض صحت یاب،این سی اوسی
  • بریکنگ :- کوروناسےصحت یاب افرادکی مجموعی تعداد 9 لاکھ 44 ہزار 375 ہوگئی
  • بریکنگ :- 24 گھنٹےکےدوران 49 ہزار 798 کوروناٹیسٹ کیےگئے
  • بریکنگ :- ملک بھرمیں ایک کروڑ 61 لاکھ 58 ہزار 330 کوروناٹیسٹ کیےجاچکے
  • بریکنگ :- کوروناسےمتاثر 3398 مریضوں کی حالت تشویشناک،این سی اوسی
  • بریکنگ :- پنجاب 3 لاکھ 58 ہزار 387،سندھ میں 3 لاکھ 87 ہزار 261 کیسز
  • بریکنگ :- خیبرپختونخواایک لاکھ 45 ہزار 306،بلوچستان میں 30 ہزار 627 کیس رپورٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد 88 ہزار 344،گلگت بلتستان میں 8 ہزار 318 کیسز
  • بریکنگ :- آزادکشمیرمیں کورونامریضوں کی تعداد 25 ہزار 34 ہوگئی،این سی اوسی
  • بریکنگ :- ملک میں کورونامثبت کیسزکی شرح 7.19 فیصدرہی،این سی اوسی
Coronavirus Updates

حج : باہر سے کسی کو آنیکی اجازت نہیں ، کورونا کی صورتحال کے باعث اس سال بھی صرف سعودی عرب میں مقیم 60 ہزار عازمین مذہبی فریضہ ادا کرسکیں گے : پالیسی کا اعلان

حج : باہر سے کسی کو آنیکی اجازت نہیں ، کورونا کی صورتحال کے باعث اس سال بھی صرف سعودی عرب میں مقیم 60 ہزار عازمین مذہبی فریضہ ادا کرسکیں گے : پالیسی کا اعلان

دنیا اخبار

18تا65سال عمر کے افراد فریضہ ادا کرسکیں گے ، عازمین کیلئے کسی مستقل بیماری میں مبتلانہ ہوناضروری، درخواستیں آن لائن جمع ہوں گی،سعودی وزارت حج کا اعلامیہ شہزادہ فیصل کا شاہ محمود کو فون،چیلنجز،پالیسی سے آگاہ کیا،صورتحال کی نزاکت کا بخوبی علم، فیصلوں پر اعتماد ہے :پاکستان،سعودی سالمیت کے حوالے سے حمایت کی یقین دہانی

ریاض،اسلام آباد(خصوصی نیوز رپورٹر،سٹی رپورٹر، دنیا نیوز،نیوز ایجنسیاں،مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستانی اس سال بھی فریضہ حج ادا نہیں کرسکیں گے ، صرف سعودی شہری اور سعودی عرب میں مقیم غیرملکیوں کو حج کی اجازت ہوگی،سعودی وزارت حج و عمرہ کی جانب سے حج پالیسی 2021 کا اعلان کر دیا گیا،اعلامیہ کے مطابق سعودی عرب میں مقیم غیرملکی، سعودی شہری فریضہ حج ادا کرسکیں گے ، باہر سے کسی کو آ نے کی اجازت نہیں ہوگی،عازمین کیلئے ایس او پیز پر عملدرآمد لازمی قرار دیا گیاہے ،18 سال سے کم اور 65 سال سے زائد عمر کے افراد کو اجازت نہیں دی جائے گی،سعودی پریس ایجنسی کے مطابق وزارت نے کہا ہے کہ سال رواں کے حج میں صرف 60 ہزار شہریوں اور مقیم غیر ملکیوں کو فریضہ کی ادائیگی کی اجازت ہوگی،18سے 65 سال کی عمر کے ان عازمین کو حج کی اجازت ہوگی جنہوں نے کورونا ویکسین لگوا رکھی ہے ،وزارت حج و عمرہ تاکید کرتی ہے کہ سعودی حکومت کے نزدیک عازمین حج کی سلامتی اولین ترجیح ہے ، انسانی جانوں کی سلامتی کا تحفظ اسلامی شریعت کا بھی اولین اصول ہے ،عالمی وبا کے باعث مشاعر مقدسہ میں بڑی بھیڑ لگانا اور ان میں سلامتی کے اصولوں کا انطباق کرنا انتہائی مشکل کام ہے ،لہذا تمام تر صورتحال اور خدشات کا جائزہ لینے کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ امسال بھی اس فریضے کی ادائیگی کو محدود کیا جائے گا،دنیا بھر میں کورونا وائرس کی صورتحال اور وائرس کی ابھرتی ہوئی نئی اقسام کو دیکھتے ہوئے حجاج کی تعداد کو محدود کیا گیا ہے ،یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ اندرون ملک سے حج کے خواہشمند آن لائن طریقہ سے حج کی درخواست جمع کرائیں گے ،حج کی درخواستیں جمع کرانے کے لئے الیکٹرانک طریقہ کار آئندہ دنوں میں جاری کیا جائے گا،وزارت حج نے کہا امسال حج کیلئے جن ضوابط کا اعلان کیا جارہا ہے ان کے مطابق ضروری ہے کہ حج کے خواہشمند سعودی شہری ہوں یا سعودی عرب میں مقیم کسی بھی ملک سے تعلق رکھنے والے ہوں،خواہشمند صحت مند اور توانا ہو، کسی بھی قسم کی مستقل بیماریوں میں مبتلا نہ ہو،خواہشمند کی عمر 18 سے 65 سال کے درمیان ہو اور کورونا ویکسین لگوا چکا ہو، توکلنا ایپ میں اس کا سٹیٹس دو خوراکیں، ایک خوارک کو 14 دن ہوگئے یا وائرس کا شکار ہونے کے بعد ویکسین لگوانے والا ظاہر ہو رہا ہو،وزارت نے کہا ہے کہ حج کے لئے مذکورہ ضابطوں کی پابندی خود عازمین حج کی سلامتی اور ان کے اپنے ملکوں کے تحفظ کے لئے ہے ،رواں سال حج کے ضابطے اور مزید تفصیلات کے لئے وزارت حج کے صدر دفتر میں آج پریس کانفرنس منعقد ہوگی۔خیال رہے کورونا وائرس کی وبا کے باعث سعودی حکومت نے گزشتہ برس حج کو محدود رکھا تھا اور اس میں صرف 10 ہزار عازمین ہی شریک ہوئے تھے جو مملکت میں مقیم تھے ۔اس وبا سے قبل سالانہ 25 لاکھ افراد حج کے مقدس فریضے کی ادائیگی کیلئے مکہ اور مدینہ کا رخ کرتے تھے جبکہ پورا سال عمرے کی ادائیگی بھی جاری رہتی تھی جس کی بدولت سعودی عرب کی معیشت کو سالانہ 12 ارب ڈالر کا فائدہ ہوتا تھا۔دریں اثنا سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو ٹیلی فون کر کے رواں سال جج کے انعقاد پر درپیش چیلنجز،عوام کے وسیع تر مفاد میں کیے جانے والے اقدامات اور پالیسی سے آگاہ کیا،ترجمان دفتر خارجہ کے آفس سے جاری بیان کے مطابق دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دیرینہ اور گہرے تعلقات کے حوالے سے اپنے عزم کا اعادہ کیا،شاہ محمود قریشی نے کہا ہمیں صورت حال کی نزاکت کا بخوبی علم ہے اور ہمیں سعودی قیادت کی جانب سے مفاد عامہ میں کیے گئے فیصلوں پر مکمل اعتماد ہے ، وزیراعظم عمران خان نے حال ہی میں سعودی عرب کا کامیاب دورہ کیا،وزیراعظم کے دورے میں کیے گئے فیصلوں پر موثر عملدرآمد کیلئے ملکر کام کرنے کی ضرورت ہے ،دونوں وزرائے خارجہ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا،شاہ محمود نے سعودی عرب کی سالمیت کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کا یقین دلایا،علاوہ ازیں وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے بین المذاہب ہم آہنگی اور مشرق وسطیٰ مولانا طاہراشرفی نے اپنے ایک بیان میں کہا حج سے متعلق سعودی حکومت کا فیصلہ قابل تحسین ہے ، سعودی عرب میں مقیم سعودی اورغیر ملکی افراد اس سال حج کرسکیں گے ،سعودی عرب نے کورونا اورعالمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا ہے ،حج سے متعلق سعودی عرب کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement