نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- حکومت ملی توملک قرضوں کی دلدل میں پھنساہواتھا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عمران خان ملکی ترقی وخوشحالی کیلئےکوشاں ہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- سابق حکمرانوں نےملکی پیسہ لوٹ کربیرون ملک جائیدادیں بنائیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برآمدات میں تیزی سےاضافہ ہورہاہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- (ن)لیگ دورمیں پاورلومزکوتالےلگےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- دنیانےکورونامیں پاکستان کی اسمارٹ لاک ڈاؤن پالیسی کوسراہا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- برطانوی وزیراعظم نےماحولیات سےمتعلق عمران خان کےاقدامات کی تعریف کی،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پوری دنیامیں مہنگائی کا50 سالہ ریکارڈٹوٹ گیا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 10کروڑلوگوں کوکوروناویکسین لگاچکےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی ،(ن)لیگ نےاقتدارمیں آکرصرف اپنےبچوں کاسوچا،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- عمران خان اپنےمحلات نہیں غریب کوگھربناکردےرہاہے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- گھروں کےلیے 90ارب کےقرضےمنظورہوچکےہیں،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- یہ لوگ ووٹ کوعزت دینےکی بات کرتےتھے،فرخ حبیب
  • بریکنگ :- 2،2ہزارروپےمیں ووٹ کوعزت دےرہےتھے،فرخ حبیب
Coronavirus Updates

وزیراعظم کے وعدے اور سیاسی و معاشی چیلنجز

خصوصی ایڈیشن

تحریر : خاور گھمن


پی ڈی ایم بننے کے بعد سے سب سے زیادہ تبصرے اور تجزیئے اس اتحاد کے اغراض و مقاصد، افادیت، ملکی سیاست پر اثرات اور مقتدرہ کے ساتھ ممکنہ تعلقات پر ہوئے۔ پچھلے سال ستمبر سے لیکر اب تک، ہر دن ہر وقت ، ہر جگہ واحد موضوع بحث پی ڈی ایم اور اس کے ذریعے ہونے والی ممکنہ سیاسی تبدیلیاں رہا ہے لیکن جس انداز سے پی ڈی ایم کے غبارے سے ہوا نکلی ،ایک ہی شعر ذہن میں آتا ہے۔

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا

جو چیرا تو ایک قطرہ خون نہ نکلا

اب جس انداز سے پی ڈی ایم والے آپس میں لڑ رہے ہیں، اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اتحاد اپنی موت آپ مر چکا ہے اب اس سے کسی سیاسی تبدیلی کو توقع لگانا ایک دیوانے کا خواب ہی ہو سکتا ہے۔ کوئی معجزہ ہی پی ڈی ایم کے مردہ گھوڑے میں جان ڈال سکتا ہے۔ سیاسی اتحادوں میں اختلافات بھی ہوتے ہیں لیکن جس انداز سے پی ڈی ایم والے ، بالخصوص پی پی پی اور مسلم لیگ (ن) کے رہنما آپس میں  دست و گریبان ہیں ،یہ سب کچھ اپنی مثال آپ ہے۔ سینیٹ میں قائد حزب اختلاف کی نشست کولیکر جس انداز سے ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے  مسلم لیگ (ن) اور پی پی پی کے رہنماایک دوسرے پر تنقید کے نشتر برسا رہے ہیں، اس سے تو یہی لگتا ہے ان دونوں سیاسی جماعتوں کے رہنما  ابھی تک اپنے ماضی سے پیچھا نہیں چھڑا سکے۔

 بلاول بھٹو زر داری کا بار بار رائے ونڈ جانا اور مریم نواز کا دو دن لاڑکانہ میں قیام کرنا محض چھوٹے سیاسی مفادات کے لیے تھا ،اس کا آئین کی حرمت اور قانون کی حکمرانی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں تھا۔ ووٹ کو عزت دو کا نعرہ جو کہ میری نظر میں ایک اچھا طاقتور بیانیہ بن رہا تھا، کو صرف اور صرف اپنے اپنے مفادات کے لیے استعمال کیا گیا جس کی وجہ سے ان کی سیاست کو نقصان پہنچا ہے۔

پی ڈی ایم کے بعد شہر اقتدار میں سب سے زیادہ زیر بحث آنے والا موضوع موجودہ حکومت کی باقی ماندہ مدت میں ممکنہ کارکردگی ہے۔ کیا وزیر اعظم عمران خان 2023ء تک اپنے وعدوں پر عمل درآمد کر پائیں گے؟ اور کیا عمران خان اپنی موجودہ ٹیم کے ساتھ ملک کودرپیش معاشی اور سیاسی چیلنجز کا حل ڈھونڈ پائیں گے ؟ یا پھر اسی طرح سستی سے آگے بڑھتے رہیں گے۔ مہنگائی اور بیروز گاری عروج پر ہے،معاشی اعشاریے بھی تسلی بخش نہیں گو کہ زر مبادلہ، ٹریڈ اور کرنٹ اکاونٹ کے حوالے سے مثبت خبریں آرہی ہیں لیکن جب تک ان کے ثمرات غریب آدمی تک نہیں پہنچتے ایسی خبروں کا تحریک انصاف کو کوئی سیاسی فائدہ نہیں ہوگا۔

ان سوالات کو لیکر جب ایک سے زائد حکومتی وزراء سے بات ہوئی تو دلچسپ جوابات سننے کو ملے۔ تحریک انصاف کے اندر ایک طبقے کا خیال ہے کہ آئندہ انتخابات میں ان کی پارٹی کی جیت یا ہار کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ عمران خان نے اپنے بیان کردہ احتسابی بیانیے پر کتنا عمل کیا؟ ایک وزیر کے مطابق حکومت نے نا صرف آٹا، شوگر، پیڑولیم اور آئی پی پیز پر تحقیقاتی رپورٹس تیار کروائیں بلکہ ان پر عمل درآمد بھی شروع کردیا ہے۔ کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ ایک وقت آئے گا جب جہانگیر خان ترین اپنے بیٹے سمیت کرپشن کے حوالے سے کیسز پر ضمانتیں کروائیں گے۔ یا مشیر وزیر اعظم ندیم بابر کو ا پنے عہدوں سے ہاتھ دھوناپڑیں گے۔ وزراء کا کابینہ کی سطح پر احتساب ہو رہا ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماضی میں ہونے والی کرپشن پر بھی نظر ہے۔’’براڈ شیٹ رپورٹ‘‘ کے بہت سے کردار سامنے آ چکے ہیں۔ شریف خاندان ہو یا پھر زرداری خاندان، سب کے خلاف کیسز چل رہے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کی پوری کوشش ہے کہ یہ تمام کیسز اپنے منطقی انجام کو پہنچیں۔ اس بارے میں حکومت نیب کی جو بھی انتظامی مدد کر سکتی ہے، کرے گی۔

 پنجاب سے تعلق رکھنے والے وفاقی وزراء کا ماننا ہے کہ ’’انتخابات جیتنے کا واحد راستہ بہتر طرز حکومت ہی ہے۔ بد قسمتی سے گزشتہ اڑھائی سال کے دوران ہمارے بارے میں خاص طور پر پنجاب میں ایک ہی تاثر پختہ ہوا ہے کہ ہم لوگوں کی حکومت چلانے کے تیاری ہرگز نہیں تھی۔ رہی سہی کسر ہمارے ایک وزیرا علیٰ نے نکال دی ہے۔ اب ہمیں ہر کوئی نا اہلی کا طعنہ دیتا ہے۔ پنجاب کے اندر مسلم لیگ (ن) کے زور کو توڑنے کے لیے ہمیں بہت محنت کرنا پڑے گی، اگر 2023 ء میں بھی لوگوں کے مسائل اسی طرح رہے تو کوئی ہمیں ووٹ نہیں دے گا۔ سب سے اہم کام زراعت کے شعبے پر توجہ دیناہے ، پورے صوبے میں سڑکوں کی حالت بدتر ہو چکی ہے ، لوگ شکایتوں کے انبار لیکر پیش ہوتے ہیں، سیاست میں تاثر غلط ہو یا درست ، انتخابی سیاست پر اس کا خاص اثر پڑتا ہے‘‘۔

 ایک وزیر کا تو یہاں تک کہنا تھا کہ آنے والے دو سال انتخابات میں کامیابی کیساتھ تحریک انصاف کے مستقبل کے حوالے سے بھی بہت اہم ہیں۔ وزیر اعظم کے ارد گرد رہنے والے حضرات کا کہنا ہے، عمران خان صاحب کو ان تمام چیلنجز کا بہت اچھے سے ادراک ہے اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پوری کوشش بھی کر رہے ہیں۔ ایک معاون خصوصی کے مطابق بہت ساری مثبت چیزیں ہو رہی ہیں لیکن ہماری حکومت کا سب سے بڑا مسئلہ مہنگائی ہے اور اس پرقابو پانے کی پوری کوشش کر رہے ہیں۔ 

 ڈیڑھ سال بعد حکومت آخری سال میں داخل ہوجائے گی اور پانچواں سال الیکشن کا سال کہلاتا ہے جب پنچھی ہوا کا رخ دیکھ کر اڑنا بھی شروع کر دیتے ہیں۔اب وقت کم اور مقابلہ سخت ہے ، دیکھنا یہ ہوگا کہ سرکاری ٹیم باقی مدت میں کیا گل کھلاتی ہے، وہ اپنے منشور پر عمل کر پائے گی یا نہیں؟عوامی مسائل کو حل اور منشور پرعمل کئے بغیر اگلا انتخابی معرکہ کافی سخت ہو سکتا ہے۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔

چھوٹے چھوٹے دانے

کسی جنگل میں ایک ننھی چیونٹی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ ننھی چیونٹی کی ماں جب تک صحت مند تھی اپنے اور ننھی چیونٹی کے لئے مزے دار دانے لاتی، لیکن جب اس کی ماں بیمار اور بوڑھی ہو گئی تو دانہ لانے کی ذمے داری ننھی چیونٹی پر آ پڑی۔

بے غرض نیکی

ایک نیک عورت کہیں گاڑی میں سوار جا رہی تھی کہ اسے سڑک پر چھوٹی عمر کا ایک لڑکا نظر آیا، جو ننگے پائوں چلا جا رہا تھا اور بہت تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا یہ دیکھ کر نیک عورت نے کوچوان سے کہا غریب لڑکے کو گاڑی میں بٹھا لو۔ اس کا کرایہ میں ادا کر دوں گی۔‘‘