نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس کل ہوگا
  • بریکنگ :- ملکی سیاسی،معاشی اورسیکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیاجائےگا
  • بریکنگ :- کابینہ اجلاس میں 13 نکاتی ایجنڈےپرغورکیاجائےگا،ذرائع
  • بریکنگ :- وفاقی کابینہ کومعاشی اشاریوں سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- وزارتوں،ڈویژنزمیں سی ای اوزاورایم ڈیزکی خالی اسامیوں سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- کابینہ نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2019 کےقانون میں ترمیم کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ای اوبی آئی کےچیئرمین کی کنٹریکٹ پرتعیناتی کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ذیلی کمیٹی برائےادارہ جاتی اصلاحات کےفیصلوں کی توثیق کرےگی
  • بریکنگ :- وفاقی کابینہ ذیلی کمیٹی برائےتوانائی کےفیصلوں کی بھی توثیق کرےگی
Coronavirus Updates

وزیراعظم ، آرمی چیف کورونا اجلاس میں ایک ساتھ : سپہ سالارکو ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی بریفنگ

وزیراعظم ، آرمی چیف  کورونا اجلاس میں ایک ساتھ : سپہ سالارکو ڈی جی آئی ایس آئی فیض حمید کی بریفنگ

دنیا اخبار

عمران خان ،جنرل قمر باجوہ کا این سی او سی کا دورہ ، وائرس کاپھیلاؤ روکنے کے اقدامات سے آگاہ کیا گیا،سپہ سالا ر آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز گئے ، امریکی ناظم الامورجنرل باجوہ سے ملیں، افغان صورتحال ، دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال، وزیر اعظم ، آرمی چیف میں بھی ملاقات ہوئی،فواد

اسلام آباد،لاہور(سیا سی رپورٹر،خصوصی رپورٹر، وقائع نگار،نیوز ڈیسک،اے پی پی )وزیر اعظم اور آرمی چیف نے پیر کے روز ایک ساتھ این سی اوسی کا دورہ کیا جہاں کورونا پر اجلاس میں انہیں بریفنگ دی گئی جبکہ جنرل قمر باجوہ نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں ڈی جی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان کا استقبال کیا اور بریفنگ دی ۔ امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر نے بھی آرمی چیف سے ملاقات کی۔وزیر اطلاعات فواد چودھری کے مطابق پیر کے روز وزیر اعظم اور آرمی چیف میں بھی ملاقات ہوئی۔ تفصیل کے مطابق وزیراعظم عمران خان اور پاک فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کو نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر (این سی او سی) کا دورہ کیا۔اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم اور آرمی چیف کے دورے کے دوران اجلاس میں ڈائریکٹر جنرل نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سنٹر میجر جنرل آصف محمود گورائیہ نے کورونا وائرس کی صورتحال پر بریفنگ دی۔ کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کئے گئے اقدامات پر بھی وزیراعظم اور آرمی چیف کو بریفنگ دی گئی۔ اس موقع پر اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید اور وفاقی وزیر اسد عمر بھی شریک تھے ۔ این سی اوسی کے مطابق کورونا کے سدباب، ویکسین کی فراہمی اور مینجمنٹ سٹریٹجیز پر بھی روشنی ڈالی گئی ۔ وزیراعظم نے کوروناکی روک تھام کیلئے این سی اوسی کی کاوشوں کو سراہا۔ عمران خان نے صوبوں اور دیگراداروں کی کورونا سے بچاؤ کیلئے کوششوں کی بھی تعریف کی۔این سی اوسی کے مطابق وزیراعظم نے ویکسی نیشن کے لازمی عمل کی تکمیل کیلئے تمام فریقین کو بھرپور اقدامات کی ہدایت کی۔ عمران خان کا کہنا تھا کہ این سی اوسی نے کورونا کیخلاف قوم کی جنگ میں اہم کردار ادا کیا۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پیر کو انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے ان کا استقبال کیا۔اس موقع پر ڈی جی نے چیف آف آرمی سٹاف کو داخلی سلامتی اور افغانستان کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں بریفنگ دی ۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے ادارے کی تیاریوں پر اپنے مکمل اطمینان کا اظہار کیا ۔دریں اثنا پاکستان میں امریکی ناظم الامور انجیلا ایگلر نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، اس دوران باہمی دلچسپی کے امور ، افغانستان کی موجودہ سکیورٹی صورتحال اور مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔آئی ایس پی آرکے مطابق اس موقع پر آرمی چیف نے کہا پاکستان دوطرفہ تعلقات کی روایت کو برقرار رکھنے اور امریکا کے ساتھ پائیدار تعلقات کا خواہاں ہے ۔ آرمی چیف نے انسانی بحران سے بچنے اور افغان عوام کی معاشی ترقی کیلئے مربوط کوششوں کیلئے افغانستان کے معاملے پر عالمی سطح پر یکجا ہونے کی ضرورت کا بھی اعادہ کیا۔ امریکی ناظم الامور نے افغان صورتحال ، علاقائی استحکام کیلئے پاکستان کی کوششوں کو سراہا اور پاکستان کے ساتھ ہر سطح پر سفارتی تعاون میں مزید بہتری کیلئے اپنا کردار ادا کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری نے کہا ہے وزیراعظم اورآرمی چیف کی ملاقاتیں ہوتی رہتی ہیں،یہ کوئی انہونی بات نہیں ہے ۔ کیلی گرافی نمائش کی افتتاحی تقریب سے خطاب اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا پیر کو بھی وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات ہوئی، سارے معاملات طے ہوچکے ہیں کوئی ایسی ایشووالی بات نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کو جب پتہ چلے کہ فوج اور حکومت میں اختلاف ہو گیا ہے تو یہ سی وی لے کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور جب معلوم ہوتا ہے کہ ڈیل نہیں ہوئی تو پھر یہ فوج کے خلاف باتیں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا اپوزیشن کا کام ہی یہی ہے ہرکام میں لٹ گئے ،برباد ہوگئے کرنا ہے ،ہم کوئی علیحدہ سیارے پر نہیں رہتے پوری دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپرجارہی ہیں،اگردنیا میں تیل کی قیمتیں کم ہونگی توپاکستان میں بھی کم ہوجائیں گی،ہروقت لوگ سیاسی شعبدہ بازی میں لگے رہتے ہیں،ایسے سیاسی شعبدہ بازوں کولوگ مذاق کے طورپرلیتے ہیں،شہبازشریف،احسن اقبال سمیت سارے لوگ یا توتیل کی قیمتوں کونیچے کرنے کا کوئی حل بتادیں ،مجھے بڑا افسوس ہوا قومی اسمبلی میں سیرت نبوی پرتقریریں ہونا تھیں،اپوزیشن سیشن کا ہی بائیکاٹ کرکے چلی گئی،اپوزیشن کوتواحتجاج کرنے کا بہانہ چاہیے ۔فواد نے کہا اپوزیشن کی دکان پہلے چلی نہ اب چلے گی، اپوزیشن کی کوئی سیاسی سوچ نہیں، صبح سے رات تک عمران خان کو برا بھلا کہنے سے یہ اقتدار میں نہیں آ سکتے ، اپوزیشن الیکٹورل ریفارمز اور نیب قوانین سمیت بڑی اصلاحات پر ہمارے ساتھ مل بیٹھے ، ہم بات کرنے کو تیار ہیں، اگر ان کا مقصد اپنے کیسز ختم کرانا ہے تو اس پر بات نہیں ہوسکتی۔انہوں نے کہا مولانا فضل الرحمن کو مشورہ ہے کہ وہ اب لوگوں کے جلسوں کے لئے رینٹ کا کام کریں، انہیں جتنا استعمال ہونا تھا ہو چکے ہیں، اب ان کی اہمیت نہیں رہی، اس وقت گھی، گندم اور بجلی پر سبسڈی دی جا رہی ہے ، پورا ملک سبسڈی پر نہیں چلایا جا سکتا، اس سال ہم نے 12 ارب ڈالر قرضہ واپس کرنا ہے ۔ علاوہ ازیں پاکستان میں جاپان کے سفیر کونینوری متسودا نے پیر کووزیر اعظم عمران خان سے ملاقات کی۔وزیر اعظم نے جاپان کیساتھ معاشی ، تجارتی ترقی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا پاکستان جاپان کے ساتھ باہمی اعتماد اور افہام و تفہیم پر مبنی دو طرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتا ہے ۔وزیراعظم نے سفیر کو پاکستان میں اپنی مدت پوری کرنے پر مبارکباد دی اور مستقبل کی ذمہ داریوں کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔سفیر نے جاپان کے نو منتخب وزیر اعظم فومیو کیشیدا کو خط لکھنے پر وزیراعظم عمران خان کا شکریہ ادا کیا۔علاقائی تناظر میں عمران خان نے کہا پرامن اور مستحکم افغانستان پاکستان اور خطے کے مفاد میں ہے ۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ نئی افغان انتظامیہ کے ساتھ مثبت رابطے رکھے ،فوری انسانی امداد بحال اور افغانستان کے منجمد اثاثوں کی ریلیز سمیت اقتصادی تباہی کو روکنے کے لیے اقدامات کرے ۔ انہوں نے قومی مفاہمت اور ایک جامع سیاسی ڈھانچے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔جاپانی سفیر نے جاپانی اور دیگر شہریوں کو افغانستان سے نکالنے میں سہولت فراہم کرنے پر حکومت پاکستان کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement