نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- واشنگٹن:وفاقی دفاتر آنےوالے مہمانوں کےلیے بھی ماسک لازمی قرار
  • بریکنگ :- وفاقی ملازمین ویکسین لگوائیں یا باقاعدگی سے کوویڈ ٹیسٹنگ کیلئے تیاررہیں،بائیڈن
  • بریکنگ :- واشنگٹن:کورونا کا خطرہ،صدر بائیڈن کا تمام وفاقی ملازمین کو ماسک پہننے کا حکم
Coronavirus Updates

افغانستان پر نئی ہائبرڈ جنگ مسلط کرنے کی تیاری

 افغانستان پر نئی ہائبرڈ جنگ مسلط کرنے کی تیاری

دنیا اخبار

امریکی کمانڈر جنرل کا کچھ وقت افغانستان رہنے سے لگتا ہے دال میں کچھ کالا ، امریکہ شام کی طرز پر کارروائیوں کا ارادہ رکھتا مقامی فورسز کو استعمال کرے گا

(تجزیہ: سلمان غنی) افغانستان میں امن علاقائی ہی نہیں عالمی ضرورت بنتا جا رہا ہے ۔ دنیا کی تمام اہم قوتیں کابل میں امن کو وقت کی بہترین ضرورت تو قرار دیتی نظر آ رہی ہیں مگر عملاً کوئی اس کیلئے کتنا متحرک ہے فی الحال اس کا کوئی جواب نہیں۔ البتہ امن سے زیادہ خانہ جنگی اور انارکی کے خدشات بڑھتے جا رہے ہیں۔افغانوں کا المیہ یہ ہے کہ وہ جب کسی سے نہیں لڑتے تو پھر خود لڑنا شروع کر دیتے ہیں اور اب بھی افغانستان کے حقائق یہی ہیں کہ وہاں ایک نئی جنگ کا آغاز ہو چکا ۔ کابل ان کے انتظار میں ہے مگر انہیں کوئی جلدی نظر نہیں آ رہی عجلت میں خود اشرف غنی اور ان کی انتظامیہ سے بوکھلاہٹ اس پر طاری ہے ’ ہاتھ پاؤں مارے جا رہے ہیں اور اب افغانستان میں ایک نئی ہائبرڈ جنگ مسلط کی جا رہی ہے جس کے اثرات خطے میں محسوس ہو رہے ہیں۔ افعان سفیر کی بیٹی کے مبینہ اغوا کے حوالہ سے ڈرامہ کی گتھیاں بھی آہستہ آہستہ سلجھ رہی ہیں۔ یہ واقعہ بھی اس ہائبرڈ جنگ کا ہی سلسلہ ہے ۔ اس سے قبل داسو ڈیم کی تعمیر میں شریک چینی انجینئرز کی گاڑی پر حملہ بھی اسی مہم جوئی کاحصہ ہے مگر میدان جنگ پاکستان نہیں افغانستان ہے مگر افغانستان میں نہ انتظامیہ کی رٹ ہے اور نہ اربوں ڈالرز کی مدد سے تربیت یافتہ افغان فورسز کی کوئی دھاک ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ امریکی انخلا کے باوجود افغانستان میں متعین امریکی کمانڈر جنرل آسٹن کو کچھ وقت کیلئے یہاں رہنے کو کہا گیا ہے جس سے لگتا ہے کہ ابھی دال میں کچھ کالا ہے ۔ امریکہ راہ فرار کرتے ہوئے بھی اپنی شکست کے داغ دھونا چاہتا ہے ۔امریکہ’ شام کی طرز پر کارروائیوں کا ارادہ رکھتاہے اس کیلئے مقامی فورسز کا استعمال بروئے کار لانا چاہتا ہے جو ان کے ساتھ کام کرتی رہی ہیں اس کی سوچ اور اپروچ سے ظاہر ہو رہا ہے کہ اس نے اپنی ذلت آمیز شکست سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔ لیکن جب افغانستان پر نظر دوڑائی جاتی ہے تو جن طالبان کو ہدف بنانے کا ارادہ ہے جن سے شکست کا بدلہ لینے کیلئے بعض طاقتیں مصر ہیں وہ تو اپنی جارحانہ سفارتکاری کے ذریعے خطہ کے ممالک کو یہ یقین دلاتے نظر آ رہے ہیں کہ وہ مل کر چلنا چاہتے ہیں۔ افغان صدر اشرف غنی کی اچھل کود سے لگتا ہے کہ و ہ ا مریکہ کی اس ہائبرڈ جنگ میں پھر سے کامیابی پر یقین رکھتے ہیں مگر خطہ کی دوسری بڑی حقیقت یہ ہے کہ افغانستان شام نہیں یہاں مزاحمت کا جذبہ افغانوں کی گھٹی میں رچسا بسا ہوا ہے اگر 31اگست کے بعد طالبان نے خود افغان فورسز میں نقب لگا دی اور خود اشرف غنی سرکار کے کار پرداز خود ہی سرنڈر کرتے نظر آئے تو پھر کوئی اور مذموم منصوبہ یہاں کارگر ہو سکے گا اس کا جواب مشکل نہیں۔ اس صورتحال میں سب سے اہم بات خود پاکستان کا کردار ہوگا اور اگر وزیراعظم عمران خان اپنے اس عزم پر کاربند رہتے ہیں کہ ہم کسی بیرونی جنگ میں اپنا کاندھا فراہم نہیں کریں گے تو پھر کوئی نئی سازس اور کوئی نیاا یجنڈا افغانستان میں کارگر نہیں ہوگا اور امریکہ جس نئی ہائبرڈ جنگ کی پلاننگ کئے ہوئے ہے وہ بھی چلتی نظر نہیں آئے گی۔پاکستان کیلئے بھی بڑا سبق یہی ہے کہ ہم اپنے مفادات کو ترجیح دیں اور سات سمندر پار کے کسی کھیل کا حصہ بننے کے بجائے علاقائی فورسز پر اعتماد کریں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement