نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت وفاقی کابینہ کااجلاس کل ہوگا
  • بریکنگ :- ملکی سیاسی،معاشی اورسیکیورٹی صورتحال کاجائزہ لیاجائےگا
  • بریکنگ :- کابینہ اجلاس میں 13 نکاتی ایجنڈےپرغورکیاجائےگا،ذرائع
  • بریکنگ :- وفاقی کابینہ کومعاشی اشاریوں سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- وزارتوں،ڈویژنزمیں سی ای اوزاورایم ڈیزکی خالی اسامیوں سےمتعلق بریفنگ دی جائےگی
  • بریکنگ :- کابینہ نیشنل ایوی ایشن پالیسی 2019 کےقانون میں ترمیم کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ای اوبی آئی کےچیئرمین کی کنٹریکٹ پرتعیناتی کی منظوری دےگی
  • بریکنگ :- کابینہ ذیلی کمیٹی برائےادارہ جاتی اصلاحات کےفیصلوں کی توثیق کرےگی
  • بریکنگ :- وفاقی کابینہ ذیلی کمیٹی برائےتوانائی کےفیصلوں کی بھی توثیق کرےگی
Coronavirus Updates

اداروں کے سربراہوں کیخلاف نعرے لگانا قومی مفاد کیخلاف : شہبازشریف

اداروں کے سربراہوں کیخلاف نعرے لگانا قومی مفاد کیخلاف : شہبازشریف

دنیا اخبار

نعرے لگانے والوں کا پارٹی سے کوئی تعلق نہیں،سلیکٹڈ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو تالا لگا دیا، حکومت جانے کا وقت آ گیا ، آئی ایم ایف کی قومی اداروں کے بینک اکاؤنٹس بارے شرائط خطرے کی گھنٹی ،اپوزیشن لیڈر کی میڈیا سے گفتگو، بیان

لاہور( سیاسی رپورٹر سے ، سپیشل رپورٹر ، نیوز ایجنسیاں )مسلم لیگ (ن) کے صدر شہبازشریف نے کہاہے کہ فیصل آباد میں جس نے نعرے لگائے اس کا مسلم لیگ (ن) سے کوئی تعلق نہیں،عوامی جلسوں میں اداروں کے سربراہوں کے خلاف نعرے لگانا قومی مفاد کے خلاف ہے ، آج مہنگائی پاکستان کا نمبر ون مسئلہ ہے ، اپوزیشن نے اس کے خلاف کمر کس لی ، حکومت کے جانے کا وقت آ گیا اور اس حکومت کو مزید برداشت نہیں کریں گے ،قوم کی بد قسمتی ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو تالا لگا دیا، ہر چیز آرڈیننس پر چل رہی ہے ،جو لوگ آئندہ وزیر اعظم کے حوالے سے مسلم لیگ (ن)میں اختلاف دیکھ کر دل پشوری کرنا چاہتے ہیں ان کویہ موقع کبھی نہیں ملے گا ۔ان خیالات کااظہارانہوں نے مسعودہ نصیر ویلفیئر ٹرسٹ کے زیر اہتمام تقریب میں شرکت کے موقع پر خطاب اور میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ شہبازشریف نے کہا کہ کسی بھی ملک کے دفاع و سلامتی کیلئے مضبوط فوج ناگزیرہے ، ادارے میں تقرر و تبادلے ان کا اپنا معاملہ ہے ،فیصل آباد میں جو نعرے لگے ہیں اس کا مسلم لیگ (ن)سے کوئی تعلق ہے نہ ہی وہ پارٹی کا کارکن یاکوئی عہدیدار تھا، اداروں کے سربراہوں کے خلاف نعرے نہیں لگنے چاہئیں، یہ قومی مفاد کے خلاف ہے ،کسی بھی ملک کے دفاع وسلامتی کیلئے مضبوط پیشہ وارانہ فوج ناگزیر ہے ،ملکی دفاع اورامن و سلامتی کیلئے مضبوط فوج بنیادی چیزہے ۔انہوں نے کہاکہ قوم کی خواہش ہے افغانستان میں امن قائم ہو ،(ن) لیگ سمیت قوم کسی بھی بین الاقوامی سازش کوکامیاب نہیں ہونے دے گی ،دفاع پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ میں آئین کی حکمرانی ،خارجی و داخلی معاملات طے ہوتے ہیں لیکن بدقسمتی ہے کہ سلیکٹڈ وزیراعظم نے پارلیمنٹ کو تالا لگا رکھا ہے ،معیشت کو نڈھال و برباد کر دیا، ڈالر 175کی اڑان کو پہنچ چکا ہے ،اگر یہی حالت رہی تو سب اکٹھے بھی ہو جائیں تو ملک کو خراب حالات سے نہیں بچا سکتے ۔ انہوں نے کہاکہ مہنگائی نمبر ون مسئلہ ہے ، اپوزیشن اس کے خلاف نکل کھڑی ہوئی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سنا ہے وزیر اعظم 80افراد کا وفد لے کر سعودی عرب گئے ،جو بجلی ،گیس، پٹرول مہنگا ہونے پر کہتے تھے کہ وزیر اعظم کرپٹ ہے آج ان کے دورمیں مہنگائی کے حالات بدترین ہو چکے ہیں،74سال میں دیکھتی آنکھ نے ایسا دل خراش منظر نہیں دیکھا ،آج لوگ فاقہ کشی کررہے ہیں ،اس حکومت کو عوام اورنہ کوئی اور برداشت کرے گا ،انہیں عوام کے سامنے بے نقاب کریں گے ۔انہوں نے کہاکہ ہم نے اپنے دور میں ڈینگی کو کنٹرول کیا ،صبح سے لے کر شام تک ہم ڈینگی کو کنٹرول کرنے کیلئے میدان میں نکلے ۔ دوسری طرف اپنے ایک بیان میں شہبازشریف نے حکومت کو معاشی تباہی اور مہنگائی کے ذریعے قومی سلامتی خطرے میں ڈالنے کا مجرم قرار دے دیا۔ گزشتہ روز اپنے بیان میں انہوں نے کہاکہ پاکستان کی معیشت، عوام اور موجودہ حکومت میں سے ایک کو چننا ہوگا، اس حکومت کا ایک ایک منٹ پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان دے رہا ہے ۔ مہنگائی کنٹرول کرنے کا اعلان کر کے اشیائے خورونوش کی قیمتیں مزید بڑھا دیں، یہ ہے اس حکومت کا احساس اور وعدہ؟ قائد حزب اختلاف نے کہاکہ ایک بار پھر میری بات سچ ثابت ہوئی کہ یہ حکومت عوام اور آئی ایم ایف دونوں کو دھوکہ دے رہی ہے ، جھوٹ بول رہی ہے ۔ اگر آئی ایم ایف کے ساتھ شرائط طے نہیں ہوئیں، مذاکرات آگے نہیں بڑھے تو پھر قیمتوں میں اضافہ کیوں کیاجارہا ہے ؟۔حکومت عوام اور پارلیمنٹ سے آئی ایم ایف کی شرائط کیوں چھپا رہی ہے ؟ شرائط نہیں مانیں تو پھر مہنگائی کیوں؟ ۔مسلم لیگ (ن) کے صدر نے کہاکہ مہنگائی میں مسلسل اضافہ اور آئی ایم ایف کی سلامتی وقومی اداروں کے بینک اکاؤنٹس سے متعلق شرائط خطرے کی گھنٹی ہیں ۔ انہوں نے سوال کیا کہ یہ کون سے اچھے دن آئے ہیں کہ ہر روز چائے ، چینی، آٹے ، انڈے ، دودھ، دہی، گھی، چاول، سبزیوں اور دوائی کی قیمت بڑھتی ہی جا رہی ہے ؟معاشی تباہی کی جلتی آگ پر مہنگائی تیل کا کام کررہی ہے ، حکمرانوں کا ہر دن قومی سلامتی کے لئے خطرات اور خدشات بڑھا رہا ہے ۔ شہبازشریف نے کہاکہ موجودہ حکومت کی ناکامی پاکستان کے وجود اور مفادات کے لئے زہر قاتل بن چکی ہے ، نجات حاصل نہ ہوئی تو ناقابل تلافی نقصان ہوسکتا ہے ۔ آئی ایم ایف سے بات چیت سے پہلے ہی مشیر خزانہ کا چلے جانا، امن وامان سمیت دیگر سنگین مسائل میں وزرا کا چھٹیاں منانا اور سیرسپاٹے حکومت کی غیرسنجیدگی کے مظاہر ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ موجودہ پوری حکومت کو مکمل چھٹی دینے کی ضرورت ہے ، مسائل کی دلدل سے ملک کو نکالنے کے لئے سنجیدہ، قابل اور دیانت دار ٹیم کی ضرورت ہے ۔ ثابت ہوچکا ہے کہ ملک اور قوم کے مسائل کو یہ حکومت حل نہیں کرسکتی، مزید وقت ضائع کرنا ملک اور قوم کے ساتھ سنگین زیادتی ہے ۔ مہنگائی ، معاشی تباہی اور بے روزگاری کی سزا ملک اور قوم بھگت رہی ہے ، حکومت کو احساس نہیں کہ غریب ہی نہیں سفید پوش طبقہ پس چکا ۔ شہبازشریف نے کہاکہ اس ظالم حکومت سے نجات کے لئے پوری قوم کو گھروں سے باہر نکلنا ہوگا اور فیصلہ کن قدم اٹھانا ہوگا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement