نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مشیرداخلہ شہزاداکبرنےقوم کوگمراہ کرنےکی کوشش کی،احسن اقبال
  • بریکنگ :- حکومت نےبرطانیہ کوجھوٹ کےپلندےدیئے،احسن اقبال
  • بریکنگ :- انہوں نےبرطانیہ سےاپنےحق میں فیصلہ لینےکی کوشش کی،احسن اقبال
  • بریکنگ :- شہبازشریف کیخلاف خودساختہ ثبوت دیئےگئے،احسن اقبال
  • بریکنگ :- وزیراعظم حسد کی آگ میں بہت آگےجاچکےہیں،احسن اقبال
  • بریکنگ :- 4 سال سےنوازشریف کیخلاف کوئی کیس ثابت نہیں کرسکے،احسن اقبال
  • بریکنگ :- شہبازشریف کیخلاف ایک پیسےکاالزام بھی ثابت نہیں ہوسکا،احسن اقبال
  • بریکنگ :- 29 ارب کےسی پیک منصوبوں میں 29 پیسےکی کرپشن ثابت نہیں ہوئی،احسن اقبال
  • بریکنگ :- ڈی جی نیب لاہوربرطانیہ جاکرحکام سےملے،احسن اقبال
  • بریکنگ :- یہ پاکستان دشمنی کےایجنڈےپرکام کررہےہیں،احسن اقبال
Coronavirus Updates

چیئرمین نیب کی ملازمت میں توسیع سمیت 8ترامیم تجویز

چیئرمین نیب کی ملازمت میں توسیع سمیت 8ترامیم تجویز

دنیا اخبار

تقرری دوسری مدت تک بڑھائی جاسکتی ، نئی تعیناتی تک چیئرمین رہیں گے ، مس کنڈکٹ پراحتساب جج کو صدر چیف جسٹس کی مشاورت سے گھر بھیج سکیں گے

لاہور (فہد شہبازخان)نیب قوانین کے ترمیمی مسودے میں چیئرمین نیب کی مدت ملازمت میں توسیع ،احتساب عدالتوں کے ججز کی تقرری، گواہوں، شہادتوں، نیب عدالتوں میں کیسز کو تیزچلانے کے لئے کمپیوٹرائزڈ شہادتیں ریکارڈ کرنے سمیت 8ترامیم تجویز کی گئی ہیں، روزنامہ دنیا کو موصول نیب قوانین کے ترمیمی مسودے کے مطابق چیئرمین نیب کی تقرری میں مسلسل دوسری مدت کیلئے توسیع دی جاسکتی ہے ، 4سالہ مدت ملازمت کے بعد جب تک نئے چیئرمین کا تقرر نہ ہو جائے انہیں ہٹایا نہیں جاسکتا،توسیعی مدت کے بعد بھی جب تک نئے چیئرمین نیب کا تقرر آئین کے مطابق عمل میں نہ لایا جائے تب تک چیئرمین نیب برقراررہیں گے ، اگر عدالت میں کوئی ریفرنس فائل نہیں ہوا تو چیئرمین نیب پراسیکیوٹر کے ساتھ مل کر کیس واپس بھی لے سکتے ہیں، چیئرمین نیب کو صدر پاکستان عہدے سے ہٹا سکتے ہیں مگر اس کے لئے وہی طریقہ کار استعمال کرنا ہوگا جو سپریم کورٹ کے جج کوہٹانے کے لئے کیا جاتا ہے ، صدر پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان کی مشاورت سے احتساب عدالتوں کا قیام عمل میں لائیں گے جس میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج، ڈسٹرکٹ جج یا ہائی کورٹ کے جج کو تعینات کیاجاسکتا ہے ،جج کا تقرر تین سال کیلئے کیا جائے گا اور ان کی تنخواہ اور مراعات ہائی کورٹ کے جج کے برابرہوں گی،احتساب عدالت کا جج اگر مس کنڈکٹ کا مرتکب ٹھہرتا ہے تو صدر پاکستان چیف جسٹس آف پاکستان سے مشاورت کے ذریعے ان کو گھر بھیج سکتے ہیں،احتساب عدالت کے جج کو صوبے کے اندر کسی بھی احتساب عدالت میں ٹرانسفر کیا جا سکتا ہے ، احتساب عدالت میں کارروائی کے دوران اگر گواہ بیرون ملک مقیم ہو تو احتساب عدالت میں آڈیو اور ویڈیو لنک کے ذریعے شہادت دینے کے لئے ضروری ہوگا کہ اس کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ، ڈرائیونگ لائسنس اور دیگر دستاویزات یا بیان حلفی جو اس کی شناخت ثابت کرے موجود ہو، شناخت سے متعلق تمام تر دستاویزات ویڈیو لنک پر دوسری پارٹی کو بھی دکھانا ضروری ہوگا،ان دستاویزات کی پاکستان ایمبیسی اور ہائی کمیشن کے ذریعے تصدیق شدہ کاپی کورٹ میں جمع کروانا لازمی ہوگا، احتساب عدالتوں میں تاخیری حربوں کی عدالت ہرگز اجازت نہیں دے گی، گواہ سے متعلق کوئی بھی دستاویزی ثبوت عدالت کے حکم پر وکیل صفائی کو مہیا کیا جائے گا اگر بیرون ملک موجود گواہ کی گواہی کے دوران ویڈیو لنک بند ہو جاتا ہے تو پھر یہ فیصلہ معزز جج کریں گے کہ کیس کو ملتوی کرنا ہے یا پھر ویڈیو لنک کو بحال کرنے کا فی الفور حکم دینا ہے ، عدالت کا اختیار ہے کہ وہ کسی بھی وقت گواہ پر جراح کی اجازت دے ، وفاقی حکومت شہادت ریکارڈ کرنے کے لئے جدید کمپیوٹرائزڈ نظام کو واضح کرنے کی پابند ہو گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement