سندھ پولیس کے بیشتر افسران کرپٹ

سندھ پولیس کے بیشتر افسران کرپٹ

کراچی (انٹرویو: عاطف رضا)سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے کہا ہے کہ سندھ پولیس میں اس وقت چند ایک کو چھوڑ کر بیشتر افسران کرپٹ ہیں، شہر کے اہم مسائل اسٹریٹ کرائم اور زمینوں پر قبضے ہیں۔

جس سے شہریوں میں سخت احساس محرومی پیدا ہورہی ہے ، زمینوں پر قبضے میں گنتی کے گروپس ملوث ہیں جن کو ختم کر کے ان مسائل پر قابو پایا جاسکتا ہے ،اسی طرح چند گروپس کے خلاف کارروائیں کی جائیں تواسٹریٹ کرائم میں کافی کمی آجائے گی، پولیس کی حکمت عملی صحیح نہیں ہے ۔ تفتیش کے شعبے کو بہت وسیع کرنے کی ضرورت ہے ورنہ اس کا فائدہ ملزمان یونہی اٹھاتے رہیں گے ۔ نقیب اللہ کیس میں بری ہونے سے میرے موقف کی تائید ہوئی ہے ، نقیب اللہ محسود کے پروپیگنڈے کے پیچھے وہی عناصر ہیں جن کو بیرونی فنڈنگ ملتی رہی ہے ۔ ماضی میں واجد درانی اور شعیب سڈل کے بھی کیسز چلے اور بعد میں ان کی ریٹائرمنٹ میں ان کو توسیع دی گئی، میں بھی اس کا حقدار ہوں۔ نقیب اللہ محسود ماورائے عدالت کیس سے بری ہونے کے بعد سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے رونامہ دنیا سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نقیب اللہ محسود کا اصل نام نسیم اللہ تھا ،اس کے خلاف متعدد کیسز درج تھے ، اس کے شناختی کارڈ پر 5 سمز

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں