بجلی7.05روپے یونٹ مہنگی،مارچ کے بلوں میں ادائیگی کرنا ہوگی،نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری

بجلی7.05روپے یونٹ مہنگی،مارچ کے بلوں میں ادائیگی کرنا ہوگی،نیپرا کا نوٹیفکیشن جاری

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)نیپرا نے بجلی 7 روپے 5پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کانوٹیفکیشن جاری کردیا۔بجلی کی قیمتوں میں اضافہ جنوری کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں ایک مہینے کیلئے کیاگیا ہے ،اضافے سے بجلی صارفین پر 66 ارب روپے کا اضافی بوجھ پڑے گا۔

قیمت میں اضافے کا اطلاق لائف لائن اورکے الیکٹرک صارفین پر نہیں ہوگا، بجلی صارفین کو مارچ کے بلوں میں اضافی ادائیگیاں کرنا ہوں گی۔ جنوری میں سب سے مہنگی بجلی ڈیزل سے 45 روپے 60 پیسے فی یونٹ پیدا کی گئی ، فرنس آئل سے 35 روپے 43 پیسے فی یونٹ بجلی پیدا ہوئی ۔ بجلی کی قیمتوں میں اضافے کا اطلاق لائف لائن اور کے الیکٹرک صارفین کے سوا تمام صارفین پر ہوگا۔ سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے )نے جنوری کی فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی 7 روپے 13پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی تھی، جس میں بتایا گیا تھاکہ جنوری میں مجموعی طور پر 7ارب 93کروڑ یونٹ بجلی فروخت کی گئی، پانی سے 11.12 فیصد، ڈیزل سے 1.22فیصد بجلی پیدا کی گئی۔سی پی پی اے کا کہنا تھا کہ مقامی کوئلے سے 16.51فیصد، درآمدی کوئلے سے 6.93 فیصد بجلی پیدا کی گئی ۔ جنوری میں مہنگے فرنس آئل سے 9.03 فیصد،مقامی گیس سے 12.45 فیصد ،درآمدی ایل این جی سے 18.22فیصد اور جوہری ایندھن سے 20.78 فیصد بجلی پیدا کی گئی۔

اسلام آباد (نمائندہ دنیا)بہتری کے نام پر کھربوں روپے خرچ کر لیے گئے لیکن بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی کارکردگی صفررہی۔نیپرا نے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی سالانہ کارکردگی رپورٹ جاری کر دی ۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی ناقص کارکردگی نے ملکی خزانے کو گزشتہ  سال 429 ارب روپے کا نقصان پہنچا۔ نیپرا رپورٹ میں کہا گیا کہ بجلی کمپنیاں لائن لاسز، چوری، لوڈ شیڈنگ روکنے میں بری طرح ناکام رہیں۔فیسکو، گیپکو اور کے الیکٹرک کے علاوہ کوئی بجلی کمپنی لائن لاسز کم نہ کر سکی۔لائن لاسز کے باعث قومی خزانے کو سال 2022-23 میں 166 ارب روپے کا نقصان ہوا۔آئیسکو کے علاوہ کوئی بجلی کمپنی 100 فیصد ریکوری نہیں کر سکی۔گیپکو، سیپکو اور حیسکو کی ڈیفالٹر ریکوری کی کارکردگی انتہائی ناقص رہی۔ناقص ریکوری سے بجلی کمپنیوں نے 2022-23 میں ملکی خزانے کو 263 ارب روپے کا نقصان پہنچایا۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ صارفین کو بجلی کے نئے کنکشن مہیا کرنے میں کیپکو، فیسکو کی کارکردگی انتہائی خراب رہی۔بجلی کمپنیاں صارفین کو بلا تعطل بجلی فراہم کرنے میں ناکام رہیں۔فیسکو، کیپکو، حیسکو، سیپکو اور کے الیکٹرک کے خلاف نیپرا کی قانونی کارروائی جاری ہے ۔لاسز کے مطابق لوڈ شیڈنگ والا فارمولا زمینی حقائق سے برعکس نکلا ہے ۔کم لاسز والے علاقوں کے صارفین بھی لوڈ شیڈنگ سے بری طرح متاثر رہے ۔اتھارٹی نے بتایا کہ شکایات کے ازالے کے حوالے سے کمپنیوں کی جانب سے ریکارڈ پر تشویشناک حد تک تحفظات ہیں۔بجلی کمپنیوں میں کرنٹ لگنے سے حادثات میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوا۔ 2022-23 میں 161 افراد کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہوئے ۔ نیپرا نے بتایا کہ بجلی کمپنیوں کا ڈسٹری بیوشن سسٹم محفوظ نہیں۔ بجلی کمپنیوں کا نظام بہتر کرنے کے لیے ڈھانچہ جاتی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کا سائز کم کیا جائے ۔کارکردگی بہتر کرنے کے لیے نجکاری کی جائے ۔بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں میں پبلک پرائیویٹ اشتراک سسٹم لانچ کیا جائے ۔

Advertisement
روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں