پاکستان کی 25 فیصد بجلی شمسی ذرائع سے حاصل، گلوبل انرجی
کراچی(کامرس رپورٹر)عالمی ادارے گلوبل انرجی مانیٹر کی تازہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کے توانائی شعبے میں ایک اہم اور دلچسپ تضاد سامنے آ رہا ہے۔۔۔
جہاں ایک طرف قابلِ تجدید توانائی خصوصاً شمسی توانائی تیزی سے فروغ پا رہی ہے ، وہیں دوسری جانب ملک اب بھی کوئلے پر مبنی بجلی کے نظام سے باہر نکلنے کیلئے واضح حکمتِ عملی اختیار نہیں کر سکا۔ رپورٹ کے مطابق 2025 کے دوران پاکستان میں غیر مرکزی شمسی تنصیبات میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جسکے نتیجے میں اندازاً ملک کی 25 فیصد بجلی شمسی ذرائع سے حاصل ہو رہی ہے ، تاہم اس تیزرفتار سولرائزیشن نے قومی بجلی گرڈ کے مالیاتی ڈھانچے کو دباؤ میں ڈال دیا، کیونکہ طلب اور آمدنی میں عدم توازن پیدا ہو رہا ہے ۔ کوئلے پر چلنے والے آزاد بجلی پیدا کرنے والے ادارے اپنی طویل المدتی ضمانتوں میں توسیع کے خواہاں ہیں، جو آئندہ برسوں میں مہنگی بجلی کے بوجھ کو برقرار رکھنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار ایکویٹیبل ڈیولپمنٹ کے ماہرین کے مطابق خطے میں جغرافیائی کشیدگی، خصوصاً ایران سے متعلق حالات کے تناظر میں، حکومت مقامی کوئلے کے استعمال کی طرف جھکاؤ رکھتی دکھائی دیتی ہے ، حالانکہ عوامی سطح پر شمسی توانائی کی تیز رفتار قبولیت ایک مختلف سمت کی نشاندہی کر رہی ہے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر یہی پالیسی تضاد برقرار رہا تو پاکستان اسی طرح فوسل فیول ٹریپ میں پھنسا رہ سکتا ہے ۔