نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں 3سال کی بلندترین سطح پرپہنچ گئیں
  • بریکنگ :- عالمی مارکیٹ میں خام تیل 85 ڈالرفی بیرل پرفروخت ہونےلگا
  • بریکنگ :- برینٹ کروڈ 84.70ڈالر،ڈبلیوٹی آئی 82.11 ڈالرفی بیرل پرفروخت ہورہاہے
  • بریکنگ :- تیل کی کھپت میں اضافہ اورسپلائی میں کمی کےباعث قیمتیں بڑھ گئیں،ماہرین اقتصادیات
Coronavirus Updates

مہنگائی :لگتا ہے کچھ بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں

مہنگائی :لگتا ہے کچھ بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں

دنیا اخبار

بجلی مہنگی کرنے کیساتھ بہت سارے ٹیکس اس میں شامل کر دئیے گئے ، حکومت ہو یا اپوزیشن کوئی بھی مسائل زدہ عوام کی آوازبلند کرنے کو تیار نہیں

(تجزیہ:سلمان غنی) حکومت کی جانب سے مہنگائی پر کنٹرول و کمی اور عوام کے لئے ریلیف کے دعوے اور دوسری جانب حکومتی پالیسیوں کے تابع اشیائے ضروریہ خصوصاً اشیائے خوردو نوش کی قیمتوں میں لگنے والی آگ اب باقاعدہ ایک طوفان کی صورت اختیار کرتی نظر آ رہی ہے خصوصاً پٹرولیم کی قیمتوں میں پانچ روپے سے زائد فی لٹر اضافہ کے عمل سے گراں فروشوں کی بن آئی ہے اور وہ ازخود قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں مگر نہ تو کہیں حکومتی رٹ نظر آ رہی ہے اور نہ ہی وہ انتظامی مشینری جسے حکومت نے گراں فروشوں اور ذخیرہ اندوزوں کے خلاف کارروائی کا ٹارگٹ دیا ہے خود حکومتی محکمہ شماریات کی رپورٹ میں مسلسل تیرھویں ہفتے بھی مہنگائی کی شرح میں ہونے والے اضافے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ حالیہ ہفتہ میں یہ اضافہ 1.21 فیصد اورہوا ہے ۔وزیراعظم عمران خان کا دعویٰ ہے کہ ہر ممکن کوشش ہے کہ غریب عوام پر مہنگائی کا بوجھ کم کیا جائے ۔ غریب عوام کے لیے ریلیف ہماری ذمہ داری ہے اور ہمیں اس کا احساس ہے اور متعدد بار وہ یہ بھی کہتے سنے گئے ہیں کہ معاشی بہتری کا دور شروع ہو چکا لیکن کیا وجہ ہے کہ حکومتی دعوؤں کے ساتھ زمینی حقائق اس سے مطابقت نہیں رکھتے یا تو وزیراعظم عمران خان کو حقیقت حال سے آگاہ نہیں کیا جا رہا۔ ایک حکومتی وزیر یہ کہتے نظر آئے کہ کچھ چیزیں ہمارے کنٹرول میں نہیں مگر عملاً دیکھا جائے تو کچھ بھی حکومت کے کنٹرول میں نہیں، وزیراعظم عمران خان تو مافیاز پر ہاتھ ڈالنے کے حوالے سے پر عزم تھے مگر اب تک کسی مافیا پر آہنی ہاتھ نظر نہیں آیا بلکہ حکومت کے مقابلہ میں مافیاز دندناتے نظر آ رہے ہیں اور مہنگائی زدہ عوام کے زخموں سے خون کے آخری قطرے بھی چوس رہے ہیں مگر کوئی ان کا ہاتھ پکڑنے والا نہیں۔حالت یہ ہو گئی کہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔ لوگ آٹا چینی دال تیل پہلے سے کئی گنا زیادہ قیمتوں پر خریدنے پر مجبور ہیں۔ اگر حکومت کی یہ بات بھی درست تسلیم کر لی جائے کہ کچھ اشیا کی قیمتیں ان کے کنٹرول میں نہیں تو پھر بڑا سوال یہ ہے کہ جو قیمتیں ان کے کنٹرول میں ہیں کیا ان میں حکومت نے کچھ ریلیف دیا ہے ۔ چینی، آٹا، ادویات کی قیمتوں میں بھی وہ بے بس ہیں تو بجلی گیس اور پٹرولیم کی قیمتیں اس کی دسترس سے باہر ہیں۔ وزیراعظم عمران خان یہ کہتے ہیں کہ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان میں بجلی بہت مہنگی ہے تو یہ بجلی کیونکر مہنگی ہوئی آپ نے تو قوم کو یہ کہا تھا کہ جلد ہی قوم کو بجلی وافر بھی ملے گی اور سستی بھی لیکن آخر وہ کون سی وجوہات ہیں کہ جس بنا پر بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کے ساتھ بہت سارے ٹیکس اس میں شامل کر دئیے گئے ہیں اب صدارتی آرڈیننس کے ذریعے بجلی بلوں میں 35 فیصد ایڈوانس انکم ٹیکس عائد کیا جا رہا ہے ، ماہانہ دس ہزار تک کے بجلی بل میں 5 فیصد ایڈوانس ٹیکس ہو گا،آئی ایم ایف کی تاریخ یہ ہے کہ وہ حکومت پاکستان سے کہتی کہ بڑے بڑے ٹیکس چور مگر مچھوں پر ہاتھ ڈالا جائے ۔ ان حالات میں مایوسی اس بات کی ہے کہ حکومت ہو یا اپوزیشن کوئی بھی مسائل زدہ عوام کی آواز بلند کرنے کو تیار نہیں اور یہی آج کا بڑا سیاسی المیہ ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement