نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- منامہ:وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا بحرین میں مقیم پاکستانی کمیونٹی سے خطاب
  • بریکنگ :- بیرون ملک مقیم پاکستانی دنیا بھر میں پاکستان کے نمائندے ہیں ،شاہ محمود قریشی
  • بریکنگ :- حکومت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو قیمتی اثاثہ سمجھتی ہے،شاہ محمود قریشی
  • بریکنگ :- منامہ:کورونا وبا کی وجہ سے لوگ بیروزگار ہوئے،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- منامہ:معاشی سفارتکاری ہمارا اولین مقصد ہونا چاہیے،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- معاشی استحکام کے بغیر خارجہ پالیسی کے اہداف حاصل نہیں کیے جا سکتے،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- تحریک انصاف کیلئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں نے تاریخی کردار ادا کیا،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- حکومت اوور سیز پاکستانیوں کیلئے متعدد اقدامات کر رہی ہے،شاہ محمود قریشی
  • بریکنگ :- منامہ:پاکستان کا مستقبل روشن ہے،وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں کو الیکٹرانک ووٹنگ کےذریعےووٹنگ کا حق دینا چاہتے ہیں،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات کےخاتمے کیلئے وزیراعظم سٹیزن پورٹل بنایا،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- پاکستان کی دفاعی صلاحیت کی بدولت بیرونی خطرہ نہیں ہے،شاہ محمود قریشی
  • بریکنگ :- بھارت سمیت خطےکےتمام ممالک سےپرامن تعلقات چاہتے ہیں،وزیر خارجہ
  • بریکنگ :- آر ایس ایس کا نظریہ خطے میں امن کی راہ میں رکاوٹ ہے،شاہ محمود قریشی
  • بریکنگ :- وزیر اعظم کی مشاورت سےخارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلی کر دی ہے،وزیر خارجہ
Coronavirus Updates

کوروناکی نئی لہرکے اثرات کادورانیہ مختصرہوگا:اے ڈی بی

کوروناکی نئی لہرکے اثرات  کادورانیہ مختصرہوگا:اے ڈی بی

دنیا اخبار

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے سال 2021 کے دوران ایشیائی ممالک میں کورونا کی وبا کے معاشی ترقی پر منفی اثرات کی نشاندہی کی ہے

اسلام آباد(خبر نگار خصو صی ) اے ڈی بی نے پاکستان اور بھارت سمیت ایشیائی ممالک میں مارچ سے جون تک معاشی ترقی کے امکانات کو 9.1 فیصد سے کم کرکے 8.9 فیصد تک ڈائون گریڈ کردیا ہے جبکہ 2022 میں معاشی ترقی کی شرح 6.6 فیصد سے بہتر کرکے 7 فیصد ہونے کی پیشگوئی کی ہے ۔ چین کی معاشی ترقی کی شرح 2021 میں 8.1 فیصد اور 2022 میں 5.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔ بھارت میں معاشی ترقی کی شرح اس سال 10 فیصد اور 2022 کے دوران 7.5 فیصد رہنے کی پیشگوئی کی گئی ہے ۔ اے ڈی بی کے مطابق 2021 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 2.1 فیصد کے ہدف کے مقابلے میں 3.9 فیصد رہی جس کی بنیادی وجہ کورونا کی وبا پر کسی حد تک کنٹرول ہے کیونکہ اس سے صنعتی پیداوار اور خدمات کے شعبے کی بحالی ہوئی ہے جبکہ سمندر پار پاکستانیوں کی ترسیلات زر نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔ اے ڈی بی نے توقع ظاہر کی ہے کہ کورونا کی نئی لہر کے منفی اثرات کا دورانیہ مختصر ہوگا کیونکہ نئی لہر پر قابو پانے کیلئے حکومتوں کو مالی وسائل نسبتاً کم خرچ کرنا پڑیں گے ۔ اے ڈی بی کے مطابق عالمی منڈی میں اجناس، دھاتوں اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کے باعث پاکستان میں مہنگائی کی شرح مالی سال 2020-21 کے 11 ماہ کے دوران 8.8 فیصد رہی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement