نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی ادارہ صحت کےیورپین ڈائریکٹرہینس کلوگےکی خبرایجنسی سےگفتگو
  • بریکنگ :- اومی کرون سےکوروناوباایک نئےفیزمیں داخل ہوگئی،یورپین ڈائریکٹرڈبلیوایچ او
  • بریکنگ :- اومی کرون ویرینٹ سےکوروناوباکےعام بیماری بننےکی امیدپیداہوگئی،ہینس کلوگے
  • بریکنگ :- اومی کرون کےبعدیورپ میں کوروناوباختم ہونےکی طرف جارہی ہے ،ہینس کلوگے
  • بریکنگ :- امیدہےاومی کرون کےبعدکوروناموسمی فلوکی شکل اختیارکرلےگا، ڈائریکٹرڈبلیوایچ او
Coronavirus Updates

توشہ خانہ کیس :سماعت کرنیوالے جج کے گھر کی تحویل کا فیصلہ واپس

توشہ خانہ کیس :سماعت کرنیوالے جج کے گھر کی تحویل کا فیصلہ واپس

خیبر پختونخوا حکومت نے توشہ خانہ کیس کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب کے گھر کو تاریخی ورثہ قرار دے کر تحویل میں لینے کا فیصلہ واپس لے لیا

پشاور (مانیٹرنگ ڈیسک )جمعہ کو سوشل میڈیا پر خیبرپختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کا ڈپٹی کمشنر سوات کو لکھا گیا خط سامنے آیا تھا جس میں والی سوات کے تاریخی گھر کو سیکشن فور لگا کر حکومت کی طرف سے تحویل میں لینے کی ہدایت کی گئی تھی۔خیبر پختونخوا کے محکمہ آثار قدیمہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالصمد نے بتایا کہ ایسا خط جاری ضرور ہوا تھا تاہم اسے واپس لے لیا گیا ۔اس کی وجہ انہوں نے یہ بتائی کہ پراپرٹی اتنی مہنگی ہے کہ حکومت کے پاس اسے سرکاری ریٹ پر خریدنے کا بھی بجٹ موجود نہیں ۔ڈاکٹر عبدالصمد نے کہا کہ والی سوات کی رہائش گاہ کو تحویل میں لینے کا توشہ خانہ کیس سے کوئی تعلق نہیں اور انہیں اب پتا چلا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے معزز جج بھی اس گھر کے مالکان میں شامل ہیں،گھر20 سال سے خالی تھا اور ہمیں اس کے مالکان میں سے شہریار گل نے رابطہ کر کے کہا تھا کہ یہ گھر دستیاب ہے ۔انہوں نے بتایا کہ ہمارے پاس بجٹ نہیں تھا اس لیے ہم نے اسے لینے کا ارادہ ترک کر دیا تھا ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement