نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- نسلہ ٹاورکےتمام کنکشن منقطع کردیئےجائیں گے،ضلعی انتظامیہ
  • بریکنگ :- ایم ڈی واٹربورڈ،سی ای اوکےالیکٹرک،ایم ڈی سوئی گیس کوخط لکھ دیا گیا
  • بریکنگ :- کراچی:27 اکتوبرتک نسلہ ٹاورکےتمام کنکشن منقطع کیےجائیں،خط
  • بریکنگ :- کراچی:نسلہ ٹاورگرانےکےلیےضلعی انتظامیہ متحرک
Coronavirus Updates

جنوبی پنجاب آئندہ الیکشن میں ن لیگ کا ہدف ہو گا

جنوبی پنجاب آئندہ الیکشن میں ن لیگ کا ہدف ہو گا

دنیا اخبار

اراکین اسمبلی آج بھی نواز شریف کوہی سیاسی طاقت کا مظہر سمجھ رہے کرپشن کے الزامات کے باوجود نواز شریف کا ووٹ بینک متاثر نہیں ہو رہا

(تجزیہ: سلمان غنی) مسلم لیگ ن کے مرکزی سیکرٹریٹ میں جاری ڈویژنل سطح کے تنظیمی اجلاس اور ان سے ن لیگ کے قائد نواز شریف کے خطاب کو بظاہر تو تنظیمی سرگرمیوں کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے لیکن عملاً تمام ڈویژن کے اراکین اسمبلی تنظیمی عہدے دار اور سرگرم کارکنوں کو آنے والے انتخابات میں پولنگ سٹیشن کی سطح پر خود کو منظم کرنے اور پولنگ سٹیشن کی سطح پر ابھی سے اپنے لوگوں کومنظم اور فعال بنانے کا ٹاسک سونپا جا رہا ہے اور یہ باور کرایا جا رہا ہے کہ ادھر اُدھر دیکھنے اور کسی بھی حکومت یا اس کے اداروں سے مرعوب ہونے کی بجائے آگے بڑھیں۔ مسائل زدہ عوام کی آواز بنیں اور حکومت کی تیاری کریں ۔مسلم لیگ ن کے اندر شریف خاندان اور خصوصاً شہباز شریف اور مریم نواز کے درمیان اختلافات کی خبروں میں کیا صداقت ہے اور آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ شہباز شریف ماڈل ٹاؤن میں جاری اس مشق میں موجود نہیں۔ جہاں تک ماڈل ٹاؤن میں جاری مشق اور اس میں شہباز شریف کی عدم شمولیت کا سوال ہے تو یہ ساری مشق پنجاب میں تنظیم نو کے حوالے سے ہے اور پنجاب کی سطح پر ہونے والے ان اجلاسوں میں وہ ان کی موجودگی ضروری نہیں سمجھتے ۔جنوبی پنجاب کے اب تک دونوں ڈویژنوں کے اجلاس میں ان کے اراکین اور عہدے داران کی جانب سے بھرپورشرکت سے یہ ظاہر ہو رہا ہے کہ جنوبی پنجاب آئندہ الیکشن میں ن لیگ کا ہدف ہو گا جس کے حوالے سے تاثر ہے کہ یہاں مسلم لیگ ن کمزور ہے جبکہ سنٹرل پنجاب اور اس سے متعلقہ ڈویژنوں میں سے نئی صورتحال میں یہ ساہیوال کو بھی خصوصی توجہ کا حامل سمجھ رہے ہیں جہاں تک ن لیگ کی قیادت اور خصوصاً پارٹی میں جاری بیانیہ کی جنگ کا سوال ہے تو یقیناََ اہم ایشو پر پارٹی کی اعلیٰ سطح پر کئی آرا موجود ہیں اوروہ اس کا اظہار بھی کرتے نظر آتے ہیں لیکن ان اختلافات کو کسی طرح بھی پارٹی میں یا شریف خاندان میں تقسیم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ مریم نواز مذکورہ اجلاسوں میں جس جگہ مخاطب رہی ہیں ان کے پیچھے شہباز شریف کی تصویر آویزاں رہی جب کہ سٹیج کے سامنے سے پارٹی کے قائد نواز شریف سکائپ پر ان سے مخاطب رہے ۔پارٹی کے عہدیداران اور اراکین اسمبلی آج بھی نواز شریف کوہی اپنی سیاسی طاقت کا مظہر سمجھ رہے ہیں ۔کرپشن کے بڑے بڑے الزامات اور عدالتی نا اہلی کے باوجود نواز شریف سیاسی سطح پر کمزور ہونے کی بجائے مضبوط ہوئے ہیں اور ان کا ووٹ بینک متاثر نہیں ہو رہا۔ اس کی بڑی وجہ خود حکومت کی اب تک کی کارکردگی کو قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ اس حکومت سے عوام کو جتنی توقعات تھیں اتنی ہی زیادہ مایوسی بڑھی ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement