نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بہاولنگر:بااثرزمینداروں کابچےپرکتےچھوڑنےکامعاملہ،دنیانیوزکی خبرپرایکشن
  • بریکنگ :- بہاولنگر:2زمینداروں کےخلاف مقدمہ درج،ایک گرفتار،دوسرافرار،پولیس
  • بریکنگ :- بہاولنگر:ڈی پی اوظفربزدارکی اسپتال آمد،بچے کی عیادت کی،ترجمان پولیس
Coronavirus Updates

بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے آئی ووٹنگ معاہدہ کریں: نادرا ، لب ولہجہ درست کریں ، آپکے ماتحت نہیں : الیکشن کمیشن

بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے آئی ووٹنگ معاہدہ کریں: نادرا ، لب ولہجہ درست کریں ، آپکے ماتحت نہیں : الیکشن کمیشن

دنیا اخبار

تاثرملتاہے جیسے نادراحکم دے رہا،ٹیکنالوجی کوکب استعمال کرنا ہمارااختیار، سابق منصوبے پر6کروڑ65لاکھ خرچ ، اسے کیوں چھوڑا:الیکشن کمیشن کاجوابی خط ، آئی ووٹنگ سسٹم بنا کر دیا،صرف دوحلقوں میں پائلٹ ٹیسٹنگ کی،الیکشن کمیشن ایک طرف معاونت کاخواہاں،دوسری طرف ابہام پیداکررہا ہے :نادراحکام

اسلام آباد(وقائع نگار)نیشنل ڈیٹابیس رجسٹریشن اتھارٹی(نادرا)نے الیکشن کمیشن کوکہاہے کہ بیرون ملک پاکستانیوں کیلئے آئی ووٹنگ معاہدہ کریں۔دوسری جانب الیکشن کمیشن نے اپنے جوابی خط میں کہاہے کہ لب و لہجہ درست کریں ،آپکے ماتحت نہیں،الیکشن کمیشن نے چیئرمین نادراکو جوابی خط میں نادرا کی جانب سے بھجوائے گئے مراسلے میں اختیار کی جانیوالے زبا ن اور لب ولہجے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے نادرا کے خط کے لہجے سے ایسا تاثر ملتا ہے کہ الیکشن کمیشن نادرا کا ماتحت ادارہ ہے اور نادرا الیکشن کمیشن کو حکم دے رہا ہے ،الیکشن کمیشن کے جوابی خط کے مطابق الیکشن کمیشن آئینی ادارے کے طور اپنے تمام امور آرٹیکل 218(3)کے تحت انجام دیتا ہے ، کسی بھی نوعیت کی ٹیکنالوجی کو کب اور کیسے استعمال کرنا ہے یہ الیکشن کمیشن کے اختیارات میں سے ہے اور الیکشن انعقاد کیلئے کسی نئے طریقہ کار پر عملدرآمد الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے ، نادرا کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کو نادرا کے تجویزکردہ نظام پر مثبت اور فوری طور پر غور کرناچاہیے وگرنہ غیر ضروری التوا کا سامنا ہوسکتا ہے ، خط میں اختیار کی جانیوالی زبان ظاہر کرتی ہے کہ الیکشن کمیشن نادرا کا ماتحت ادارہ ہے جو ظاہر کرتا ہے کہ ایک آئینی ادارے کو احکامات دیئے جارہے ہیں،آئندہ خط و کتابت میں اس سے گریز کیا جائے ،رولز کے مطابق ایک سٹاف افسر، سینئر حکام کو براہ راست نہیں لکھ سکتا، نادرا الیکشن کمیشن سے آئی ووٹنگ کیلئے 2.4ارب روپے کا نیا معاہدہ کرنا چاہتا ہے اگرچہ معاہدہ پہلے سے موجود ہے ، نادرا پہلے بتائے کہ اس نے آئی ووٹنگ کا سابق منصوبہ کیوں چھوڑا جس پر 6 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ ہو چکے تھے ،اگر موجودہ نظام میں کوئی خامیاں تھیں تو ا سکا ذمہ دار کون ہے ، کیا کسی پر ذمہ داری کا تعین کیا گیا ۔نادرا نے الیکشن کمیشن کو کہا تھا کہ وہ آئی ووٹنگ کے حوالے سے نادرا کے مجوزہ نظام پر مثبت پیش رفت کرے ،دوسری جانب رابطہ کرنے پرنادرا حکام نے بتایا کہ نادرا نے آئی ووٹنگ سسٹم الیکشن کمیشن کو بنا کر دیااور الیکشن کمیشن نے چار حلقوں میں پائلٹ ٹیسٹنگ کرنی تھی جبکہ اس کاصرف دوحلقوں میں استعمال کیا گیا۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ آئی ووٹنگ کا نظام پہلے سے موجود ہے اور الیکشن کمیشن کی تحویل میں ہے ، معاہدے کے تحت الیکشن کمیشن نادرا کو 28.5 ملین روپے جاری کرنے کا پابند ہے ،حال ہی میں چیئرمین نادرا طارق ملک نے چارج سنبھالا تو الیکشن کمیشن کو ایک نئے خود کار نظام کی حکمت عملی پیش کی۔اس سسٹم کے مطابق نادرا اپنی طرز پر الیکشن کمیشن کو ایک مربوط آئی ووٹنگ نظام بنا کر دے گا جوالیکشن کمیشن کا اپنا ڈیٹا سنٹر ،سروَرزاور تھرڈ پارٹی سافٹ ویئرز پر مشتمل ہو گا،اس سسٹم کو الیکشن کمیشن خود انتظامی اورتکنیکی طورپر کنٹرول کرے گا،نادرا کے کمپیوٹرز یا سروَرز سے اس نئے سسٹم کا کوئی تعلق نہیں ہوگا۔الیکشن کمیشن ایک طرف نادرا سے معاونت کا خواہاں ہے دوسری طرف اس پر سوال اٹھا کر ابہام پیدا کر رہا ہے ۔یہاں اس امر کو بھی جاننا ضروری ہے کہ نادرا کو فنڈز الیکشن کمیشن کے اندر ڈیٹا سنٹر کے قیام اور سرورز سمیت دوسرے اہم آلات کی خریداری کے لیے درکار ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement