نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مہنگائی اور غربت سے عوام تنگ آچکےہیں ،خواجہ آصف
  • بریکنگ :- حکومت کابسترکسی بھی وقت گول ہوسکتاہے،خواجہ آصف
  • بریکنگ :- راولپنڈی:انتخابات کسی بھی وقت ہوسکتےہیں،خواجہ آصف
  • بریکنگ :- ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیداکرناہوگا،رہنما (ن) لیگ خواجہ آصف
  • بریکنگ :- راولپنڈی:جھگڑے کارکنوں کے نہیں قیادتوں کےہیں ،خواجہ آصف
Coronavirus Updates

آزاد کشمیر انتخابات : اپنی حکومتی کارکردگی بتاتے، جو ہوا اسکا بروقت سدباب کرتے : شہباز شریف

آزاد کشمیر انتخابات : اپنی حکومتی کارکردگی بتاتے، جو ہوا اسکا بروقت سدباب کرتے : شہباز شریف

دنیا اخبار

الیکشن میں منی لانڈرنگ کا پیسہ استعمال ہوا، نتائج مسترد، تحریک چلے گی : عباسی، احسن اقبال، فاروق حیدر ، فوج جانوں کے نذرانے پیش کر رہی ،ہمیں حساب برابر کرنے سے فرصت نہیں ،5لاکھ ووٹ لینے والی جماعت کی 6نشستیں ، بڑا سوالیہ نشان ؟ دنیا نیوز سے گفتگو

لاہور (سلمان غنی) مسلم لیگ ن کے صدر واپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ آزاد کشمیر الیکشن میں ہم اپنی حکومتی کارکردگی بتاتے ، جوبھی ہوا اسکا بروقت سدباب کرتے ،حکومتیں مینجمنٹ کے ذریعے بن تو سکتی ہیں مگر چل نہیں سکتیں۔ عوامی مینڈیٹ کی حامل حکومتیں ہی ڈیلیور کرتی ہیں کیونکہ ان کی جڑیں عوام میں ہوتی ہیں اور ان پر مسائل زدہ عوام کا دباؤ ہوتا ہے ۔ آزاد کشمیر کے انتخابات میں کیا ہوا، کیونکر ہوا، ڈھکا چھپا نہیں مگر اس کا سدباب تو ہمیں بروقت کرنا چاہیے تھا۔ ہمارے پاس اپنی حکومتی کارکردگی بتانے کیلئے بہت کچھ تھا، وہ بھی بتائی جاتی ۔انہوں نے کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ ان انتخابات کی ٹائمنگ اہم تھی اور ایک ایسے وقت میں جب ہندوستان نے آرٹیکل 370 کے تحت مقبوضہ کشمیر پر اپنا تسلط قائم کرنے کی کوشش کی، ضرورت اس امر کی تھی کہ یہاں سے ایسا پیغام جاتا کہ کشمیریوں کو حوصلہ ملتا اور ہندوستان دباؤ میں آتا اور اسے پتہ چلتا کہ پاکستانی عوام کشمیریوں کی پشت پر کھڑے ہیں اور انہیں حالات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتے ، میں سمجھتا ہوں کہ ہم نے اس حوالے سے قومی ذمہ داریاں پوری نہیں کیں۔ دنیا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہمیں آگے بڑھنے کیلئے ذاتیات سے اوپر اٹھنا ہوگا اس لیے کہ ملک کو اندرونی و بیرونی محاذ پر بہت سے چیلنجز در پیش ہیں ۔ان سے نمٹنے کے لیے کسی ایک جماعت پر انحصار نہیں ہو سکتا۔ آج سیاسی قوتوں اور ریاستی اداروں کے درمیان ایک قومی مفاہمت کی ضرورت ہے ۔ ہمارا دشمن ہماری جانب منہ کھولے کھڑا ہے ، اس کے عزائم ڈھکے چھپے نہیں، دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے ہمارے فوجی جوان پاک سر زمین کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرتے نظر آ رہے ہیں لیکن ہمیں آپس میں حساب برابر کرنے سے فرصت نہیں مل رہی، یہ رجحان ملک و قوم کے لیے پریشان کن ہے ۔ شہباز شریف نے کہا کہ قومی سلامتی اور پاکستان کا عزت و وقار سیاست سے بالاتر ہے ۔ بدقسمتی سے ہم نوشتہ دیوار نہیں پڑھ رہے اور ہمیں اس کا احساس نہیں۔ انہوں نے کہا کہ قومی دفاع کسی ایک ادارے کی ذمہ داری نہیں یہ بحیثیت مجموعی سب کا فرض ہے ۔ جب دشمن ہماری سلامتی کے در پے ہو اور ملک میں انتشار، خلفشار کی صورتحال طاری ہو تو پھر ذمہ داری کا تعین ہونا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت جوابدہی کے عمل اور قومی و عوامی مسائل کے قتل کا نام ہے مگر کیا وجہ ہے کہ ہمارے ہاں جمہوریت ہے مگر مسائل ہر آنے والے دن میں بڑھ رہے ہیں۔ معیشت ڈانواں ڈول ہے ، عوام پر ہر آنے والے دن میں عرصہ حیات تنگ نظر آ رہا ہے ۔ بے روزگاری کا سیلاب روکے نہیں رک پا رہا، گورننس نام کی کوئی چیز نہیں، رشوت اور چور بازاری میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے تو پھر اس کی کوئی نہ کوئی وجہ تو ہو گی۔ جمہوریت تو استحکام اور عوام کی زندگیوں میں اطمینان کا نام ہے لیکن کیا یہ حقیقت نہیں کہ آج ملک میں سیاسی استحکام ہے اور نہ معاشی استحکام۔غریب آدمی کا چولہا ٹھنڈا نظر آ رہا ہے ۔ اسے دو وقت کی روٹی کے لالے پڑے ہیں۔ اس کے بچوں کا علاج نا ممکن ہے ، انہوں نے کہا کہ یہ وہ تبدیلی تھی جس کے دعوے کیے جا رہے تھے ۔ انہوں نے کہا کہ جب حکمرانوں کی موج مستیاں چل رہی ہوں اور عوام بھوک کے ہاتھوں خود کشیوں پر مجبور ہوں تو پھر حالات کسی کے کنٹرول میں نہیں رہتے ۔ ہر چیز کا مقابلہ انتظامی حکمت عملی سے ہو سکتا ہے مگر بھوک، ننگ اور غربت باہر نکل آئے تو کوئی اس کا راستہ نہیں روک سکتا۔ شہباز شریف نے آزاد کشمیر کے انتخابی نتائج پر کہا کہ انتخابی نتائج نے ہی انتخابی نتائج کی ساکھ پر سوال کھڑا کر دیا ۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ کشمیر کے عوام نواز شریف کے نام اور اس کی حکومتی کارکردگی پر پر جوش انداز میں جھومتے نظر آ رہے ہوں اور تمام تر حکومتی ہتھکنڈوں کے باوجود پانچ لاکھ سے زائد ووٹ لینے والی جماعت کی صرف چھ نشستیں ہوں، یہ سب سے بڑا سوالیہ نشان ہے جس نے کشمیر کے عوام کو پریشان کر رکھا ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ جب ووٹ کی طاقت کو تسلیم نہیں کیا جاتا اور وہ گننے میں نہیں آتا تو پھر جمہوریت مضبوط نہیں کمزور ہوتی ہے لیکن میں پھر بھی یہ سمجھتا ہوں کہ کشمیر آج کی صورتحال میں ہمارے لیے حساس ہے ۔ ہم کشمیر میں ایسی کسی صورتحال کو طاری کرنے کے حق میں نہیں کہ جس کے اثرات کنٹرول لائن کی دوسری جانب جائیں، جہاں بھارت جیسا غاصب معصوم اور نہتے کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیل رہا ہے ، ان کے گھر بار جلائے جا رہے ہیں، نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ افسوس اس امر کا ہے کہ جس شخص کو کشمیر کاز پر سب سے زیادہ ذمہ دار ہونا چاہیے ، اس کے طرز عمل اور بیانات سے یہ کاز متاثر ہو رہا ہے ، کشمیر کاز پر کنفیوژن پھیلانے کے عمل کے ہم متحمل نہیں ہو سکتے اور کشمیریوں کے مستقبل کے تعین کیلئے انہیں حق خود ارادیت دلانا خود اقوام متحدہ اور عالمی برادری کی ذمہ داری ہے اور ہم خود کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کا پابند سمجھتے ہیں۔ کشمیر ہمارے لیے کور ایشو تھا ہے اور رہے گا۔شہباز شریف نے ایک سوال پر کہا کہ جو ملک ایک سیاسی جدوجہد کے نتیجہ میں وجود میں آیا ہو، وہ اسی بنیاد پر چلے گا۔ ہمارے پاس آج بھی ایسی قیادت ہے جو اپنی ذات سے بالاتر ہو کر ملک کو آگے لے کر چل سکتی ہے مگر میں سمجھتا ہوں کہ آگے کی طرف چلناہے ، ترقی کی منزل پر پہنچنا ہے اور عوام میں خوشحالی لانی ہے تو پھر جماعتوں اور اداروں کے درمیان وسیع تر مفاہمت یقینی بنانا ہوگی۔ کسی ایسے لائحہ عمل پر آنا ہوگا جس میں قومی مفادات بھی یقینی بنیں اور پاکستان بھی سرخرو ہو۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ کاش سی پیک پر اسی سپرٹ میں کام ہوتا جس سپرٹ میں ہم اسے لے کر بڑھ رہے تھے تو آج ہم اس کے ثمرات سمیٹ رہے ہوتے ۔ یہ ایسا قومی منصوبہ ہے جس پر اس کی سپرٹ کے مطابق عمل درآمد کر کے ہم دفاعی خود مختاری کے بعد معاشی خود مختاری کی منزل پر پہنچ سکتے تھے مگر وہ رفتار قائم نہ رہ سکی۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کی صورتحال کا سیاسی حل ہی کارگر ہوگا، وہاں بے چینی یا خانہ جنگی کسی طرح بھی ہمارے مفاد میں نہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک خوش آئند عمل ہے کہ علاقائی قوتیں افغانستان میں امن چاہتی ہیں اور خصوصاً اس حوالے سے چین جیسے دوست کا کردار اہم ہے ۔ انہوں نے ایک اور سوال پر کہا کہ ہمیں کسی طور بھی بھارت جیسے دشمن سے غافل نہیں رہنا چاہیے وہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کے اپنے ایجنڈے پر سرگرم ہے اور اسی بنا پر ہمارے سکیورٹی اداروں کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے ۔ قومی دفاع اور پاک سر زمین کے تحفظ کے حوالے سے ہمارے دفاعی اداروں کی ایک روشن تاریخ ہے جس پر ہمیں ناز ہے ۔ ان کی قربانیاں رائیگاں جانے والی نہیں۔ شہباز شریف نے آنے والے انتخابات کے حوالے سے ایک سوال پر کہا کہ آج قومی ضرورت آزادانہ، غیرجانبدارانہ اور شفاف انتخابات کی ہے جو جمہوریت کی جان ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں آنے والے انتخابات سے پریشان ہونے کی ضرورت اس لیے نہیں کہ ہمیں اس حکومت کی اصلیت کا پتہ ہے ۔ تین سال تک برسر اقتدار رہنے والے اب تک کوئی ایک کارنامہ نہیں بتا سکتے ،جن کے تین سال میں عوام کی جھولی میں کچھ نہ پڑا ہو اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہو کیا وہ آنے والے وقت میں ڈیلیور کریں گے ؟ خواہشات تو ہو سکتی ہیں عملاً ایسا ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی خدمت کیلئے جذبہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کے اندر ہوتا ہے جسے بروئے کار لانا پڑتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ دوسروں کو چور، ڈاکو قرار دینے والے آج بتائیں کہ سارے مافیاز ان کی چھتری تلے نہیں بیٹھے ؟ کہاں گیا چینی مافیا؟ آٹا مافیا ادویات کا مافیا، پٹرولیم مافیا؟ سب کے سب حکومتی چھتری کے نیچے ہیں اور سب کو پشت پناہی حاصل ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ن لیگ کے پاس آج بھی ایک قابل عمل پروگرام اور قابل اعتماد لیڈر شپ ہے ۔ ہم آج بھی مہنگائی، بے روزگاری اور غربت کے آگے بند باندھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ ہمارے اندر عوام کا درد ہے اور ہماری تربیت یہی ہے کہ غریب کی خدمت کر کے ہی دنیا و آخرت سنواری جا سکتی ہے ۔ اس سر زمین کو قدرت نے وسائل سے مالا مال کر رکھا ہے ، مگر وسائل کو خرچ کرنے کی صلاحیت بھی ہونی چاہیے ۔ آج اگر ہم نے پاور پلانٹس نہ لگائے ہوتے اور بجلی کی پیداوار پوری نہ کر کے دی ہوتی تو اس درجہ حرارت اور حبس کی کیفیت میں عوام کا کیا حال ہوتا۔ انہوں نے ہنستے ہوئے کہا کہ بجلی کی پیداوار کے ذریعے ہم نے موسمی حبس کا تو بندوبست کر دیا تھا مگر سیاسی حبس کب ختم ہوگا اس کا انتظار کریں۔ خدا کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں، یہی چراغ جلیں گے تو روشنی ہو گی۔ مسلم لیگ (ن)نے آزاد کشمیر الیکشن میں پری پول دھاندلی کا الزام عائد کرتے ہوئے نتائج کو ماننے سے انکار کر دیا اور کہا کہ کشمیر الیکشن میں منی لانڈرنگ کا پیسہ استعمال ہوا ہے ۔ کشمیر میں جمہوریت ہار گئی لہذا دھاندلی کیخلاف تحریک چلائیں گے ۔سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی ، احسن اقبال اور وزیراعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ پیسہ بانٹ کر ووٹ چوری کیا گیا،ڈمی وزیر اعظم لا کر ریاست کو صوبہ بنانے کی باتیں کی جا رہی ہیں، انتخابی عمل ریاستی قبضے میں ہونا بدقسمتی ہے ، 25جولائی کو جمہوریت ہاری، آزاد کشمیر کے انتخابات میں وہی کچھ ہوا جو 2018 میں ہوا تھا۔ غیر نمائندہ حکومت کشمیر کاز کو کس طرح آگے بڑھائے گی؟پیسے کے بل بوتے پر لوگوں کو اقتدار میں لانے کی کوشش ہو رہی ہے ، یہ عمران خان نہیں بلکہ پیسے کا ووٹ ہے ، جو حکومت کشمیریوں کو حق حکمرانی نہیں دینا چاہتی کیا وہ حق خود ارادیت دے گی،آزاد کشمیر کے موجودہ الیکشن نتائج آزاد کشمیر کی سیاست پر کھلا حملہ ہے اور اس حملے کو کشمیری کبھی برداشت نہیں کر سکتے ۔منگل کو مظفرآباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ بدقسمتی ہے الیکشن عمل ریاست کے قبضے میں ہے ،ایک بار پھر شفاف الیکشن کرانے میں ناکام رہے ہیں۔ موجودہ الیکشن کے نتائج کو تسلیم نہیں کرتے اور غیر نمائندہ حکومت کے قیام کو بھی نہیں مانتے ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) نے آزاد کشمیر میں بڑی سطح پر سب سے زیادہ عوامی جلسے کئے عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مسلم لیگ (ن) کے بیانیہ سے اتفاق کیا لیکن الیکشن کے نتائج انتخابی مہم کی عکاسی نہیں کرتے جبکہ مسلم لیگ (ن) کے امیدواروں نے ثابت قدمی دکھائی۔شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ حقیقت میں 25 جولائی کو آزاد کشمیر میں جمہوریت ہاری ہے اوریہ معاملہ پری پول رگنگ سے شروع ہوا اور جمہوری اقدار کو تباہ کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ امریکا میں بیٹھ کر وزیر اعظم عمران خان نے ڈونلڈ ٹرمپ سے مسئلہ کشمیرکے حل اور ثالثی کی جو بات کی تھی اس کے نتائج آنا شروع ہو گئے ہیں۔آزاد کشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر نے کہاکہ کشمیری پاکستانی عوام کے شکر گزار ہیں کہ 74 سال سے ہمارا ساتھ دے رہے ہیں لیکن میرا پاکستانیوں سے سوال ہے کہ جو حکومت کشمیریوں کو حق حکمرانی نہیں دینا چاہتی کیا وہ حق خود ارادیت دے گی۔ کشمیریوں کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے ۔ہمیں تو 5 سال تک حق حکمرانی نہیں دیا جا رہا ۔انہوں نے کہا کہ عمران خان نے آزاد کشمیر کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔ کشمیری عوام کوئی بھیڑ بکریاں نہیں ہیں ۔ وفاقی وزراء نے انتخابی مہم میں پیسے بانٹے ’ اربوں روپے کے منصوبوں کے اعلانات کئے ۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے انتخابی نتائج کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ آزادکشمیر کیلئے تحریک چلانے کا اعلان کرتا ہوں۔عمران خان کا اصل چہرہ پوری دنیا کو دکھاؤں گا اور عوام کو بتاؤں گا یہ عوام کا الیکشن نہیں یہ پیسوں کا الیکشن ہے ۔۔ راجہ فاروق حیدر نے کہاکہ آزادکشمیر کے اندر پیسہ چلا۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے بعض سنگین معاملات میں ملوث رہے ۔ الیکشن کمیشن کے ضابطہ اخلاق اور قوانین کے خلاف جنگل سے بیلٹ پیپرز مل رہے ہیں ۔یہ صاف شفاف الیکشن ہے ؟ ،عمران خان نے آزادکشمیر کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالا ۔ انہوں نے کہاکہ ہم کسی صورت چپ نہیں بیٹھیں گے ،ہم انہیں بتائیں گے کہ کیسے تحریک چلائی جاتی ہے ۔انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم عمران خان نے آزاد کشمیر کی حکومت، ریاست، آئینی اداروں کا مذاق اڑا کر قوانین کی خلاف ورزی کی ہے ، الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے کہ علی امین گنڈاپور کو نہ آنے دیا جائے اور ایف آئی درج کی جائے جبکہ وزیر اعظم اسے اپنے ساتھ لے کر پھر رہے تھے ۔میں عمران حکومت کا اصل چہرہ کشمیر اور پاکستان کے عوام کے سامنے لاؤں گا۔راجا فاروق حیدر نے کہا کہ آزاد کشمیر میں منی لانڈرنگ ایک سنگین مسئلہ ہے ، پتا کیا جائے کہ یہ پیسہ کہاں سے آیا، کون لایا۔آزاد کشمیر کے وزیراعظم نے کہا کہ میں نے الیکشن کمیشن کی کوئی بھی تجویز مسترد نہیں کی لیکن سجی سجائی دکان تھی، ڈاکو آئے اور لوٹ کر چلے گئے ، اس وقت جتنا نقصان عمران خان نے پاکستان اور کشمیر کے مفاد کو پہنچایا یہ آنے والا وقت آپ کو بتائے گا۔احسن اقبال نے کہا کہ الیکشن میں دھاندلی پر اب صرف احتجاج نہیں کرنا بلکہ اس رسم کو ختم کرنا ہے ، الیکشن میں عوام کا مینڈیٹ چرالیا گیا، یہ عالمی سازش ہے جس کا مقصد کشمیر کی دھرتی پر پاکستان سے دوری کے بیج بونا اور پاکستان مخالف رجحانات کو فروغ دینا ہے تاکہ اس خطے میں آزاد کشمیری ریاست قائم ہو جو عالمی سامراج کے ایجنڈے کا حصہ ہو، اسی ایجنڈے کے حامیوں نے اس الیکشن میں پیسہ دیا تاکہ کشمیری عوام میں پاکستان کے خلاف نفرت کو فروغ دیا جائے ، خود عمران خان نے یہ بات کہہ دی کہ اگر کشمیری پاکستان سے الحاق کریں گے تب بھی میں انہیں پاکستان سے علیحدگی کا ایک اور موقع دوں گا، یہ بیان کشمیریوں کی قربانی سے نہ صرف مذاق ہے ، بلکہ 1947 کی تقسیم کی سکیم کو دوبارہ کھولنے کی سنگین سازش اور پاکستان کی بنیادوں پر حملہ ہے ، جس سے ملک کے بقا کی بنیادیں ہل سکتی ہیں۔ادھر پروگرام‘‘نقطہ نظر’’ میں گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ الیکشن کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے ،پاکستان کے وزیراعظم نے خود الیکشن قوانین کی خلاف ورزی کی،وزیراعظم نے الیکشن کمیشن کے احکامات کونظراندازکیا، ان کا کہنا تھا کہ آزادکشمیرالیکشن کمیشن نے کہا کہ وزیراعظم نے مداخلت کی،جب حکومت پاکستان خلاف ورزی کرے گی توکس کے آگے روؤں،آزادکشمیرمیں پانچ،پانچ ہزارسے ایک ووٹ خریدا گیا،وزیراعظم عمران خان کوکشمیربارے کچھ نہیں پتا،آزادکشمیرمیں جوکچھ ہوا 1977کی تاریخ بھول جائیں گے ،آزادکشمیرالیکشن پروائٹ پیپرجاری کریں گے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement