انتخابات میں مبینہ دھاندلی :بانی پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا فیصلہ

انتخابات میں مبینہ دھاندلی :بانی پی ٹی آئی کا آئی ایم ایف کو خط لکھنے کا فیصلہ

اسلام آباد (نیوز ایجنسیاں ، مانیٹرنگ )تحریک انصاف کے رہنما بیرسٹر علی ظفر اور بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی بین الاقوامی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کو خط لکھیں گے جس میں اس بات پر زور دیا جائے گا کہ وہ پاکستان سے بات چیت سے قبل ملک میں آٹھ فروری کو ہونے والے متنازعہ انتخابات کے ایک آزادانہ آڈٹ کا مطالبہ کرے ۔

جمعرات کو اڈیالہ جیل سے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بیرسٹر علی ظفر نے کہا کہ بانی پی ٹی آئی کی جانب سے لکھے جانے والے خط میں ہم واضح طور پر کہیں گے کہ اگر آئی ایم ایف نے پاکستان سے بات چیت کرنی ہے تو پہلے وہ یہ واضح کر دے کہ جتنے حلقوں میں دھاندلی ہوئی ہے ، ان حلقوں کا آڈٹ ہو۔‘ایک آزاد آڈٹ ٹیم بیٹھے ، الیکشن کمیشن آف پاکستان نہیں۔ یہ آڈٹ ٹیم اگر سپریم کورٹ کی سربراہی کے تحت بنائی جائے تو بہت اچھا ہے ، لیکن اس میں عدلیہ کا حصہ ضرور ہو اور وہ آڈٹ کے بعد فیصلہ کرے کہ جہاں جہاں دھاندلی ہوئی ہے اور وہاں جو جو امیدوار جیتے ہیں ان کی کامیابی کے نوٹیفکیشن جاری کرے ۔ اس کے بعد آئی ایم ایف آگے کوئی بات چیت کرے ۔انہوں نے مزید کہا کہ اگر آڈٹ نہیں ہوتا یہ جو دھاندلی ہے اسے ختم نہیں کیا جاتا تو پھر آئی ایم ایف کا قرضہ دینے کا کوئی بھی اقدام پاکستان کے لیے نقصان دہ ہو گا۔ ہمیں بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔انہوں نے کہا کہ عدالت کے تیزی کے ساتھ ہونے والے فیصلوں کو ساری دنیا نے دیکھا ہے ۔ بانی پی ٹی آئی کا جیل میں ہونا غیرقانونی اور غیرآئینی ہے ۔ تحریک انصاف پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی اور آگے بڑھے گی جن کے پاس حق حکمرانی نہیں ہے وہ غاصب کے طور پر کرسیوں پر بیٹھیں گے ۔ جس ملک میں جمہوریت نہیں ہے وہاں بین الاقوامی ادارے کام نہیں کرتے ۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پوری دنیا نے دیکھا کہ لوگوں کا ووٹ چوری ہوا، یہ چوری کے مینڈیٹ پر جمہوریت نہیں چل سکتی، جب فنڈنگ ادارے دیکھتے ہیں جمہوریت نہیں تو وہ قرض نہیں دیتے ۔بیرسٹر علی ظفر کہنا تھا کہ بشریٰ بی بی کو دو مہینے سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی ، وکلا کی ٹیم کو ہدایات دی گئی ہیں کہ ملاقات کے لیے کیس فائل کیا جائے ۔گوہر علی خان نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں معیشت بہتری کی طرف جائے ، اگر الیکشن صاف و شفاف نہیں ہوں گے تو معیشت کو نقصان ہوگا۔انہوں نے مزید کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ جو معاہدہ ہوگا، وہ ہم نے دھاندلی کے خلاف آڈٹ سے مشروط کردیا ، پہلے بھی آئی ایم ایف کو کہا تھا کہ شفاف الیکشن ہو۔بیرسٹر گوہر علی خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ کا حصہ بنے گی اور اپنا کردار ادا کرے گی، پی ٹی آئی کا ہر قدم معیشت کی بہتری کے لئے ہو گا، مجھے بانی پی ٹی آئی سے ملنے نہیں دیا گیا، جو 6 لوگ پہلے سے گئے ہیں ان کے علاوہ کسی کو ملنے کی اجازت نہیں ۔اس دوران علی ظفر نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قومی اسمبلی میں جانے سے پہلے بانی پی ٹی آئی کی ہدایات ضروری ہیں، بانی پی ٹی آئی کو افسوس ہوا عدالتی حکم کے باوجود پی ٹی آئی رہنماؤں کو ملنے نہ دیا گیا، الیکشن میں پری پول اور پوسٹ پول دھاندلی ہوئی۔اپنے بیان میں بیرسٹر گوہر خان نے کہا ہے کہ عوامی مینڈیٹ کا احترام کرتے ہوئے فی الفور بانی پی ٹی آئی کو رہاکیا جائے ،بانی تحریک انصاف کی لغو اور جھوٹے الزامات کے تحت ناحق قید ملک میں انصاف اور نظامِ انصاف کاانہدام ہے ۔بانی پی ٹی آئی کو منصفانہ سماعت اور انصاف تک رسائی کے بنیادی دستوری و قانونی حقوق سے محروم کرنا انتہائی قابل مذمت ہے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں