سپریم کورٹ:درجہ چہارم ملازمین برطرفی کافیصلہ کالعدم قرار

سپریم کورٹ:درجہ چہارم ملازمین برطرفی کافیصلہ کالعدم قرار

سروس ٹریبونل تعین کرے ،درخواست گزار سول سرونٹس دائرے میں آتے یا نہیں دائرہ اختیار کا فیصلہ کیے بغیر میرٹ پر رائے دینا ناقابلِ قبول ہے :دورکنی بینچ کافیصلہ

اسلام آباد (اے پی پی)سپریم کورٹ آف پاکستان نے قرار دیا ہے کہ اگر کوئی عدالت یا ٹریبونل خود کو دائرہ اختیار سے محروم قرار دے تو اسے مقدمے کے میرٹ میں جانے کے بجائے صرف قابلِ سماعت ہونے کے سوال تک محدود رہنا چاہیے کیونکہ دائرہ اختیار کے بغیر دی گئی میرٹ پر رائے قانونی طور پر موثر نہیں ہوتی۔ تحریری تفصیلی فیصلہ کے مطابق جسٹس محمد علی مظہر اور جسٹس مسرت ہلالی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے دو برطرف ملازمین کی اپیلیں منظور کرتے ہوئے وفاقی سروس ٹریبونل کا فیصلہ کالعدم قرار دے دیا اور کیس دوبارہ سماعت کے لیے واپس بھجوا دیا۔

عدالت نے قرار دیا کہ ٹریبونل نے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے مقدمے کے میرٹ پر بھی رائے دی، جو قانونی اصولوں کے منافی ہے ۔درخواست گزاروں کاموقف تھا کہ انہیں 2019 میں نائب قاصد کے طور پر تعینات کیا گیا تھا اور بعد ازاں مبینہ جعلی تقرری خطوط کے الزام میں بغیر باقاعدہ شوکاز نوٹس اور مکمل محکمانہ کارروائی کے برطرف کر دیا گیا۔عدالت نے ہدایت کی کہ وفاقی سروس ٹریبونل پہلے یہ تعین کرے کہ آیا درخواست گزار سول سرونٹس کے دائرے میں آتے ہیں یا نہیں، اور صرف اسی بنیاد پر اپنے دائرہ اختیار سے متعلق فیصلہ کرے ، جبکہ میرٹ پر حتمی رائے متعلقہ دائرہ اختیار کے تعین کے بعد دی جائے ۔

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں