نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- بلوچستان کےضلع کیچ میں سیکیورٹی فورسزکی چوکی پردہشتگردوں کاحملہ
  • بریکنگ :- پاک فوج کی جانب سےموثرجوابی کارروائی،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- فائرنگ کےتبادلےمیں سپاہی محمدقیصرشہید،آئی ایس پی آر
  • بریکنگ :- دہشتگردوں کی تلاش کیلئےعلاقےمیں سرچ آپریشن جاری،آئی ایس پی آر
Coronavirus Updates

عمران خان جادوٹونے سے ملک چلارہے ہیں:مریم نواز

عمران خان جادوٹونے سے ملک چلارہے ہیں:مریم نواز

دنیا اخبار

نواز شریف بننے کی کو شش نہ کر یں ، کھال پہن کر کوئی شیر نہیں بن جاتا

اسلام آباد(اپنے نامہ نگارسے ،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک)مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا آئینی وزیراعظم کو جو حقوق حاصل ہیں اس میں کوئی دو رائے نہیں، عمران خان آئینی اور منتخب وزیراعظم نہیں ، نوازشریف کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر وزیراعظم کی کرسی پر قابض ہیں، وہ آئین اور قانون کے تحت معاملات نہیں چلا رہے ، جادو ٹونے سے ملک چلا رہے ہیں ،جنات ٹائمنگ اور طوطا فال کے ذریعے تقریریوں سے ملک کی جگ ہنسائی ہو رہی ہے ،عمران خان نواز شریف بننے کی کو شش نہ کر یں ، کھال پہن کر کوئی شیر نہیں بن جاتا ،ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہائیکورٹ میں پیشی کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، کمرہ عدالت میں غیررسمی گفتگو میں انہوں نے کہا سوال آپ لوگ کرتے ہیں نیب مجھے چارج شیٹ کرتا ہے ، نیب عدالت سے درخواست کرتا ہے میری ضمانت منسوخ کریں،ضمانت منسوخی درخواست کا کیا ہونا ہے یہ تو عدالت طے کریگی،میں دیکھنا چاہتی ہوں نیب میں میرا ہمدرد کون ہے ،نیب کہتا ہے کہ میں یہاں آ کر سلام کیوں کرتی ہوں، ضمانت منسوخی سے متعلق سوال پر مریم نواز نے کہاکہ ججز بتائیں گے کہ اس پر کیا کرنا ہے ، بعدازاں ہائیکورٹ کے باہر میڈیاگفتگو کے دوران کارکنوں کے شورپر مریم نواز نے برہمی کااظہار کرتے ہوئے انہیں خاموش ہونے کی ہدایت کی اور کہانیب کی درخواست میں کہا گیا کہ میں کیسی آتی کیسے جاتی ہوں،اس شخص کا چہرہ عوام کے سامنے لانا چاہیے ،درخواست دینے والے کو 21 نہیں 22 توپوں کی سلامی دینی چاہیے ،میری درخواست کا نیب کے پاس کوئی جواب نہیں، درخواست دینے والوں کو پتا ہونا چاہیے کہ میں ڈرنے والی نہیں،اگر ان کو لگتا ہے کہ میں ڈر گئی تو بھول ہے ، سچ کو ایک دن سامنے آنا ہے ، وہ دن دور نہیں جب سچ کا سورج طلوع ہوگا، نواز شریف نے اپنا مقدمہ اللہ کے سامنے رکھا، میری درخواست پر جب دلائل ہونگے تو دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہوگا،اگر اپنا نقطہ پیش کرنے کیلئے اور درخواست دینا پڑی تو دینگے ،انہوں نے کہا وزیراعظم کو آئین کے تحت جو حقوق حاصل ہیں،اس پر دو رائے نہیں،عمران خان آئینی نہ ہی منتخب وزیراعظم ہیں،نواز شریف کے مینڈیٹ پر ڈاکا ڈال کر عمران خان وزیراعظم بنے ، عمران خان کی نہ آئینی نہ اخلاقی حیثیت ہے ،عمران خان طوطا فال وزیر اعظم ہیں،یہ اہم تقرریاں جادو ٹونے سے کرتے ہیں، جادو ٹونا اتنا ہی کامیاب ہے تو عوام کی بھلائی کیلئے استعمال کیوں نہیں کرتے ؟جنتر منتر اتنا کامیاب ہے تو پٹرول، ڈیزل، آٹا، سستا کریں، جب آپ جنات کے ذریعے یہ سب کریں تو یہ ہی ہو گا، جنات کچھ اور کہہ رہے ہیں اور آپ کا حساب کچھ اور، ایسے لوگوں پر ہنسی آتی ہے ، اگریہی طریقہ رہا تو ملک کا اللہ ہی حافظ ہے ۔کیا قوم کو بے وقوف سمجھ رکھا ہے ؟ آج آپ کو ووٹ کو عزت دو یاد آگئی ہے ، عمران خان کو نواز شریف بننے کی کوشش بھی نہیں کرنی چاہیے کیونکہ نواز شریف منتخب وزیراعظم تھے اور عوام کے ووٹ کی طاقت سے آئے تھے ، عمران خان کی سیاسی پہچان کیا ہے ؟ اور سیاسی تشخص کیا ہے ؟ عمران خان کی پہچان منتخب وزیراعظم کے خلاف سازش کرنا اور 126 دن کا دھرنا دینا ہے ، نوکری چاکری کرنے والے کو صرف نوکری اور چوکری کرنی چاہیے نواز شریف نہیں بننا چاہیے ۔عمران خان کا اصول اور جمہوریت سے کوئی لینا دینا نہیں ہے ، عمران خان کو سیاسی شہید بننے نہیں دیں گے اور انہیں اپنی سازشوں کا جواب دینا ہوگا، کرپشن سکینڈلز کا حساب دینا پڑیگا، تاریخی قرضوں کے باوجود ایک اینٹ نا لگانے پر جواب دینا پڑیگا،ن لیگ کی جدوجہد عمران خان جیسے شخص کے خلاف ہے ،آئینی اور وزیراعظم کے اختیارات کا مسئلہ نہیں اپنی حکومت کو مہلت دینے کا مسئلہ ہے ،پورا پاکستان کا تماشا بن گیا ہے ،ایک شخص کی تقرری سے ملکی وقار تباہ کیا،کیا عوام کو بے وقوف سمجھ رکھا ہے ،آج عمران خان کو بھی ووٹ کی عزت کا خیال آگیا،نواز شریف عوام کے ووٹ سے اقتدار میں آیا،نواز شریف نے آئین کے تحفظ کیلئے حکومت کی قربانی دی،ووٹ کی عزت کیلئے جیلیں برداشت کرنا پڑتی ہیں، جھوٹے کیسز ، جلاوطنی برداشت کرنا پڑتی ہے ،بے گناہ بیٹی کو اٹک قلعے میں جاتا دیکھنا پڑتا ہے ،انہوں نے کہا ہماری جدوجہد ہے کہ آئندہ کوئی بھی عمران خان کی طرح پپٹ وزیراعظم نہ بنے ، نواز شریف کے نظریے کے پیچھے عوام کی طاقت تھی،پی ڈی ایم میں کوئی اختلاف نہیں،پی ڈی ایم میں تمام سیاسی جماعتیں ایک ایجنڈے پر قائم ہیں۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement