بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں آپریشنز، 24 دہشتگرد ہلاک، 7 سکیورٹی اہلکار شہید
کوئٹہ کے نواح میں 9دہشتگردہلاک،4سی ٹی ڈی اہلکار شہید ،دہشتگردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد، ڈیرہ بگٹی میں گیس پائپ لائن تباہ ،سوراب میں بم دھماکا بنوں میں15 دہشتگرد مارے گئے ، 2پولیس اور ریٹائرڈ ایف سی اہلکار شہید ، کچے سے 11 سالہ مغویہ بحفاظت بازیاب،2 ڈاکو ہلاک ،لاہور ودیگر شہروں سے 13دہشتگرد گرفتار
کوئٹہ، بنوں ،لاہور،ملتان (کرائم رپورٹر، سٹی رپورٹر،مانیٹرنگ ڈیسک،نیوزایجنسیاں) خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں پولیس،سی ٹی ڈی اورسکیورٹی فورسزنے مختلف انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 24 دہشت گرد ہلاک کر دئیے جبکہ ایک ریٹائرڈ ایف سی اہلکارسمیت 7سکیورٹی اہلکار شہید اور کئی زخمی ہوگئے ۔ پنجاب میں بھی سی ٹی ڈی نے مختلف شہروں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 13 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کر لئے ۔تفصیلات کے مطابق صوبہ بلوچستان میں کوئٹہ کے نواحی علاقوں پنج پائی اور نوحصار میں سی ٹی ڈی اور سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں 9 دہشت گرد ہلاک ہوگئے جبکہ 4 سی ٹی ڈی اہلکار شہید اور 6 زخمی ہوئے ۔ حکام کے مطابق دہشت گردوں کے قبضے سے بھاری مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔
ادھر ڈیرہ بگٹی میں نامعلوم افراد نے 26 انچ قطر کی گیس پائپ لائن دھماکے سے اڑا دی جس سے سوئی اور دیگر علاقوں میں گیس فراہمی متاثر ہوئی جبکہ سوراب میں قومی شاہراہ کے قریب بم دھماکاہوا،تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں کے علاقوں میریان اور بارکزئی اخوند خیل میں پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ کارروائیوں کے دوران 15 دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئیں۔ آپریشنز کے دوران شدید فائرنگ کے تبادلے میں 2پولیس اہلکار اور ایک ریٹائرڈ ایف سی اہلکار شہید جبکہ متعدد اہلکار زخمی ہوئے ۔ سکیورٹی فورسز نے 10 کلو وزنی دیسی ساختہ بم بھی ناکارہ بنا دیا۔ آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے کہا کہ فتنہ الخوارج کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جائیں گی۔
پنجاب میں سی ٹی ڈی نے لاہور، ساہیوال، ملتان، جہلم، جھنگ، چنیوٹ اور دیگر شہروں میں 58 انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کے دوران 13 مشتبہ دہشت گرد گرفتار کر لئے ۔ حکام کے مطابق گرفتار افراد سے دھماکا خیز مواد، آئی ای ڈیز اور ڈیٹونیٹر برآمد ہوئے ہیں۔صدر مملکت آصف علی زرداری اور وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کامیاب کارروائیوں پر پولیس اور سی ٹی ڈی کو خراج تحسین پیش کیا۔علاوہ ازیں شکار پور پولیس نے کچے کے علاقے میں کامیاب آپریشن کر کے پشاور سے اغوا کی گئی لڑکی کو بحفاظت بازیاب کرالیا ، کارروائی کے دوران دو ڈاکو ہلاک ہوگئے ۔ترجمان سندھ پولیس کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق مغویہ 11 سالہ حورم سعید پٹھان کو پولیس نے بحفاظت بازیاب کرالیا ہے اورآپریشن کے دوران مرکزی ڈاکو عبدالوحید عرف ملا سمیت دو ڈاکو ہلاک ہوگئے ہیں۔
آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کامیاب آپریشن پر ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب، ایس ایس پی شکار پور محمد کلیم ملک اور آپریشن میں حصہ لینے والی پوری پولیس ٹیم کو شاباش دیتے ہوئے افسروں اور جوانوں کے لیے نقد انعامات اور تعریفی اسناد کا اعلان کیا ہے ۔ اعلامیے کے مطابق آئی جی سندھ نے پشاور سے تعلق رکھنے والی 11 سالہ بچی حورم سعید پٹھان کے اغوا سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی شکارپور کو بچی کی باحفاظت بازیابی کی ہدایت جاری کی تھی، جس پر شکار پور میں کچے کے علاقے کوٹ شاہو میں دو روز قبل آپریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔اس حوالے سے بتایا گیا کہ آپریشن کے نتیجے میں 22 مئی کو لاہور کی رہائشی نوکری کے جھانسے میں اغوا ہونے والی لڑکی جینیفر عامر مسیح جبکہ 23 مئی کو پشاور سے تعلق رکھنے والی حورم سعید پٹھان کو پولیس نے بحفاظت بازیاب کرالیا اور آپریشن کے دوران دو اغوا کار ڈاکو عبدالوحیدعرف ملا اور یاسین بنگلانی بھی ہلاک ہوئے ہیں۔