80سے زائد کنٹریکٹ، ایڈہاک ملازمین کو مستقل کرنیکا حکم
کراچی (سٹاف رپورٹر) سندھ ہائی کورٹ نے مختلف سرکاری منصوبوں اور محکموں میں کنٹریکٹ اور ایڈہاک بنیادوں پر تعینات 80 سے زائد ملازمین کو مستقل کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ حکومت اہل ملازمین کو ریگولرائزیشن کے قانونی حق سے محروم نہیں کرسکتی جبکہ فلاحی قوانین پر امتیازی انداز میں عمل درآمد آئین کے منافی ہے۔
سندھ ہائی کورٹ کے آئینی بینچ کے سربراہ جسٹس محمد سلیم جیسر اور جسٹس نثار احمد بھنبھرو پر مشتمل دو رکنی بینچ نے 7 آئینی درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کیا۔ عدالت نے قرار دیا کہ سندھ ریگولرائزیشن ایکٹ 2013 فلاحی نوعیت کا قانون ہے جس کا مقصد کنٹریکٹ اور ایڈہاک ملازمین کو تحفظ دینا ہے ۔ ایسے ملازمین جو قانون نافذ ہونے کے وقت سرکاری محکموں یا صوبائی منصوبوں میں خدمات انجام دے رہے تھے ، انہیں قانون کے مطابق مستقل تصور کیا جا سکتا ہے ، بشرطیکہ وہ متعلقہ اسامی کے لیے اہل ہوں۔عدالت نے نیشنل میٹرنل، نیونیٹل اینڈ چائلڈ ہیلتھ پروگرام میں تعینات ویمن میڈیکل آفیسرز کی درخواست پر محکمہ صحت سندھ کا اقدام امتیازی قرار دیتے ہوئے 26 مارچ 2026 کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دے دیا اور حکم دیا کہ ڈاکٹر ندا جعفری، ڈاکٹر امیرن پنہور اور ڈاکٹر غلام فاطمہ کو بھی 21 نومبر 2019 سے مستقل تصور کیا جائے اور تمام مراعات دی جائیں۔
کمپیوٹرائزیشن آف ڈومیسائل اینڈ پی آر سی پراجیکٹ کے 46 ملازمین کی درخواست پر عدالت نے اسکروٹنی کمیٹی کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ منصوبہ ختم ہونے کی بنیاد پر مستقلی سے انکار غیر قانونی ہے ۔ عدالت نے گریڈ 15 تک کے ملازمین کے کیسز دوبارہ جانچنے جبکہ گریڈ 16 اور اس سے اوپر کے ملازمین کے کیسز سندھ پبلک سروس کمیشن کو بھجوانے کا حکم دیا۔بینظیر بھٹو یوتھ ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت کنٹریکٹ پر کام کرنے والے 23 ملازمین کی درخواست میں عدالت نے قرار دیا کہ انتظامی خامیوں کی بنیاد پر مستقلی سے انکار قانون کے مطابق نہیں۔ عدالت نے باقی تمام درخواست گزاروں کو 60 روز میں مستقل کرنے کی ہدایت کی۔عدالت نے ہپاٹائٹس پریوینشن اینڈ کنٹرول پروگرام، سندھ پولٹری ویکسین سینٹر پروگرام اور پولٹری پیتھوجنز منصوبے سے متعلق درخواستوں میں بھی اسکروٹنی کمیٹیوں کے فیصلے کالعدم قرار دیتے ہوئے متعلقہ ملازمین کے کیسز سندھ پبلک سروس کمیشن کو بھیجنے کی ہدایت کی تاکہ اہلیت جانچنے کے بعد انہیں مستقل کیا جا سکے ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ حکومت قانون پر عمل درآمد میں پک اینڈ چوز کی پالیسی اختیار نہیں کرسکتی اور یکساں حالات رکھنے والے تمام ملازمین کے ساتھ مساوی سلوک آئینی تقاضا ہے ۔