نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اسلام آباد:بھارتی ناظم الامورکی دفترخارجہ طلبی
  • بریکنگ :- پونچھ سیکٹرمیں بھارتی افواج کی حراست میں پاکستانی شہری ضیامصطفیٰ کے قتل پراحتجاج
  • بریکنگ :- پاکستانی قیدی کاجیل سےدورپراسرارقتل سنگین سوالات اٹھاتاہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- بھارت کاماورائےعدالت قتل کایہ پہلاواقعہ نہیں ہے،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- پاکستانی اورکشمیری قیدیوں کےماورائےعدالت قتل کی مذمت کرتےہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت واقعہ کی شفاف تحقیقات کرکےانصاف کویقینی بنائے،ترجمان
  • بریکنگ :- بھارت پاکستانی قیدیوں کی رہائی یاوطن واپسی تک ان کی حفاظت یقینی بنائے،ترجمان
Coronavirus Updates

سپیکر سندھ اسمبلی کی ضمانت مسترد، گرفتار ی کیلئے چھاپہ

سپیکر سندھ اسمبلی کی ضمانت مسترد، گرفتار ی کیلئے چھاپہ

دنیا اخبار

نیب ٹیم رات گئے تک گھرکے باہر موجود تاہم حامیوں نے اندر داخل نہ ہونے دیا

کراچی (سٹاف رپورٹر، دنیا نیوز)سندھ ہائی کورٹ نے آمدن سے زائد اثاثوں اور اختیارات کے ناجائز استعمال سے متعلق ریفرنس میں سندھ اسمبلی کے اسپیکر سمیت 12 ملزمان کی ضمانت مسترد کر دی ہے ۔ سندھ ہائی کورٹ سے ضمانت مسترد کیے جانے کے بعد نیب کی ٹیم آغا سراج درانی کو گرفتار کرنے ان کے گھر پہنچ گئی۔ بعد میں اضافی نفری طلب کر لی گئی، گھر پر آغا سراج درانی کے حامیوں کی آمد جاری تھی۔ آغا سراج درانی کے عزیز آغا اسد نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ فیملی گھر میں موجود ہے ۔ چادر اور چار دیواری کا تقدس پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ سپیکر کے حامیوں نے نیب کی ٹیم کو گھر میں داخل نہ ہونے دیا تاہم رات گئے تک نیب ٹیم گھر کے باہر موجودرہی۔ جسٹس ندیم اختر اور جسٹس اقبال کلہوڑو نے گزشتہ ہفتے فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ عدالت نے آغا سراج درانی کی اہلیہ، بیٹا، تین بیٹیوں اور ایک شریک ملزم کی درخواست ضمانت منظور کر لی۔ تحریری فیصلے کے مطابق آغا سراج درانی سمیت 12 ملزمان کی ضمانتیں مسترد ہوئیں۔ جن کی ضمانت مسترد ہوئی ہے ان میں ذوالفقار علی ڈہر، شمشاد خاتون، منور علی، غلام مرتضیٰ، محمد عرفان، شکیل احمد سومرو، گل بہار لوہار بلوچ، طفیل احمد شاہ، میٹھا خان اور سید محمد شاہ شامل ہیں۔ جن کی ضمانت کی توثیق کی گئی ہے ان میں ناہید درانی، شاہانہ درانی، سارہ درانی، آغا شہباز درانی اور شریک ملزم اسلم پرویز لانگا شامل ہیں۔ فیصلے کے مطابق نیب نے آغا سراج درانی کی آمدن اور اثاثوں میں ایک ارب 60 کروڑ سے زائد کا فرق بتایا ہے ۔ 16 صفحات پر مشتمل فیصلہ جسٹس اقبال محمد کلہوڑو نے تحریر کیا۔ آغا سراج درانی سے متعلق کئی بے نامی جائیدادوں کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ بینک لاکرز سے غیر ملکی کرنسی، قیمتی گھڑیاں، قیمتی اشیاء ملیں۔ نیب نے آغا سراج کے 1985 ء سے 2018 ء تک کے اثاثوں کی تحقیقات کی۔ بے نامی جائیدادوں کا تعلق آغا سراج درانی کے ڈرائیورز اور دیگر ملازمین سے بتایا گیا۔ جن جائیدادوں کی تفصیلات پیش کی گئیں وہ سب آغا سراج درانی سے تعلق رکھتی ہیں۔ کیس کا حتمی فیصلہ ٹرائل کورٹ ہی کرے گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement