فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں کامیاب : ایران ، امریکا امن معاہدے پر متفق : 24 گھنٹے میں اعلان متوقع امریکی میڈیا

فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کوششیں کامیاب : ایران ، امریکا امن معاہدے پر متفق : 24 گھنٹے میں اعلان متوقع امریکی میڈیا

چیف آف ڈیفنس فورسز کی ایرانی صدر پزشکیان، قالیباف، عراقچی سے نتیجہ خیز ملاقاتیں ،مجوزہ فریم ورک کے 3مراحل میں جنگ کا باضابطہ خاتمہ، آبنائے ہرمز کے بحران کا حل ،وسیع تر معاہدے کیلئے مذاکرات کا 30 روزہ آغاز شامل:ذرائع جوہری معاملہ شامل نہیں:بقائی،ٹرمپ کی فیلڈ مارشل ،سعودی ، اماراتی، قطری، مصری ، ترک سربراہوں سے گفتگو ،کئی کا معاہدہ قبول کرنے پرزور،وینس، ہیگستھ واشنگٹن طلب ، مشاورت کے بعد باضابطہ اعلان ،ہرمزکھول دی جائے گی :امریکی صدر

راولپنڈی، تہران (خصوصی نیوز رپورٹر،نیوز ایجنسیاں )فیلڈ مارشل عاصم منیر کی کامیاب ثالثی سے امریکا اور ایران امن معاہدے پر متفق ہوگئے ، امریکی میڈیا کے مطابق 24 گھنٹے میں اعلان متوقع ہے ۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا مختصر مگر انتہائی اہم نتیجہ خیز سرکاری دورہ ایران مکمل ہوگیا، گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی گہری بات چیت کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے ۔ ایران پہنچنے پر فیلڈ مارشل کا استقبال ایرانی وزیر داخلہ سکندر مومنی نے سینئر سول اور عسکری حکام کے ہمراہ کیا۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ایران کی اعلیٰ قیادت سے اہم ملاقاتیں کیں، ان ملاقاتوں میں خطے میں کشیدگی میں کمی اور امن کے قیام کے لیے جاری ثالثی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، یہ ملاقاتیں جاری سفارتی و ثالثی کوششوں کا حصہ تھیں۔

فیلڈ مارشل نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان ،ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر باقر قالیباف اور ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی سے بھی ملاقات کی۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کی تہران میں ایران کی اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں مثبت اور تعمیری ماحول میں ہوئیں، ملاقاتوں نے ثالثی کے عمل کو مؤثر انداز میں آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا،گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ہونے والی گہری بات چیت کے نتیجے میں حتمی مفاہمت کی طرف حوصلہ افزا پیش رفت ہوئی ہے ۔ ملاقاتوں کا مقصد 8 اپریل کی جنگ بندی کے بعد خطے میں پیدا کشیدگی میں کمی اور تعمیری روابط کے فروغ کو یقینی بنانا ہے ۔آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ایرانی قیادت نے علاقائی مسائل کے پرامن حل میں پاکستان کے مخلصانہ اور تعمیری کردار کو سراہا۔

ایران کے سفیر رضا امیری نے بتایا کہ تہران سے واپس آتے ہی وزیر داخلہ محسن نقوی نے انہیں فون کر کے معاہدہ کی کوشش کامیاب ہونے کی مبارک باد دی ہے ۔ امریکی اخبار دی واشنگٹن ٹائمز نے ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدے کے مسودے پر اتفاق ہو گیا ہے اور اس کا 24 گھنٹوں کے اندر اعلان کیا جا سکتا ہے ۔اخبار کے مطابق مذاکرات کاروں جن میں ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف، امریکی نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی سٹیو وٹکوف اور صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر شامل ہیں، نے اس مسودے کی منظوری دے دی ہے اور امن معاہدے کے مسودے کو حتمی منظوری کے لیے دونوں ممالک کی قیادت کو بھیج دیا گیا ہے ۔اخبار کے مطابق ممکنہ جنگ بندی معاہدے کی تفصیلات تاحال واضح نہیں ہیں۔ یہ بھی غیر واضح ہے کہ اہم اختلافی نکات، بشمول ایران کے جوہری پروگرام کا مستقبل اور پابندیوں میں نرمی کے مطالبات،کس طرح حل کیے جائیں گے ۔

دونوں فریقین کو آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے طریقہ کار پر بھی اتفاق کرنا ہوگا۔ذرائع نے رائٹرز کو بتایا ہے کہ مجوزہ فریم ورک تین مراحل میں نافذ ہوگا: جنگ کا باضابطہ خاتمہ، آبنائے ہرمز کے بحران کا حل، اور ایک وسیع تر معاہدے کیلئے مذاکرات کا 30 روزہ آغاز، جسے بڑھایا جا سکتا ہے ۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹی وی سے گفتگو میں تصدیق کی کہ انہوں نے ایران کے ساتھ ایک معاہدے کا مسودہ دیکھا ہے ، ان کا کہنا تھا کہ ایران جنگ کے حوالے سے امریکا کے ساتھ کسی معاہدے تک پہنچنے کیلئے کافی قریب آ رہا ہے ۔جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا یہ کافی ہے ، تو انھوں نے کہا کہ میں نہیں جانتا، میں آپ کو یہ نہیں بتا سکتا۔صدر نے مسودے کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں، تاہم انھوں نے اصرار کیا کہ کوئی بھی معاہدہ ہر صورت ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکے گا۔

انھوں نے کہا کہ میں صرف اس معاہدے پر دستخط کروں گا جس میں ہمیں وہ سب کچھ ملے جو ہم چاہتے ہیں۔ یا تو ہم معاہدہ کریں گے ، یا پھر ایسی صورتحال ہوگی جہاں کسی ملک کو اتنی سخت ضرب نہیں لگے گی جتنی انھیں لگنے والی ہے ۔ٹرمپ نے ایکسیوس کو ٹیلیفونک انٹرویو میں بتایا کہ خلیجی اور دیگر علاقائی رہنماؤں سے گفتگو سے پہلے ایران کے ساتھ معاہدے تک پہنچنے کے امکانات پچاس، پچاس ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ اتوار تک یہ فیصلہ کر سکتے ہیں کہ آیا ایران کے خلاف فوجی کارروائی دوبارہ شروع کی جائے یا نہیں۔انہوں نے کہا معاہدہ ہوگا یا پھر ایران کو مکمل تباہی سے دوچار کر دیں گے ۔ٹرمپ جس نئے مسودے کا جائزہ لینے والے ہیں، وہ ایران اور پاکستان کے درمیان ہونے والی بات چیت کے نتیجے میں سامنے آیا۔

ٹرمپ نے ہفتے کے روز فیلڈ مارشل عاصم منیر ، سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان، قطر کے امیر تمیم بن حمد آل ثانی،ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ دیگر رہنماؤں سے تفصیلی گفتگو کی۔کال سے آگاہ ایک ذریعے کے مطابق کئی رہنماؤں نے ٹرمپ پر زور دیا کہ وہ اس معاہدے کو قبول کر لیں۔ٹرمپ نے سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ مسلم رہنماؤں سے گفتگو مثبت رہی ، ایران سے معاہدے کے آخری پہلو زیر بحث ہیں،مذاکرات مکمل ہونے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔امریکا، ایران اور دیگر متعلقہ ممالک کے درمیان ایک معاہدے پر بڑی حد تک اتفاق ہو چکا ہے تاہم چند نکات پر حتمی مشاورت جاری ہے ۔معاہدے کی آخری تفصیلات جلد طے پا جائیں گی جس کے بعد باضابطہ اعلان کیا جائے گا۔معاہدے کے بعد آبنائے ہرمز کو بھی کھول دیا جائے گا۔

امریکی صدر نے کہا کہ ان کی اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے بھی گفتگو ہوئی جو مثبت رہی۔ادھر نائب صدر جے ڈی وینس، جو اوہائیو میں تھے اور وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ، جو ویسٹ پوائنٹ میں موجود تھے ، کو بھی واشنگٹن واپس بلایا گیا تاکہ معاہدے پر بات چیت کے لیے اجلاس میں شرکت کر سکیں۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا امکان ہے کہ جلد ہمارے پاس کوئی اہم اعلان ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اچھی خبر سامنے آئے گی۔ایران کی وزارتِ خارجہ کا کہنا تھا کہ تہران پاکستانی ثالثی کے ذریعے ایک مفاہمتی یادداشت کو حتمی شکل دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے ۔وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اس یادداشت میں جنگ کا خاتمہ، ایران پر امریکی بحری ناکہ بندی کا خاتمہ اور بیرونِ ملک منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی شامل ہو گی، تاہم جوہری پروگرام اس کا حصہ نہیں ہو گا۔

انہوں نے کہا پابندیاں یقیناً مذاکرات کے موضوعات میں شامل ہیں، لیکن چونکہ اس مرحلے پر ہم جوہری مسئلے پر بات نہیں کر رہے ، اس لیے پابندیاں اٹھانے کی تفصیلات پر بھی مذاکرات نہیں ہوں گے ۔اسماعیل بقائی نے کہا کہ مفاہمتی یادداشت کے متن میں 30 اور 60 روزہ مدتیں شامل کی گئی ہیں، لیکن ابھی اسے حتمی شکل نہیں دی گئی۔بقائی نے کہا کہ آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی طریقۂ کار پر ایران، عمان اور اس آبی گزرگاہ سے ملحق ممالک کے درمیان اتفاق ہونا چاہیے ، اور امریکا کا اس سے کوئی تعلق نہیں۔رائٹرز کے مطابق ترجمان نے کہا کہ ہم معاہدے سے ابھی کافی دور بھی ہیں اور کافی قریب بھی، تاہم امریکی حکام بار بار اپنی پوزیشن تبدیل کر رہے ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ایک اہم مسئلہ امریکا کی جانب سے بحری قزاقی یعنی ناکہ بندی ہے ، تاہم جنگ کے خاتمے کا معاملہ، خصوصاً لبنان میں جنگ کا خاتمہ ایران کی ترجیح ہے ۔

ایران کے چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے خبردار کیا کہ اگر واشنگٹن نے دوبارہ جارحیت شروع کی تو اسے سخت جواب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ قالیباف نے سوشل میڈیا پر کہا ہماری مسلح افواج نے جنگ بندی کے دوران خود کو اس انداز میں دوبارہ منظم کیا ہے کہ اگر ٹرمپ نے دوبارہ کوئی حماقت کی اور جنگ شروع کی تو امریکا کے لیے نتائج پہلے دن سے زیادہ تباہ کن اور تلخ ہوں گے ۔ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس سے گفتگو میں کہا کہ تہران مسلسل سفارتی دھوکا دہی، فوجی جارحیت اور واشنگٹن کے متضاد مؤقف اور حد سے زیادہ مطالبات کے باوجود مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے ۔ سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق عراقچی نے ترکیہ، عراق، قطر اور عمان کے وزرائے خارجہ سے بھی رابطے کیے ۔

دوسری جانب اسرائیل نے جنوبی لبنان کے 15 دیہات کے رہائشیوں کو فوری انخلا کی وارننگ دی تاکہ مبینہ حزب اللہ اہداف پر متوقع فضائی حملوں سے بچا جا سکے ، کیونکہ لبنان کے محاذ پر لڑائی جاری ہے ۔ 17 اپریل کی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیل جنوبی لبنان میں حملے ، تباہی اور انخلا کے احکامات جاری رکھے ہوئے ہے ، جبکہ اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کو نشانہ بنا رہا ہے ۔ دوسری جانب حزب اللہ بھی اسرائیلی افواج پر حملے جاری رکھے ہوئے ہے ۔ حزب اللہ نے کہا کہ اس کے سربراہ نعیم قاسم کو عباس عراقچی کا پیغام موصول ہوا، جس میں کہا گیا کہ ایران ان تحریکوں کی حمایت ترک نہیں کرے گا جو انصاف اور آزادی کا مطالبہ کرتی ہیں، جن میں سرفہرست حزب اللہ ہے ۔ بیان میں پاکستانی ثالثوں کے ذریعے پیش کی گئی ایران کی تازہ تجویز میں جنگ کے مستقل اور پائیدار خاتمے کیلئے لبنان کو بھی جنگ بندی میں شامل کرنے پر زور دیا گیا ہے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں