نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیر اعظم کا کیچ میں پاک فوج کےجوانوں کی شہادت پر گہرےرنج و غم کااظہار
  • بریکنگ :- وزیر اعظم عمران خان کا شہدا کےلواحقین سے اظہار ہمدردی
  • بریکنگ :- جوانوں کےخون کاایک ایک قطرہ ملک کے تحفظ کاضامن ہے،وزیر اعظم
  • بریکنگ :- بزدل دشمن کا ایک مضبوط قوم سے سامنا ہے،وزیر اعظم
  • بریکنگ :- ہم نےپہلے بھی دہشت گردی کو شکست دی ہے، وزیر اعظم
Coronavirus Updates

سٹاک مارکیٹ: سال کی بدترین مندی، سرمایہ کاروں کے 332 ارب ڈوب گئے، ڈالر بھی مہنگا، اوپن مارکیٹ میں 177 روپے کا ہوگیا، سونے کی قیمت میں 850 روپے تولہ اضافہ

سٹاک مارکیٹ: سال کی بدترین مندی، سرمایہ کاروں کے 332 ارب ڈوب گئے، ڈالر بھی مہنگا، اوپن مارکیٹ میں 177 روپے کا ہوگیا، سونے کی قیمت میں 850 روپے تولہ اضافہ

2134 پوائنٹس گر کر 100 انڈیکس 43234 کی پست ترین سطح پر بند، 92.60 فیصد حصص کی قیمتیں گر گئیں، حجم 74 کھرب روپے رہ گیا، شرح سود میں اضافے کی اطلاعات پر سرمایہ کار پریشان ، روپے کی قدر میں 15 فیصد مزید کمی، انٹر بینک میں ڈالر 95 پیسے کے اضافے سے 175.47 سے بڑھ کر 176.42 روپے پر جا پہنچا، ملکی قرضے 50 کھرب روپے تک پہنچ گئے

کراچی (بزنس رپورٹر، دنیا نیوز) تجارتی اور جاری کھاتوں کے خسارے میں اضافہ، آئندہ زری پالیسی میں شرح سود میں مزید اضافے کی اطلاعات اور افراط زر میں اضا فہ کے باعث جمعرات کو سٹاک مارکیٹ میں سال کی سب سے بڑی مندی ریکارڈ کی گئی، اس دوران سرمایہ کاروں کے 332 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے ، ڈالر مزید مہنگا ہونے سے اوپن مارکیٹ میں 177 روپے کا ہو گیا، جب کہ سونے کی قیمت میں 850 روپے تولہ اضافہ ہو گیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سٹاک مارکیٹ میں مندی کے باعث 100 انڈیکس دو ہزار سے زائد پوائنٹس کی کمی سے 44 اور 45 ہزار کی نفسیاتی حد سے گر کر 43200 پوائنٹس کی پست ترین سطح پر بند ہوا، 100 انڈیکس میں 4.7 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی، اس دوران سرمایہ کاروں کے 332 ارب روپے سے زائد ڈوب گئے اور سرمائے کا مجموعی حجم 77 کھرب سے گھٹ کر 74 کھرب روپے رہ گیا۔ شدید مندی سے 92.60 فیصد حصص کی قیمتیں بھی گر گئیں ۔ مارکیٹ ذرائع کے مطابق نومبر میں تجارتی خسارے میں اضافے کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو کر ٹریڈنگ کر رہے ہیں اور اس وقت حصص کی فروخت زیادہ ہے ، جس کے باعث 100 انڈیکس سمیت تمام انڈیکس میں مندی کا رجحان غالب رہا۔ شرح سود میں ایک فیصد اضافے کے خدشے پرسرمایہ کاروں میں تشویش بڑھ گئی ہے اور وہ منافع کے لیے بڑی فروخت کو بھی ترجیح دے رہے ہیں۔ دوسری جانب 5 ماہ میں روپے کی قدر میں 15 فیصد کی مزید کمی اور ملکی قرضے 50 کھرب روپے تک پہنچنے کے ساتھ 3 سال میں 20 کھرب روپے کا اضافہ ہونے جیسی خبروں پر سرمایہ کار معیشت کے حوالے سے تذبذب کا شکار ہیں۔ کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 2134.99 پوائنٹس کی کمی سے 45369.14 پوائنٹس سے کم ہو کر 43234 پوائنٹس پر بند ہوا، اسی طرح 877.90 پوائنٹس کی کمی سے کے ایس ای 30 انڈیکس 16697.96 پوائنٹس پر آ گیا، جب کہ آل شیئرز انڈیکس 30953.66 پوائنٹس سے گھٹ کر 29628.67 پوائنٹس پر بند ہوا ۔مجموعی سرمایہ گھٹ کر 74 کھرب 18 ارب روپے رہ گیا۔ جمعرات کو 14 ارب روپے مالیت کے 38 کروڑ 67 لاکھ 53 ہزار حصص کے سودے ہوئے ، جب کہ بدھ کو9 ارب روپے مالیت کے 24 کروڑ 10 لاکھ 69 ہزار حصص کے سودے ہوئے تھے ۔ مجموعی طور پر 365 کمپنیوں کے حصص کا کاروبار ہوا، جس میں سے 16 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 338میں کمی اور11میں استحکام رہا ۔ترجمان سٹاک ایکسچینج کے مطابق یہ سال کی سب سے بڑی مندی ریکارڈکی گئی ہے ۔دوسری جانب فاریکس رپورٹ کے مطابق جمعرات کو انٹر بینک میں ڈالر 95پیسے کے اضافے سے 175.47روپے سے بڑھ کر176.42روپے پر جاپہنچا، جب کہ 1.30 روپے کے نمایاں اضافے سے اوپن کرنسی مارکیٹ میں ڈالر 176.50 روپے سے بڑھ کر 177.80 روپے کی بلند سطح پر بند ہوا۔ یورو 50 پیسے بڑھ کر 200 روپے ، جب کہ دو روپے کے اضافے سے برطانوی پاؤنڈ 236 روپے کا ہو گیا۔ ادھر عالمی بلین مارکیٹ میں سونا9 ڈالر کی کمی سے 1777 ڈالر فی اونس کا ہو گیا، بین الاقوامی مارکیٹ میں سونے کے نرخ میں کمی کے باوجود مقامی سطح پرفی تولہ سونا 850 روپے کے اضافے سے ایک لاکھ 23 ہزار 650 اور دس گرام729 روپے کے اضافے سے ایک لاکھ6 ہزار 10 روپے کا ہو گیا، جب کہ چاندی کی فی تولہ قیمت 1460 روپے پر مستحکم رہی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement