نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ڈونلڈ بلوم پاکستان میں امریکا کےنئے سفیر تعینات،وائٹ ہاؤس
  • بریکنگ :- صدر بائیڈن نےڈونلڈ بلوم کو پاکستان میں سفیر نامزد کردیا،وائٹ ہاؤس
  • بریکنگ :- ڈونلڈ بلوم اس سےقبل تیونس میں امریکا کےسفیر تعینات رہے
Coronavirus Updates

منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف، حمزہ کیخلاف ثبوتوں کے 5 صندوق عدالت پیش

منی لانڈرنگ کیس: شہباز شریف، حمزہ کیخلاف ثبوتوں کے 5 صندوق عدالت پیش

دنیا اخبار

ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کررہے ،سوالات کرتے ہیں تو وہی پرانی کہانیاں سنائی جا تی ہیں،ایف آئی اے ، افسران جھوٹ بول رہے ،مجھ سے بدتمیزی کی گئی:شہبازشریف ، عبوری ضمانتوں میں 9اکتوبر تک توسیع

لاہور (کورٹ رپورٹر، نمائندہ دنیا )لاہور کی بینکنگ عدالت نے منی لانڈرنگ کیس میں ایف آئی اے کے مقدمات میں شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں میں 9اکتوبر تک توسیع کردی ۔ بینکنگ جرائم عدالت لاہور کے جج نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف اور حمزہ شہباز کی عبوری ضمانتوں پر سماعت کی ، دوران سماعت ملزموں کے وکیل عدالت پیش نہ ہوئے اور کارروائی ملتوی کرنے کی استدعا کی، دوران سماعت ایف آئی اے کے ڈائریکٹر محمد رضوان نے شواہد سے بھرے پانچ بکس عدالت میں پیش کردیئے ۔ڈائریکٹر ایف آئی اے نے عدالت کو بتایا کہ رمضان شوگر ملز کے 20 لوئر سٹاف کے نام 57اکاؤنٹس بنائے گئے جن میں 55ہزار سے زائد ٹرانزیکشنز ہو ئیں ،ایسے ظاہر کیا جاتا تھا کہ جیسے یہ لین دین کے پیسے ہیں، ان لوگوں کو اس پیسے کا معلوم بھی نہیں ہوتا تھا، 20 ملازمین کے 57 اکاؤنٹس کا ایف آئی اے پتا لگا چکی ہے جبکہ 55 ہزار 498 ٹرانزیکشنز کو ایف آئی اے دیکھ رہی ہے ۔ عدالت نے استفسار کیا کہ ایف آئی اے کو تفتیش مکمل کرنے کے لیے کتنا وقت درکارہے جس پر ایف آئی اے نے ملزموں پر عدم تعاون کا الزام لگایا کہ اور کہا ملزم شروع دن سے ہی تفتیش میں تعاون نہیں کر رہے ہم سوالات کرتے ہیں تو ہمیں وہی پرانی کہانیاں سنائی جا تی ہیں۔ڈائریکٹر ایف آئی اے لاہور زون ڈاکٹر محمد رضوان نے کہاکہ غریب اور مجبور ملازمین کے اکائونٹس کو کم از کم 25 ارب روپے کی کرپشن چھپانے کے لئے استعمال کیا گیا۔ان کا کہنا تھا شہباز شریف کو یہ تک یاد نہیں کہ ان کے خاندانی کاروبار حمزہ شہباز یا سلمان شہباز چلاتے تھے ۔ حمزہ شہباز کو بھی یہ تک یاد نہیں کہ ان کے اکائونٹ میں کروڑوں روپے کا کیش کون جمع کرواتا رہا۔بینک بھی تحقیقات میں تعاون نہیں کر رہے ۔ تحقیقات میں تعاون کا واضح حکم دیا جائے ۔شہباز شریف نے روسٹرم پر آکر کہا کہ افسوس کی بات ہے کہ ایف آئی اے کے سینئر افسر جھوٹ بول رہے ہیں، میں اس شوگر مل کا ڈائریکٹر نہیں، نہ ہی تنخواہ لیتا ہوں۔شہباز شریف کا کہنا تھا کہ میرے وکیل نے ایف آئی اے کو مناسب جواب بھجوا دیا ، ایف آئی اے نے جس دن مجھے بلایا اس دن بد تمیزی کی، شہباز شریف نے کہا کہ میں ایک بات کہنا چاہتا ہوں، مجھے بولنے کی اجازت دی جائے جس پر جج نے کہا کہ آپ کو اب بولنے کی اجازت نہیں، آپ کو ایک بار سن لیا، اب آپ خاموش رہیں۔عدالت نے ملزموں کو ایف آئی اے سے تعاون کرنے کی ہدایت کرتے ہوئے عبوری ضمانتوں میں 9اکتوبر تک توسیع کردی ۔ادھر بینکنگ کورٹ نے شہباز شریف خاندان کے لیے جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کے کیس میں ملزم اظہر محمود کی عبوری ضمانت میں 29 ستمبر تک توسیع کر دی۔ جعلی بینک اکاؤنٹس کھولنے کے الزام میں گرفتار ملزم عاصم سوری کی ضمانت پر سماعت 29 ستمبر تک ملتوی کر دی گئی ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement