نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اپوزیشن اورناراض ارکان کابلوچستان اسمبلی کےدروازےکےسامنے دھرنا
  • بریکنگ :- کوئٹہ:4ارکان کاپتہ نہ چلنےتک دھرناجاری رہےگا، ارکان اسمبلی
Coronavirus Updates

مریم کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

مریم کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر

دنیا اخبار

اسلام آباد ہائیکورٹ کا خصوصی بینچ نیب کی درخواست پر سماعت کریگا

اسلام آباد(اپنے خبرنگار سے ، دنیا نیوز)ایون فیلڈ ریفرنس میں پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کی ضمانت منسوخی کی درخواست سماعت کیلئے مقرر کر دی گئی۔جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر پر مشتمل خصوصی بینچ نیب کی درخواست پر سماعت کرے گا۔ وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے بتایا کہ نیب ریفرنس میں قانون کی سنگین خلاف ورزیاں کی گئیں، مریم نواز کے ساتھ زیادتی ہوئی، بری کیا جائے ۔اپنے دلائل میں عرفان قادر نے کہاکہ پری ٹرائل سٹیج پربہت سارے ایسے واقعات ہوئے جس سے شکوک و شبہات پیداہوئے ، پانامہ ریفرنسز میں بہت بڑی غلطی ہوئی، نواز شریف جب سیاست میں آئے اس سے پہلے بھی ان کا خاندان بہت امیر تھا۔ عرفان قادر نے قرآن و سنت کے حوالہ جات دیتے ہوئے کہاکہ نیب نے 30روز میں کیس مکمل کرنے کی درخواست دی اور اب میری موکلہ کی درخواست ضمانت خارج کرنے کیلئے درخواست دائر کردی گئی، جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ ضمانت خارج کیس تو اب سامنے نہیں، جب سامنے ہوتو دیکھاجائے گا، سب سے پہلے آپ درخواست کے قابل سماعت ہونے پر دلائل دیں، وکیل نے کہاکہ احتساب عدالت کے سامنے دائر ہ اختیار رکھا ہی نہیں گیا،ریفرنس جب دائرہ ہوا تو قانونی طریقہ کار پر عملدرآمد نہیں کیا گیا،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ 561 اے کو ہم زیادہ ایکسرسائز کرسکتے ہیں، وکیل نے کہاکہ 561 اے بالکل غیر معمولی حالات میں ہوگا،اگر عدالت سمجھتی ہے کہ یہ ایڈیشنل گراؤنڈ ہے تو پھر عدالت فیصلہ کرے ،جسٹس محسن اخترکیانی نے کہاکہ ہم یہ تو نہیں کرسکتے کہ 561 اے کا فیصلہ الگ ہوگا اور کریمنل اپیل کا فیصلہ الگ ہوگا، وکیل نے کہاکہ میں کیس کی تفصیل میں نہیں جاتا اسی وجہ سے چیدہ چیدہ نکات بیان کرونگا۔اپنے دلائل میں انہوں نے کہا کہ مریم نواز پراپرٹیز کی بینیفشل اونر ہیں اس کا کوئی ثبوت عدالت میں پیش ہی نہیں کیا گیا، نواز شریف یا مریم کا ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کی ملکیت سے متعلق بھی کوئی ڈاکومنٹ موجود نہیں ۔ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب سردار مظفر عباسی نے کہاکہ یہ اپارٹمنٹ آف شور کمپنی نیلسن اور نیسکول کے ذریعے خریدے گئے ۔جسٹس عامرفاروق نے کہاکہ ان آف شور کمپنیوں سے اپیل کنندگان کا تعلق کیسے بنتا ہے ؟ عرفان قادرکا کہنا تھا کہ کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا تو کوئی کردار ہی نہیں مگر انہیں بھی ملزم بنا دیا گیا،مریم نواز پبلک آفس ہولڈر نہیں تھیں،ان میں پبلک آفس ہولڈر بننے کی صلاحیت موجود اور لوگ اس بات کے معترف ہیں،عرفان قادر کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے نیب کو آئندہ سماعت پرجوابی دلائل دینے کی ہدایت کرتے ہوئے سماعت 17 نومبر تک ملتوی کردی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement