نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- این سی اوسی نے 25 فیصد تماشائیوں کو شرکت کی منظوری دےدی
  • بریکنگ :- کراچی میں شیڈول ہرمیچ 8000 تماشائی دیکھ سکیں گے
  • بریکنگ :- لیگ کاپہلامرحلہ 27جنوری سے 7 فروری تک کراچی میں ہوگا
  • بریکنگ :- اسٹیڈیم داخلےسےپہلےدرست ویکسی نیشن سرٹیفکیٹ دکھانالازم ہوگا
  • بریکنگ :- کراچی:اسٹیڈیم میں مسلسل ماسک پہننالازم ہوگا
  • بریکنگ :- خلاف ورزی کرنے والوں کواسٹیڈیم سےنکال دیا جائے گا، پی سی بی
Coronavirus Updates

سینیٹ:اپوزیشن کا وزیرمملکت کے بیان پر احتجاج، واک آؤٹ

سینیٹ:اپوزیشن کا وزیرمملکت کے  بیان پر احتجاج، واک آؤٹ

اسلام آباد(نامہ نگار، آئی این پی)سینیٹ میں اپوزیشن نے وزیرمملکت برائے پارلیمانی امور علی محمدخان کے بیان پر شدید احتجاج کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کیا۔

کورم کی نشاندہی کی گئی ،کورم مکمل نہ ہونے پر اجلاس پیرتک ملتوی کردیاگیا ۔وزیرمملکت علی محمدخان نے کہاکہ کل قومی اسمبلی میں سپیکر کے ساتھ جو رویہ رکھا گیا اس پر بات کروں گا،اپوزیشن نے اگر سچ نہیں سننا تو واک آئوٹ کرلے ،جس کے بعد اپوزیشن نے علی محمد خان کے بیان پر ایوان سے واک آئوٹ کیا، واک آؤٹ پر حکومتی سینیٹرز نے شدیداحتجاج کرتے ہوئے اپوزیشن کے خلاف گیٹ آؤٹ کے نعرے لگائے ۔قائدایوان ڈاکٹر شہزاد وسیم نے کہاکہ قانون سازی اکثریت کی بنیادپر کی جاتی ہے ۔کل اپوزیشن کی ساری دھمکیاں غیرموثرثابت ہوگئیں،پارلیمانی جمہوریت کے فیصلے قبول کیے جائیں۔

سینیٹ کااجلاس پریذائیڈنگ افسر فیصل رحمان کی زیرصدارت ہوا۔ وقفہ سوالات میں سینیٹرمشتاق احمد نے کہاکہ بجلی کی قیمت میں پھر اضافہ کیا گیا ہے ۔ لوگوں کو احتجاج کے لیے اکسایا گیا ہے یہ ظلم ہے ، یہ زیادتی ہے ۔اس دوران قائدحزب اختلاف یوسف رضاگیلانی کھڑے ہوئے اور کہاکہ آئی ایم ایف کی شرائط بہت سخت ہیں یہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے ۔لوگوں کو مظاہروں پر اکسایا جا رہا ہے ، اس معاملہ کوکمیٹی میں بھیجنے سے پہلے ایوان میں بحث کریں۔قومی اسمبلی میں منی بجٹ کوجس طرح پاس کیاگیاہے اس کی مذمت کرتاہوں۔ کل قومی اسمبلی میں بجٹ کو بلڈوز کیا گیا۔روز روزبجلی کی قیمتوں میں اضافہ لوگ برداشت نہیں کر سکتے ۔تمام اخبارات میں ہیڈ لائنز ہیں کہ منی بجٹ بلڈوز کیا گیا۔

قائدایوان سینیٹر ڈاکٹرشہزاد وسیم نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ کبھی سنتے ہیں عدم اعتماد آئیگا تو کبھی دوسری دھمکیاں دی جاتی ہیں، ساری کی ساری دھمکیاں غیر موثر ہوگئیں۔ اپوزیشن کہتی تھی ہمارے ساتھ اتنے بندے را بطے میں ہیں، ہمیں سگنل آ گیا وہ لوگ کل کہاں تھے ۔ پارلیمانی جمہوریت کے فیصلے قبول کیے جائیں۔پیپلزپارٹی کی سینیٹر قر ۃالعین مری نے کورم کی نشاندہی کردی گنتی کی گئی تو ایوان میں 15ارکان موجود تھے ۔کورم کی نشاندہی کے بعد پریذائیڈنگ افسر نے کہا کہ پانچ منٹ تک گھنٹیاں بجائی جائیں جس کے بعد گھنٹیاں بجائی گئیں۔ اس دوران کورم کی نشاندہی کرنے پر حکومتی سینیٹرز نے شدیداحتجاج کیا ۔سینیٹرہمایوں مہمند نے کہاکہ کورم کی نشاندہی پر اپوزیشن کو شرم آنی چاہیے اگر اپوزیشن کورم کا حصہ نہیں تو یہ ایوان میں نہ آئیں۔

آپ ایوان سے نکل جائیں، Get out۔اپوزیشن نے کہیں جاناہے اس لیے کورم کی نشاندہی کی ہے ۔ پریذائیڈنگ افسر نے چیف وہپ سینیٹرفدامحمد اور وزیرریلوے سینیٹر اعظم سواتی کواپوزیشن کومنانے کے لیے بھیجا جس میں وہ ناکام ہوگئے ۔ پانچ منٹ گزرنے کے بعد دوبارہ گنتی کی گئی تو کورم نامکمل تھا جس پر سینیٹ کااجلاس پیر کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کردیاگیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement