نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- مشاورت کےبعدنئےوزیراعلیٰ کی حمایت کرنےیانہ کرنےکافیصلہ ہوگا،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی نے بی اے پی سے چھپ کر ووٹ لیا تھا،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- جوبھی فیصلہ ہوگامشاورت سےاوراعلانیہ ہوگا،مولانا فضل الرحمان
  • بریکنگ :- جام کمال کے اپنے ساتھی ان کے خلاف ہوگئے تھے،مولانافضل الرحمان
  • بریکنگ :- پی ڈی ایم جماعتوں سےمشاورت کےبعدفیصلہ کریں گے،فضل الرحمان
  • بریکنگ :- جام کمال کےاستعفےکےبعدبلوچستان میں نئی حکومت کےقیام کامعاملہ
  • بریکنگ :- جےیوآئی،بی این پی مینگل اورپختونخوامیپ کامشاورت کافیصلہ
Coronavirus Updates

سندھ حکومت کو ہر سال اربوں ملتے ہیں ، پھر بھی پیسے نہیں ، شرم آنی چاہیے : چیف جسٹس

سندھ حکومت کو ہر سال اربوں ملتے ہیں ، پھر بھی پیسے نہیں ، شرم آنی چاہیے : چیف جسٹس

دنیا اخبار

پورا کراچی کچرے سے بھرا ،سڑکیں ٹوٹیں، بچے مریں یہ کچھ نہیں کرنیوالے ، سندھ، وفاقی حکومت دونوں کا یہی حال،سب پیسہ بنانے میں لگے ، ریمارکس ، متاثرین کو گھر ملنے تک وزیراعلیٰ ،گورنر ہاؤس الاٹ کر دیتے ہیں، نسلہ ٹاور گرانے کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستیں مسترد، نالہ متاثرین کی بحالی کیلئے 1 سال کی مہلت

کراچی (این این آئی، سٹاف رپورٹر)چیف جسٹس گلزار احمد نے کہا سندھ حکومت کو ہر سال اربوں ملتے ہیں، پھر بھی پیسے نہیں،شرم آنی چاہیے ، سب پیسے بنانے میں لگے ہوئے ہیں، پورا کراچی کچرے سے بھرا ہوا ہے ، غیر قانونی قبضے ، سڑکیں بدحال، کراچی میں کچھ نہیں، جب تک متاثرین کو گھر نہیں دیتے ، وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس الاٹ کر دیتے ہیں، نسلہ ٹاور کے الاٹیز کو مارکیٹ ویلیو کے حساب سے پیسے مل جائیں گے ، سپریم کورٹ نے نسلہ ٹاور گرانے کے فیصلے پر نظر ثانی درخواستیں مسترد کردیں جبکہ گجر نالہ، محمود آباد اور اورنگی نالہ متاثرین کی بحالی کے لیے ایک سال کا وقت دیتے ہوئے 2 ہفتوں میں ابتدائی عمل درآمد رپورٹ طلب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ کوذاتی طور پر فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنانے اور جیکب آباد میں دو دن میں قبضے ختم کر نے کا حکم دے دیا ۔سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس قاضی محمد امین احمد پر مشتمل تین رکنی بینچ نے گجر نالے سمیت دیگر نالوں پر تجاوزات سے متعلق درخواستوں کی سماعت کی۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ گجر نالے پر پیش رفت رپورٹ کہاں ہے ؟، ایڈووکیٹ جنرل سندھ سلمان طالب الدین نے موقف دیا کہ بورڈ آف ریونیو کی جانب سے رپورٹ جمع کرائی ہے ۔ سندھ حکومت کے پاس بجٹ کی کمی ہے ، 10 ارب روپے اگر سپریم کورٹ ریلیز کر دے تو ہم کام شروع کر دیتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مطلب آپ کی گورنمنٹ کے پاس پیسے نہیں تو گورنمنٹ فنکشنل نہیں، عوام کے لیے پیسے نہیں، باقی سارے امور چلا رہے ہیں، وزرا اور باقی سب کے لیے فنڈز ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیئے جب گاڑیاں خریدنی ہوتی ہیں تو پیسے آ جاتے ہیں،اگر زلزلہ، سیلاب آ جائے تو پھر کیا کریں گے ، اگر کوئی آفت آ جائے تو کیا ایک سال تک بجٹ کا انتظار کریں گے ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک متاثرین کو گھر نہیں دیتے ، وزیراعلیٰ اور گورنر ہاؤس الاٹ کر دیتے ہیں، لوگوں کو کہتے ہیں کہ وہ وزیراعلیٰ، گورنر ہاؤس کے باہر ٹینٹ لگا لیں، سندھ حکومت میں کچھ نہیں ہو رہا، سر درد والی صورت حال ہے سندھ میں۔ ورلڈ بینک کے کتنے منصوبے ہیں مگر کچھ نہیں ہو رہا۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے استفسار کیا کہ بتائیں جنہوں نے زمینیں الاٹ کیں، ان کے خلاف کیا ایکشن لیا؟۔ ایڈووکیٹ جنرل نے موقف اپنایا کہ یہ تو 40 سال پرانا مسئلہ ہے ۔ چیف جسٹس نے برہمی کا اظہار کیا کہ آپ انتہائی غیر ذمہ دارانہ بیان دے رہے ہیں۔ جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا سندھ حکومت کا کتنے ارب کا بجٹ ہے ، کھربوں روپے کے بجٹ سے آپ کے پاس 10 ارب نہیں، آپ سندھ حکومت ہیں، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے پورا کراچی گند سے بھرا ہوا ہے ، کیا یہ کراچی شہر ہے ؟، یہ تو گاربیج دکھائی دیتا ہے ، کوئی دیکھنے والا نہیں، حکمران طبقے کو اس شہر کی کوئی پروا نہیں، گٹر ابل رہے ہیں، تھوڑی سی بارش میں شہر ڈوب جاتا ہے ۔ کیا شہر اس طرح چلایا جاتا ہے ؟، ایک انچ کا بھی کام نہیں ہوا کراچی میں، یہ ہے سندھ حکومت، کہتے ہیں پیسے نہیں۔ کھربوں روپے کی باہر سے مدد آتی ہے ، کیا کرتے ہیں، کچھ پتا نہیں؟، غیر قانونی قبضے ، سڑکیں بدحال، کچھ نہیں کراچی میں۔ ‘‘شیم آن سندھ حکومت’’معذرت کے ساتھ اے جی صاحب، یہ کوئی طریقہ نہیں جس بلڈنگ کو دیکھو اس کا برا حال ہے ، سڑکیں ٹوٹیں، بچے مریں، کچھ بھی ہو، یہ کچھ نہیں کرنے والے ، یہی حال سندھ حکومت کا اور یہی حال وفاقی حکومت کا بھی ہے ، سب پیسہ بنانے میں لگے ہوئے ہیں، سیاسی جھگڑے اپنی جگہ مگر لوگوں کے کام تو کریں، اگر لوگوں کو سروس نہیں دے سکتے تو کیا فائدہ، سندھ حکومت کہتی ہے ہمارے پاس بحالی کے پیسے نہیں۔ سپریم کورٹ نے حکم دیا کہ وزیراعلیٰ سندھ ذاتی طورپر اس فیصلے پر عمل درآمد یقینی بنائیں،متاثرین بحالی کی رقم ارینج کریں، سپریم کورٹ نے سندھ حکومت کو بحالی کے لیے ایک سال کا وقت دے دیا۔ عدالت عظمیٰ نے وزیراعلیٰ سندھ سے 2 ہفتے میں ابتدائی عمل درآمد رپورٹ بھی طلب کرلی۔علاوہ ازیں سپریم کورٹ نے شارع فیصل پر واقع نسلہ ٹاور کو گرانے سے متعلق فیصلے پر نظر ثانی کی درخواستیں مسترد کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے عملدرآمد رپورٹ طلب کرلی جبکہ کمشنر کراچی کو ایک ماہ میں نسلہ ٹاور خالی کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت2نومبرتک ملتوی کردی ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے جو دیوار وہاں بنی ہوئی وہ کمشنر صاحب نے گرائی نہیں ہے ۔ابھی جاکر گرائیں اس دیوار کو، نسلہ ٹاور کے مالک کے وکیل نے کہاکہ پورا نسلہ ٹاور گرانے کا حکم مناسب نہیں ہے ،گلاس ٹاور کی طرح ہمیں بھی ریلیف دیا جائے ۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کراچی میں تو ساری چیزیں بکتی ہیں، اپروو پلان ہو یا لیز سب بکتا ہے ، گلاس ٹاور کے اوپر تو صرف دو فلور تھے ، آپ کے پلاٹ کو جہاں رکنا چاہیے تھا وہ آگے چلا گیا۔جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ اپنا ٹائٹل ثابت نہیں کرسکے ، سندھی مسلم کے پاس لیز کا اختیار ہی نہیں تھا، سندھی مسلم آپ کو روڈ کیسے الاٹ کرسکتا ہے ؟ سوال یہ ہے کہ 780 گز سے 1044 گز کیسے ہوگیا ،یہاں سروس روڈ ہی ختم کردیا گیا، سامنے سروس روڈ موجود ہے ۔چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا کہ ہم نے تمام دستاویزات کا جائزہ لے کر فیصلہ کیا ہے ۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ کیا آپ نسلہ ٹاور کو جزوی طور پر گرا سکتے ہیں ؟ اگرآپ جزوی قبضے والی جگہ گرا سکتے ہیں تو گرا دیں، اب آپ بلڈنگ بنا کر یہ سارے دلائل دے رہے ہیں۔ منیر اے ملک نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہی کریں گے تو پورا کراچی گرانا پڑے گا۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ تو آپ کو کیا تکلیف ہے پھر ؟ منیر اے ملک نے کہاکہ میرا اور آپ کا گھر بھی اسی شہر میں ہے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ اگر میرا گھرغیر قانونی سمجھتے ہیں تو وہ بھی گرا دیں۔منیر اے ملک نے کہا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے ایک زمانے میں یہ زمین دی۔ جسٹس اعجازالاحسن نے کہا یہ مغلوں کا زمانہ تو نہیں، وزیراعلی ٰ کچھ بھی کرے ۔الاٹیز کے وکیل نے کہا کہ ہمیں بھی سنا جائے ،جسٹس اعجاز الاحسن نے کہا کہ ہم نے آپ کو راستہ دیا ہے ، آپ کو مارکیٹ ویلیو کے حساب سے پیسے مل جائیں گے ۔ دریں اثنا سپریم کورٹ نے جیکب آباد میں دو دن میں تمام غیر قانونی تعمیرات اور قبضے ختم کرکے اصل حالت میں بحال کرکے رپورٹس جمع کرانے کا حکم دیدیا۔ چیف جسٹس نے آبزرویشن دیتے ہوئے کہا کہ ایس پی شمائل ریاض کو فوری معطل ہونا چاہئے ۔ عدالت نے ایک ہفتے میں آئی جی سندھ سے رپورٹ طلب کرلی۔ رفاحی پلاٹس پر قائم ہسپتالوں کو کمرشل بنیادوں پر چلانے سے متعلق کیس کی بھی سماعت ہوئی۔چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے ساؤتھ سٹی میں تو بڑے بڑے لوگ داخل ہوتے ہیں۔ وزرا اور بااثر شخصیات سبھی وہیں جاتے ہیں، بعد میں شراب کی بوتلیں بھی وہیں سے ملتی ہیں۔چیف جسٹس کے ریمارکس پر عدالت میں قہقہہ لگا۔ عدالت نے رفاحی پلاٹس کا کمرشل استعمال کرنے پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ، ضیا الدین اور ساؤتھ سٹی ہسپتال، ڈی جی کے ڈی اے ، کمشنر کراچی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے تمام فریقین سے جامع رپورٹ طلب کرلی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement