نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیراعظم کی صدارت میں بڑےشہروں کی منصوبہ بندی سےمتعلق اجلاس
  • بریکنگ :- بڑےشہروں کی ترقی پرخصوصی توجہ دےرہےہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- دیہات سےشہروں کی طرف آبادی کی منتقلی سےچیلنجزدرپیش ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- بڑے شہروں کیلئےخصوصی ترقیاتی پیکجزپرعملدرآمدتیزکیاجائے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- ترقیاتی منصوبوں کی راہ میں حائل رکاوٹوں کوفوری دورکیاجائے،وزیراعظم
Coronavirus Updates

سلامتی پالیسی پر پارلیمان کو نظر انداز کرنا اسکی توہین:اپوزیشن

سلامتی پالیسی پر پارلیمان کو نظر انداز کرنا اسکی توہین:اپوزیشن

اسلام آباد (آئی این پی )قومی سلامتی پالیسی پر اپوزیشن رہنمائوں نے ردعمل دیتے ہوئے کہا پارلیمان کو نظر انداز کرنا اس کی توہین ہے۔

 ترجمان پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) حافظ حمد اللہ نے کہا پاکستان کی پہلی قومی سلامتی پالیسی نہیں ہے جو قومی ریاستی تقاضا ہے لیکن پالیسی پر پارلیمان کو جان بوجھ کر لاعلم اور بے خبر رکھا گیا ،ایوان زیریں اور ایوان بالا سے بالا ،بالا قومی سلامتی پالیسی بنتی ہے ،قومی سلامتی پالیسی پر پارلیمان کو نظر انداز کرنا دونوں ہی ایوانوں کی توہین ہے ،پارلیمان کو نظر انداز کرنا آمریت میں ہو سکتا ہے جمہوریت میں نہیں جب کہ ہم روز اول سے کہہ رہے ہیں کہ ملک میں جمہوریت نہیں ، جمہوریت کے نام پر عمران نیازی اور تحریک انصاف کی شکل میں آمریت مسلط ہے ۔

پی ڈی ایم کا مطالبہ ہے کہ قومی سلامتی پالیسی کو پارلیمان میں پیش کیا جائے ۔پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ، سینیٹر رضا ربانی نے پی پی پی کی سینیٹر شیری رحمان کی کتاب ویمن پلاننگ کی تقریب رونمائی سے خطاب کرتے ہوئے کہا یہ کیسی قومی سلامتی پالیسی ہے جس کی پارلیمان سے مشاورت نہیں کی گئی،یہ قوم کی نہیں صرف ریاست کی پالیسی ہے ، اپنے لیے تیار کی گئی پالیسی عوام پر تھوپ دی گئی۔ تحریک لبیک پاکستان(ٹی ایل پی)کے ساتھ جو معاہدہ ہوا وہ اب تک سامنے نہیں آیا، کہا گیا تھا کہ معاہدہ چند دنوں میں قوم کے سامنے آجائے گا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement