امریکا، ایران کشیدگی:جنگی خطرات کم ہو رہے ہیں
مذاکرات میں فریقین سنجیدہ، پاکستانی کردار کے سب معترف نظر آ رہے
(تجزیہ:سلمان غنی)
امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کی جانب سے ایران کے ساتھ مذاکرات میں پیش رفت اور جلد مثبت نتائج سامنے آنے کے اشارے کو خطے میں جاری سفارتی کوششوں کیلئے اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس بیان سے واضح ہوتا ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان جنگی خطرات میں وقتی کمی آئی ہے اور دونوں فریق اب براہِ راست تصادم کے بجائے کسی درمیانی راستے کی تلاش میں ہیں۔دوسری جانب پاکستان کے سروسز چیف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر تہران کے ہنگامی دورے کے بعد وطن واپس پہنچ چکے ہیں جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے ملاقاتیں کیں۔ سفارتی ذرائع کے مطابق ان ملاقاتوں میں خطے کی صورتحال، کشیدگی میں کمی اور جاری ثالثی عمل پر تفصیلی تبادلہ خیال ہوا۔ ایرانی قیادت نے پاکستان کی مفاہمتی کوششوں کو سراہتے ہوئے انہیں مثبت اور تعمیری قرار دیا۔
ماہرین کے مطابق امریکا کی جانب سے مذاکرات میں پیش رفت کا اعتراف اور پاکستانی قیادت کے تہران رابطے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی خاموش سفارت کاری کے نتیجے میں دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف میں لچک دکھانے پر آمادہ ہوئے ہیں، اگرچہ ابھی کسی حتمی معاہدے کا اعلان قبل از وقت ہوگا۔مارکو روبیو کے بیان کو اس بات کی علامت قرار دیا جا رہا ہے کہ واشنگٹن اب ایران کے ساتھ محدود مگر بامقصد مذاکرات چاہتا ہے ۔ اس پیش رفت میں ممکنہ طور پر ایرانی جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور خطے میں کشیدگی کم کرنے جیسے معاملات شامل ہیں۔ مبصرین کے مطابق روبیو جیسے سخت گیر امریکی رہنما کی جانب سے مثبت اشارہ امید کی کرن سمجھا جا رہا ہے ۔سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکا اب پاکستان کو ایک قابل اعتماد ثالث کے طور پر دیکھ رہا ہے ۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی ایرانی قیادت سے ملاقاتوں اور امریکی بیان کو پاکستان کی متوازن اور محتاط سفارت کاری کی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے ۔ پاکستان نے حالیہ عرصے میں ایران، امریکا، چین اور خلیجی ممالک کے ساتھ بیک وقت رابطے برقرار رکھے ، جس نے اسے ثالثی کے قابل بنایا۔اطلاعات ہیں کہ امریکا اور ایران نے اپنے سخت مؤقف میں کچھ لچک پیدا کی ہے اور دونوں جنگ سے گریز چاہتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ایرانی جوہری پروگرام، پابندیوں میں نرمی اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی کم کرنے جیسے نکات پر ابتدائی پیش رفت ہوئی ہے ۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے درمیان براہِ راست ملاقات پر اصولی اتفاق ہو چکا ہے اور اس کی میزبانی پاکستان کر سکتا ہے ، تاہم اس بارے میں حتمی تاریخ سامنے نہیں آئی۔
ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کوئی بڑا غیر متوقع واقعہ پیش نہ آیا تو آئندہ چند ہفتوں میں امریکا اور ایران کے درمیان کسی قابل عمل مفاہمت کے امکانات موجود ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان نے دونوں ممالک کے درمیان مکمل ڈیڈ لاک پیدا نہیں ہونے دیا اور اسی وجہ سے عالمی میڈیا پاکستانی کردار کو ’’خاموش مگر مؤثر سفارت کاری‘‘ قرار دے رہا ہے ۔تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ ثالثی کامیاب رہتی ہے تو پاکستان کو سفارتی، اقتصادی اور سکیورٹی شعبوں میں نمایاں فوائد حاصل ہو سکتے ہیں۔ امریکا اور ایران دونوں کے ساتھ بہتر تعلقات پاکستان کے علاقائی کردار کو مضبوط کریں گے جبکہ عالمی سطح پر بھی پاکستان کی ساکھ میں اضافہ ہوگا۔موجودہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ امریکا اب جنگ کے بجائے ’’کنٹرولڈ انگیجمنٹ‘‘کی حکمت عملی پر آگیا ہے اور یہی وجہ ہے کہ سفارتی رابطوں کو جاری رکھا جا رہا ہے ۔ ماہرین کے مطابق خطے میں امن اور استحکام کیلئے آنے والے چند روز انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔