890 ایکڑ سرکاری زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات شروع

 890 ایکڑ سرکاری زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات شروع

نیب کراچی نے محکمہ ریونیو سے میرپورساکرو میں زمینوں کا ریکارڈ طلب کر لیا کراچی، قمبر شہداد کوٹ میں بھی زمینی ریکارڈ میں رد و بدل کی تحقیقات شروع

کراچی (سٹاف رپورٹر) نیب کراچی نے ٹھٹھہ ضلع کے تعلقہ میرپورساکرو میں اربوں روپے مالیت کی 890 ایکڑ سرکاری زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ کی تحقیقات شروع کر دیں۔ نیب کراچی کے حکام نے محکمہ ریونیو کے سیکرٹری کو خط لکھ کر 16 افراد کو الاٹ کی گئی زمینوں کا تفصیلی ریکارڈ طلب کر لیا۔ نیب حکام کے مطابق متعلقہ افراد کو دی گئی زمینوں سے متعلق الاٹمنٹ آرڈرز، جمع کرائے گئے چالان، درخواست گزار کی جانب سے فراہم کردہ دستاویزات کی چھان بین اور تصدیق، تمام واجب الادا ٹیکسوں کی ادائیگی اور کلیئرنس سرٹیفکیٹ سمیت ڈی سی ریٹس اور ایف بی آر کے نوٹیفائی کردہ ریٹس کی تفصیلات بھی شیئر کرنے کا کہا گیا ہے ۔ اس حوالے سے حاصل کردہ معلومات کے مطابق ٹھٹھہ ضلع میرپورساکرو میں اربوں روپے مالیت کی سرکاری زمین بااثر افراد کو دینے کا سکینڈل سامنے آیا ہے ، جس کی نیب کراچی نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ اس سلسلے میں محکمہ ریونیو سے ریکارڈ طلب کیا گیا ہے ۔ نیب کراچی کے مطابق تعلقہ میرپورساکرو کی دیہہ غریب آباد 1 میں 192 ، دیہہ گھجو میں 48 ایکڑ زمین الاٹ کیے جانے کا ریکارڈ طلب کیا گیا ہے ۔کراچی اور قمبر شہدادکوٹ کے ضلع میں بھی ریکارڈ میں رد و بدل کیا گیا ہے ، اس کی بھی تحقیقات جاری ہے ۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں