فریقین کی رضامندی سے جاری عدالتی حکم چیلنج نہیں ہوسکتا : وفاقی آئینی عدالت

فریقین کی رضامندی سے جاری عدالتی حکم چیلنج نہیں ہوسکتا : وفاقی آئینی عدالت

ایسے احکامات سے انحراف توہینِ عدالت کے مترادف قرار،ریٹائرڈ جج کی بطور ایڈمنسٹریٹر تقرری کو درست قرار دیدیاگیا سندھ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کیس میں اپیل تاخیری حربہ قراردے کر مستردکردی گئی ، سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار

اسلام آباد (اے پی پی)وفاقی آئینی عدالت نے قرار دیا ہے کہ فریقین کی رضامندی سے جاری ہونے والے عدالتی احکامات بعد میں چیلنج نہیں کئے جا سکتے، اور ایسے احکامات سے انحراف توہینِ عدالت کے مترادف ہے۔ رپورٹنگ کیلئے منظور شدہ تحریری تفصیلی فیصلے میں عدالت نے سندھ کی کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کے انتخابات سے متعلق کیس میں غلام حسین خواجہ کی اپیل مسترد کرتے ہوئے سندھ ہائیکورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔عدالت نے واضح کیا کہ سندھ ہائیکورٹ نے ریٹائرڈ جج جسٹس (ر) ندیم اظہر صدیقی کو ایڈمنسٹریٹر اور الیکشن آفیسر مقرر کیا تھا، جو قانونی طور پر درست اقدام ہے ۔دو رکنی بینچ جس میں جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سید ارشد حسین شاہ شامل تھے نے فیصلہ سنایا ،جبکہ تفصیلی فیصلہ جسٹس سید ارشد حسین شاہ نے تحریر کیا۔

فیصلے کے مطابق سندھ ہائیکورٹ نے رجسٹرار کوآپریٹو سوسائٹیز سندھ کے حکم، شوکاز نوٹس اور انکوائری وارنٹ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے تین ماہ میں انتخابات کرانے کا حکم دیا تھا۔درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ہائیکورٹ نے اپنے دائرہ اختیار سے تجاوز کرتے ہوئے ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا، تاہم عدالت نے یہ مؤقف مسترد کر دیا۔وفاقی آئینی عدالت نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت ہائیکورٹس بنیادی حقوق کے نفاذ کے لیے مناسب احکامات جاری کرنے کی مجاز ہیں، اور ضرورت پڑنے پر کسی بھی اہل شخص کو ذمہ داری سونپی جا سکتی ہے ۔ کوآپریٹو ڈیپارٹمنٹ سے باہر شخص کی بطور ایڈمنسٹریٹر تقرری کوئی غیر معمولی بات نہیں، کیونکہ ماضی میں بھی ایسے اقدامات کئے جا چکے ہیں۔فیصلے میں قرار دیا گیا کہ رضامندی سے ہونے والے عدالتی فیصلے حتمی ہوتے ہیں اور انہیں بعد میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا، عدالت نے اپیل کو تاخیری حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں