نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کئی ممالک نے امریکا اور عالمی برادری کے سامنے ہمارے حق میں آواز اٹھائی،ترجمان
  • بریکنگ :- 6روز قبل چین اور روس نے بھی ہمای حکومت کے حق میں بات کی،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- قطر،ازبکستان اور دیگر ممالک نے بھی مثبت موقف اپنایا،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- پاکستان ہمارا ہمسایہ ملک ہے،ان کا موقف قابل تحسین ہے،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- افغانستان کے ساتھ عالمی برادری کے روابط ضروری ہیں،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- افغانستان کو تجارت اور اقتصادی امور میں ہمسایہ ممالک کی ضرورت ہے،ترجمان
  • بریکنگ :- توقع ہے ہمسایہ ممالک اپنا مثبت کردار جاری رکھیں گے،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- پنج شیر میں لڑائی ختم ہوچکی ہے،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- بیشترمقامی عمائدین ،علمائے کرام اور مجاہدین ہمارے ساتھ ہیں،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- ہم کسی کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- پوری دنیا کے ساتھ بہتر تعلقات چاہتےہیں،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- اگر کوئی لڑائی یا حملے کی خواہش رکھتاہے تو سخت جواب دیاجائےگا،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- افغانستان میں امن کے بعد ہماری ترجیح ہے کہ تجارت فروغ پائے،ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- افغانستان کو پشاور اور پاکستان کے دیگر علاقوں سے منسلک کیاجائےگا،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- سی پیک منصوبہ اہم ہے،تھوڑی تحقیق کی ضرورت ہے،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- چاہتے ہیں سی پیک میں شامل ہوں،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- پاکستان ہمارا پڑوسی ملک اور افغانوں کا دوسرا گھر ہے،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- لاکھوں افغان مہاجرین اب بھی پاکستان میں رہائش پذیر ہیں،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- ہماری زبان ،مذہب مشترکہ اور رسم ورواج بھی ایک جیسے ہیں،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- دورہ پاکستان کی دعوت ملی توقیادت معاملےپر غورکرےگی،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- افغان سرزمین کسی ملک کیخلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- ہم ایک اسلامی ریاست قائم کرناچاہتےہیں،ترجمان طالبان
  • بریکنگ :- کشمیری ہمارے بھائی ہیں،ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد
  • بریکنگ :- عالمی برادری مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم بند کرائے،ترجمان طالبان
Coronavirus Updates

پاکستان بین الاقوامی مطالبات پورے ہونے تک طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے : امریکا ، پیوٹن کا عمران خان کو دوبارہ فون

پاکستان بین الاقوامی مطالبات پورے ہونے تک طالبان حکومت کو تسلیم نہ کرے : امریکا ، پیوٹن کا عمران خان کو دوبارہ فون

دنیا اخبار

کئی پاکستانی مفادات امریکا سے متصادم،افغانستان کے مستقبل بارے شرط لگانے میں شامل ، طالبان ارکان کو پناہ دیتاہے ،تعلقات کا جلد جائزہ لینگے :بلنکن ، پاکستان کا کردار دیکھیں گے ،20سال میں کیا کیا اور آگے کیا ہوگا:امریکی وزیرخارجہ، کانگریس کے رکن کا غیرنیٹو اتحادی کادرجہ ختم کرنے پر غور کرنے کا مطالبہ ، روس پاکستان کا قریبی رابطے رکھنے پر اتفاق، تجارت، توانائی و دیگر شعبوں میں تعاون کے فروغ پر زور،دنیا افغان عوام کو تنہانہ چھوڑے :وزیراعظم عمران خان

اسلام آباد،واشنگٹن(خصوصی نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں ،مانیٹرنگ ڈیسک)امریکا نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ بین الاقوامی مطالبات پورے ہونے تک طالبان کی حکومت کو تسلیم نہ کیاجائے جبکہ روسی صدر پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان سے دوبارہ فون پررابطہ کیاہے ،افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کرتے ہوئے دونوں رہنمائوں نے قریبی رابطے رکھنے پراتفاق کیا۔غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق افغانستان میں طالبان کی فتح پر کانگریس کی جرح میں امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے مسلسل دو روز پارٹی کے ان قانون سازوں کو سنا جو پاکستان پر سختی کے خواہاں ہیں،انہوں نے ایوان نمائندگان کی کمیٹی برائے خارجہ کو بتایا کہ پاکستان کے کثیر مفادات ہیں جن میں سے کچھ ہمارے ساتھ متصادم ہیں،یہ وہ ملک ہے جو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مسلسل اپنی شرط لگانے اور اپنے مفادات کو ترجیح دینے میں شامل ہے ، یہ وہ ہے جو طالبان کے ارکان کو پناہ دیتا ہے ، یہ وہ ہے جو انسداد دہشت گردی پر ہمارے ساتھ تعاون کے مختلف نکات میں شامل ہے ،پاکستان نے شدت پسندی کے انسداد کیلئے تعاون کیا تاہم افغانستان کے حوالے سے پاکستان کی فیصلہ سازی کثیر نکاتی رہی،کئی مواقع پر پاکستان کی پالیسیاں ہمارے مفادات کو نقصان پہنچاتی رہی ہیں اور کچھ مواقع پر حمایت میں رہی ہیں۔ایک رکن کانگریس نے سوال کیا کہ کیا یہ وقت ہے کہ واشنگٹن پاکستان کے ساتھ تعلقات کا دوبارہ جائزہ لے جس پر انٹونی بلنکن نے کہا کہ حکومت یہ جلد کرے گی،انہوں نے کہا کہ آئندہ آنے والے دنوں اور ہفتوں میں جو ایک چیز ہم دیکھیں گے وہ پاکستان کا کردار ہے جو اس نے گزشتہ 20 سال میں ادا کیا لیکن ہم یہ بھی دیکھنا چاہتے ہیں کہ آئندہ برسوں میں اس کا کیا کردار ہوگا اور ایسا کرنے کیلئے اسے کیا ضرورت ہوگی۔انٹونی بلنکن نے پاکستان سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ جب تک افغان طالبان بین الاقوامی مطالبات پورے نہیں کرتے انہیں قانونی حیثیت دینے سے انکار کریں،ان کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں جو دیکھنا ہے وہ یہ کہ بین الاقوامی برادری کے پاس وہ چیز ہے جو طالبان کی زیر قیادت حکومت کو درکار ہے ، اگر اسے کسی بھی قسم کا قانونی جواز یا مدد حاصل کرنی ہو،انہوں نے کہا کہ ترجیحات میں یہ یقینی بنانا شامل ہے کہ طالبان ان لوگوں کو باہر نکالیں جو افغانستان چھوڑنا چاہتے ہیں اور خواتین، لڑکیوں اور اقلیتوں کے حقوق کا احترام کریں، ساتھ ہی ان وعدوں پر قائم رہیں کہ ملک دوبارہ بیرونی ہدایت پر دہشت گردی کی پناہ گاہ نہ بنے ،انہوں نے مزید کہا کہ لہٰذا پاکستان کو ان مقاصد کیلئے کام کرنے اور ان توقعات کو پورا کرنے کیلئے عالمی برادری کی اکثریت کے ساتھ صف آرا ہونے کی ضرورت ہے ،امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم افغانستان میں موجود امریکی اور افغان شہریوں کی مدد کرتے رہیں گے ، جو امریکی اور دوسرے شہری افغانستان سے نکلنے کے خواہشمند ہیں انہیں نکالا جائے گا،اس سال انسانی ہمدردی کی بنیاد پر 33 کروڑ ڈالر کی امداد افغانستان کو دی جا رہی ہے ، گزشتہ ہفتے تک 100امریکی شہریوں نے افغانستان چھوڑنے کا پیغام بھیجا،60 افراد کے لیے طیارے میں جگہ تھی لیکن صرف 30 ائیرپورٹ پہنچے ۔پاکستان کو ہدف تنقید بنانے والے متعدد قانون سازوں میں سے ایک ڈیموکریٹک نمائندے جواکوئن کاسترو نے مطالبہ کیا کہ امریکا پاکستان کا اہم غیر نیٹو اتحادی کا درجہ ختم کرنے پر غور کرے جس سے اسلام آباد کو امریکی ہتھیاروں تک رسائی حاصل ہے ،ایوان نمائندگان کی کمیٹی کے بعد وزیرخارجہ بلنکن دوسرے روز سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی میں بھی پیش ہوئے ، وہاں بھی ارکان کی جانب سے تندو تیز سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔ادھر دوسر ی جانب روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان کو ٹیلیفون کر کے افغان صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ،وزیر اعظم آفس سے جاری اعلامیہ کے مطابق دونوں رہنماؤں کے درمیان افغانستان کی موجودہ صورتحال، دو طرفہ تعاون اور شنگھائی تعاون تنظیم سے متعلق بات چیت کی گئی،وزیراعظم عمران خان نے علاقائی سلامتی اور خوشحالی کیلئے افغانستان میں امن و استحکام کی اہمیت پر زور دیا، دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا، عمران خان نے کہا بین الاقوامی برادری افغانستان کے حوالے سے کردار ادا کرے ، عالمی برادری اس اہم موڑ پرافغان عوام کو تنہا نہ چھوڑے ، عالمی برادری کوافغانستان کے ساتھ رابطوں میں رہنا چاہیے ، افغانستان کوفوری طورپرانسانی بنیادوں پرامداد کی ضرورت ہے ، پاکستان اور روس کے درمیان افغانستان کی صورت حال میں قریبی رابطہ اور مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے ، افغانستان میں امن واستحکام علاقائی امن وخوشحالی کیلئے ضروری ہے ۔دونوں رہنمائوں نے شنگھائی تعاون تنظیم کے تحت علاقائی امن و استحکام کیلئے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا، وزیراعظم نے تجارت، توانائی اور دیگر شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے فروغ پر زور دیا، انہوں نے روسی صدر کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جبکہ صدر پیوٹن نے وزیراعظم عمران خان کو دورہ روس کی دعوت کی تجدید کی،یاد رہے کہ 25 اگست کو بھی وزیراعظم عمران خان اور روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا تھا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement