نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کراچی: کورٹ پولیس ہائی پروفائل کیس کے ملزم کی حفاظت نہ کرسکی
  • بریکنگ :- کراچی:دعا منگی کیس کامرکزی ملزم ذوہیب قریشی فرار ہوگیا،پولیس ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: کورٹ پولیس جیل سےذوہیب قریشی کو پیشی پر لے کر گئی،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: ملزم ذوہیب قریشی واپسی پر جیل نہیں پہنچا،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: جیل واپسی پر قیدیوں کی گنتی کےدوران معاملہ کھلا،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی: پولیس اہلکار ذوہیب قریشی کو شاپنگ کرانے لےگئے تھے،ذرائع
  • بریکنگ :- دو اہلکار زیر حراست،فیروزآباد تھانےمیں مقدمہ درج کیاجارہاہے،ذرائع
  • بریکنگ :- کراچی:دعا منگی کو 30 نومبر 2019 کو ڈیفنس سےاغوا کیا گیا تھا،ذرائع
  • بریکنگ :- دعا منگی کی رہائی تاوان کی ادائیگی کےبعد عمل میں آئی تھی،ذرائع
  • بریکنگ :- ملزمان کو کراچی پولیس نے 18 مارچ کو گرفتار کیا گیا تھا
  • بریکنگ :- انھی ملزمان نےڈیفنس سے تاوان کیلئےبسمہ نامی لڑکی کو بھی اغوا کیاتھا
  • بریکنگ :- دونوں مقدمات انسداد دہشتگردی کی عدالت میں زیر سماعت تھے
Coronavirus Updates

ووٹ نہیں دیتا، اجلاس سے جارہا ہوں: پرویز خٹک، ووٹ نہیں دینا تونہ دو، بلیک میل مت کرو: عمران خان

ووٹ نہیں دیتا، اجلاس سے جارہا ہوں: پرویز خٹک، ووٹ نہیں دینا تونہ دو، بلیک میل مت کرو: عمران خان

اسلام آباد(خصوصی وقائع نگار،سیاسی رپورٹر، خصوصی نیوز رپورٹر،دنیا نیوز، مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت حکمران جماعت تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس میں خوب گرما گرمی رہی، وزیردفاع پرویز خٹک، نور عالم و دیگر ارکان نے منی بجٹ، مہنگائی، سٹیٹ بینک کی خودمختاری سے متعلق شدید تحفظات کا اظہار کیا، پرویز خٹک اور عمران خان کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا، پرویز خٹک نے کہا ووٹ نہیں دیتا ، اجلاس سے جارہا ہوں ، آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا، عمران خان نے کہا ووٹ نہیں دینا تو نہ دو،بلیک میل مت کرو،مجھے حکومت کا کوئی شوق نہیں، میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں۔

قومی اسمبلی میں منی بجٹ کی منظوی سے قبل پی ٹی آئی کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ارکان اسمبلی کو اعتماد میں لینے کیلئے طلب کیا گیا تھا تاہم اجلاس میں معاملہ مزید بگڑ گیا،ذرائع کے مطابق اجلاس میں وزیر دفاع پرویز خٹک نے کہا آپ کو وزیراعظم ہم نے بنوایا ہے ، خیبرپختونخوا میں گیس پر پابندی ہے ، گیس بجلی ہم پیدا کرتے ہیں اور پِس بھی ہم رہے ہیں، اگر آپ کا یہی رویہ رہا تو ہم ووٹ نہیں دے سکیں گے ۔

پرویز خٹک کی اس گفتگو پر وزیراعظم اٹھ کر جانے لگے اور کہا کہ اگر آپ مجھ سے مطمئن نہیں تو کسی اور کو حکومت دے دیتا ہوں،مجھے حکومت کا کوئی شوق نہیں، میں ملک کی جنگ لڑ رہا ہوں کوئی ذاتی مفاد نہیں، میرے کارخانے نہیں،میری کوششیں ملکی مفاد کی خاطر ہیں،سب کے سامنے آپ مجھے بلیک میل کررہے ہیں،میں بلیک میل نہیں ہوں گا، آپ مجھے بلیک میل نہیں کرسکتے ، میں حکومت جائیداد بنانے کیلئے نہیں کر رہا، میں آپ کو روز روز بلا کر ووٹ مانگ رہا ہوں، مجھے بلیک میل مت کرو، ووٹ نہیں دینا تو مت دو، میں ہر روز آئی ایم ایف سے کہہ رہا ہوں کہ ٹیکس کم کریں، میرے نہ تو کارخانے ہیں نہ میرا کوئی کاروبار ہے ۔

اگر آپ کی یہی بلیک میلنگ رہی تو اپوزیشن کو دعوت دے دیں کہ وہ آ کر حکومت کر لیں،اس موقع پر وزیر توانائی حماد اظہر نے بیچ میں بولنے کی کوشش کی تو پرویز خٹک نے انہیں ٹوک دیا اور کہا کہ میں وزیر اعظم سے بات کررہا ہوں۔پرویز خٹک نے حماد اظہر اور وزیر خزانہ شوکت ترین پر بھی سخت تنقید کی، گیس کے معاملے پر حماد اظہر اور پرویز خٹک کے درمیان تلخ کلامی بھی ہوئی ،حماد اظہر نے پرویز خٹک کے سوال کا جواب دینے کی کوشش کی تو وزیر دفاع نے کہا کہ ‘آپ صرف یہ بتائیں کہ صوبے کو گیس کب ملے گی؟انہوں نے کہا کہ ‘حماد اظہر کو گیس اور بجلی کے مسائل کا علم ہی نہیں۔

’ وفاقی وزیر خزانہ شوکت ترین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ مجھے کابینہ میں بھی مطمئن نہیں کر سکے ۔وزیر دفاع پرویز خٹک تین دفعہ اپنی نشست پر کھڑے ہوئے ،انہوں نے وزیراعظم سے کہا آپ نے غیر منتخب لوگوں کو آس پاس بٹھایا ہوا ہے ،سینئرارکان نے وزیراعظم کو روک لیا تاہم پرویز خٹک اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے ۔

تاہم وزیراعظم نے پرویز خٹک کو واپس بلوایا جس پر سٹاف پرویز خٹک کو ڈھونڈتا رہا ،تاہم پرویز خٹک خود ہی کچھ دیر بعد دوبارہ اجلاس میں آئے اور کہاکہ ہماری باتیں کسی کے خلاف نہیں تھیں جو دیرینہ مسئلہ تھا اس پر بات کی ۔

اس دوران اجلاس کا ماحول کافی کشیدہ رہا اور اجلاس کے مقاصد بھی حاصل نہ ہوسکے کیوں کہ وزیراعظم باضابطہ طور پر ارکان قومی اسمبلی سے منی بجٹ کے معاملے پر بات نہ کرسکے ۔ یقین دہانی کے باوجود وزارت نہ ملنے پر وزیراعظم سے مسلسل ناراض چلے آرہے پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی نور عالم نے بھی سوالات کئے ،انہوں نے وزیراعظم سے پوچھا کہ کیا سٹیٹ بینک کی خودمختاری سے سلامتی ادارے تو متاثر نہیں ہوں گے ؟ کیا ہم سلامتی اداروں کے اکاؤنٹ کی تفصیلات بھی آئی ایم ایف کودیں گے ؟وزیراعظم نے کہا کہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ ملکی مفاد پر کوئی سمجھوتا نہیں ہو گا، سلامتی اداروں کا تحفظ ہر صورت یقینی اور پہلی ترجیح ہے ۔

پھر نورعالم خان نے پوچھا کہ کیا منی بجٹ سے ہمیں گیس، پانی، بجلی ملے گی؟وزیراعظم عمران خان نے اجلاس کے دوران دیگر ارکان اسمبلی کے سوالات کے بھی جواب دئیے ۔وزیراعظم کا یہ بھی کہنا تھا کہ ‘حکومت اہم اقدامات کررہی ہے ، گیس کی قلت کا مسئلہ جلد حل ہوجائے گا۔ اجلاس کے دوران ایم کیو ایم نے منی بجٹ میں ٹیکس ترامیم پر گفتگو کی اور مطالبہ کیا کہ بنیادی اشیا ضروریہ پر ٹیکس نہ لگائیں، جس پر وزیراعظم نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں عوام کی مشکلات کا اندازہ ہے ، کوئی ایسا اضافی ٹیکس نہیں لگائیں گے جس سے عوام پر بوجھ پڑے ۔

وزیر دفاع پرویز خٹک نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کسی سے تلخ کلامی نہیں ہوئی، میں نے اپنے حق کی بات کی،جب ان سے پوچھا گیا کہ آپ اجلاس سے اٹھ کر باہر کیوں گئے تھے تو انہوں نے کہا کہ اجلاس سے ناراض ہوکر نہیں بلکہ سگریٹ پینے باہرگیا تھا،انہو ں نے کہا اختلاف کوئی نہیں صرف گیس کی بات ہوئی تھی، وزیراعظم سے اختلاف کبھی نہیں ہوا،جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وزیر اعظم پر آپ کو اعتماد ہے ؟ تو پرویز خٹک نے جواب دیا کہ وزیراعظم پر 100 فیصد اعتماد ہے ، ا ن کا کوئی مقابلہ نہیں کرسکتا ،میں مکمل عمران خا ن کے ساتھ ہوں ،گیس کی بات ہوئی ہے ،پرابلم کو زیر بحث لائے ہیں، کسی مسئلے کو زیر بحث لائیں تو اسے اختلاف نہیں کہتے ،پرویز خٹک سے جب پوچھا گیا کہ کوئی فارورڈ بلاک تو نہیں بن رہاتو انہوں نے کہا کہ ہم کسی کو فارورڈ بلاک بنانے ہی نہیں دیں گے ،بعد ازاں وزیراعظم عمران خان نے وزیردفاع کو اپنے چیمبر میں طلب کرلیا، وزیر دفاع پرویز خٹک سے ہونے والی علیحدہ ملاقات میں عمر ایوب بھی موجود تھے ۔

اس ملاقات کے بعد پرویز خٹک نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ ٹی وی دیکھ کر حیران تھا جیسے میں نے کوئی طوفان کھڑا کردیا، صرف گیس کے مسائل پر ڈسکشن ہوئی، میرا سوال تھا کہ جو ہماری گیس کی سکیمیں ہیں وہ چلنی چاہئیں، میں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی کہ ووٹ نہیں دوں گا، یہ پارٹی کی اندرونی بات ہے ، میں نے کوئی سخت بات نہیں کی، وزیراعظم کے نہ خلاف ہوں نہ ہوسکتا ہوں اور نہ ہی سوچ سکتا ہوں۔اس کے بعد وزیر دفاع پرویز خٹک قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کیلئے ایوان میں چلے گئے ۔اجلاس سے قبل صحافی نے سوال کیا کہ وزیراعظم صاحب کیا منی بجٹ پاس ہو جائے گا؟جس پر وزیراعظم سوال کا جواب دینے کے بجائے مسکرا کر نکل گئے ۔

اجلاس کے بعد جب وزیراعظم جانے لگے تو میڈیا نے ان سے سوال کیا کہ آپ کے قریبی ساتھی آپ کو چھوڑ کر جا رہے ہیں۔صحافی کے سوال پر وزیراعظم عمران خان خاموش رہے البتہ ان کے ساتھ موجود وزیر اطلاعات فواد چودھری نے پلٹ کر صحافی سے ہی پوچھ لیا کہ کون سے ساتھی؟وفاقی وزیر حماد اظہر نے کہا کہ اجلاس میں اراکین نے گیس سے متعلق سوالات کئے ، اراکین کو سوالات پر مطمئن کرنے میں کامیاب رہا، وزیراعظم نے بتایا کہ ملک میں گیس کے ذخائر کم ہورہے ، باہر سے گیس منگواکر گھریلو ضروریات پوری کی جائیں گی۔

رکن قومی اسمبلی نور عالم خان نے بی بی سی کو بتایا کہ اراکین نے قومی مفاد میں اپنے تحفظات سے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کیونکہ اگر بجلی اور گیس جیسی سہولیات عوام کو سستی نہ دے سکے تو پھر آئندہ انتخابات میں ان کے سامنے کیسے جائیں گے ۔اجلاس میں وزیر اعظم کے سامنے مِنی بجٹ بل پر اپنے تحفظات کا اظہار کیا اور یہ کہا کہ ہم ہی بجلی پیدا کرتے ہیں اور کیا ہمیں ہی بجلی اب مہنگی دی جائے گی،وزیر دفاع پرویز خٹک نے اپنے صوبے میں گیس کنکشن بند کرنے پر وزیر اعظم کے سامنے تحفظات کا اظہار کیا۔

‘ہر ملک کا اپنا قومی مفاد ہوتا ہے اور (ہم پر) اس کی نگرانی اور تحفظ (یقینی بنانا) لازم ہے ’۔اجلاس میں یہ واضح کیا کہ اگر دفاعی مفادات سمیت ادارے آئی ایم ایف کے حوالے کیے گئے تو پھر وہ اس بل کی حمایت نہیں کریں گے ، ان کے مطابق اس وقت سٹیٹ بینک کا صدر آئی ایم ایف کا نمائندہ ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس منی بجٹ بل کی کچھ شقیں پاس نہیں ہو سکیں گی۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement