نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- رنگ روڈراولپنڈی منصوبہ،فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی رپورٹ مکمل
  • بریکنگ :- چیف سیکرٹری پنجاب نےرپورٹ وزیراعلیٰ عثمان بزدارکوبھجوادی،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ پنجاب کی تحقیقاتی رپورٹ پبلک کرنےکی منظوری،ذرائع
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ عثمان بزدار کاذمہ داران کیخلاف بلاامتیازکارروائی کاحکم،ذرائع
  • بریکنگ :- رپورٹ کی سفارشات پرمن وعن عملدرآمدکےاحکامات جاری،ذرائع
  • بریکنگ :- سابق کمشنرراولپنڈی محمدمحمود،لینڈایکوزیشن کلیکٹروسیم تابش ذمہ دارقرار
  • بریکنگ :- محمدمحموداوروسیم تابش کاکیس نیب کو بھجوانےکی سفارش،رپورٹ کامتن
  • بریکنگ :- دونوں افسران نےغیرقانونی لینڈایکوزیشن پر 2.3 ارب روپےتقسیم کیے،رپورٹ
  • بریکنگ :- وسیم تابش نےاٹک میں 2 ارب سےزائدرقم خرچ کی،رپورٹ کامتن
  • بریکنگ :- ممبرپی اینڈڈی فرخ نویدکوعہدےسےہٹاکرتحقیقات کی جائیں،رپورٹ
  • بریکنگ :- توقیرشاہ،نیسپاک کےچندافسران بھی بےضابطگیوں میں ذمہ دار قرار
  • بریکنگ :- رقم کی ادائیگی اٹک لوپ کےرینٹ سینڈیکیٹ کوفائدہ پہنچانےکیلئےکی گئی، رپورٹ
  • بریکنگ :- رینٹ سینڈیکیٹ میں ملوث تمام لوگوں کیخلاف تحقیقات ہوں گی ،رپورٹ
  • بریکنگ :- ایف بی آر،ایف آئی اےکوچھان بین کی ذمہ داری دینے کی سفارش ،رپورٹ
Coronavirus Updates

حضرت علیؓ،باب العلم

خصوصی ایڈیشن

تحریر : فقیر اللہ خان


آپ ؓ کے والد ابوطالبؓ مکہ کے ذی اثر اور باوقار لوگوں میں سے تھے۔ آنحضرتؐ کے دادا حضرت عبدالمطلبؓ بن ہاشم کی وفات کے بعد آپؐ نے اُنہی کی آغوش میں پرورش پائی۔ ابوطالب نے آپؐ کو تجارت کے معزّز پیشے سے روشناس کرایا۔ حضرت خدیجہؓ سے آنحضورؐ کے نکاح کا خطبہ بھی انہی نے پڑھایا۔ بعثتِ نبویؐ کے بعد جب آپؐ نے اعلانِ نبوّت فرمایا تو ابوطالبؓ نے قدم قدم پر آپؐ کی حمایت کا فریضہ سرانجام دیا، آپؐ کی حمایت کرنے پر آنحضورؐ اور آپؓ کے خاندان کو شعبِ ابی طالب میں تین سال تک محصُور رکھا گیا۔

جب مشرکینِ مکہ نے بنوہاشم اور بنو مطلب کو شعبِ ابی طالب میں محصُور کیا تو حضرت علیؓ بھی حضورپاک ﷺ کی حمایت میں اپنے والدین اور دوسرے اقرباء کے ساتھ تین برس تک ہولناک مصائب و آلام جھیلتے رہے، جب یہ محاصرہ ختم ہوا تو چند ہی ماہ بعد آپؓ کے شفیق باپ کا سایہ سَر سے اٹھ گیا، حضورپاک ﷺ کی مشفقانہ سرپرستی نے اُنہیں باپ کی کمی محسوس نہ ہونے دی۔ حضرت علیؓ کی عمر اُس وقت سترہ سال تھی۔ حضرت ابوطالبؓ کی وفات کے دو ہی ماہ بعد حضرت خدیجۃ الکُبریٰ  ؓ اپنے خالقِ حقیقی سے جاملیں۔ اس کے بعد مشرکین کی طرف سے آپؐ اور آپؐ کے صحابہ ؓکیلئے حالات سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ اللہ کی طرف سے آپ ﷺ کو ہجرتِ مدینہ کا حکم ملا۔آپ ﷺ حضرت علیؓ کو اپنے بستر مبارک پر سلا کر ہجرت پر تشریف لے گئے۔آپ امانتیں واپس کرنے کے بعدحضور پاک ﷺ کی طرف تشریف لے گئے۔ سرورِ عالم ﷺ مکہ سے ہجرت کے بعد چند دن قبا میں قیام فرمایا۔ ابھی آپؐ قبا ہی میں تھے کہ تین دن بعد حضرت علیؓ بھی ہجرت کرکے آپؐ کی خدمتِ اقدسؐ میں قبا آملے۔ وادیٔ قبا میں میزبانِ رسولؐ حضرت کلثومؓ بن الہدم نے حضرت علیؓ کو مہمان بنایا۔ جب حضرت علیؓ قبا پہنچے تو پیدل سفر کرنے کی وجہ سے اُن کے پاؤں میں آبلے پڑ گئے تھے۔ آنحضورؐ جب قبا سے مدینہ تشریف لے گئے تو حضرت علیؓ بھی آپؐ کے ہمراہ تھے۔ پھر جب کچھ ہی دنوں بعد مسجدِ نبویؐ کی تعمیر کا آغاز ہوا توصحابہ کرام ؓ کے شانہ بشانہ حضرت علیؓ نے بھی اُس کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ 

آپؐ نے اپنی صاحبزادی سیّدہ فاطمۃ الزھراؓ سے نکاح کے لئے حضرت علیؓ کو منتخب فرمایا۔ آپﷺنے حضرت علیؓ سے پوچھا کہ تمہارے پاس مہرادا کرنے کے لیے کچھ ہے؟ وہ بولے، ایک گھوڑے اور زرہ کے سوا کچھ نہیں۔ آپؐ نے فرمایا کہ گھوڑا تو لڑائی کے لیے ہے البتہ زرہ فروخت کردو۔ حضرت علیؓ نے زرہ کو 480 درہم میں فروخت کردیا اور قیمت لاکر آنحضورؐ  کے سامنے پیش کردی۔ آپؐ نے حضرت بلالؓ کو حکم دیا کہ بازار سے عِطر اور خوشبو خرید لائیں اور آپﷺ نے خود نکاح پڑھایا اور دونوں میاں بیوی پر وضو کا پانی چھڑک کر اُن کے حق میں خیروبرکت کی دعا فرمائی۔

 حضورِ اکرمؐ نے حضرت فاطمہؓ سے مخاطب ہوکر فرمایا ’’میں نے تمہاری شادی اپنے خاندان کے بہترین شخص سے کی ہے‘‘۔ حضرت علیؓ اِس سے قبل آنحضورؐ کے ساتھ ہی رہتے تھے مگر اب ایک نئے مکان کی ضرورت پیش آئی۔ چنانچہ حارث بن نعمانؓ کا مکان اُن کی رہائش گاہ بنا۔ 

جب آنحضرتؐ مدینہ تشریف لے گئے تو مشرکین مکہ کے غیظ و غضب میں مزید اضافہ ہوگیا۔ انہوں نے اسلام کو مکمل طور پر ختم کرنے کے منصوبے بنانے شروع کردیے اور جب مشرکینِ مکہ کے ساتھ غزوات کا آغاز ہوا تو بدر ہو یا اُحد، خندق ہو یا خیبر ہر غزوہ میں حضرت علیؓ نے شمشیر بکف اور سرفروشی کے جوہر دکھائے۔ کفار کے خلاف 2ھ میں معرکہ غزوہ بدر میں آنحضرتؐ نے ایک عَلَم حضرت علیؓ کو عطا فرمایا۔ 9ھ میں حضور اکرمؐ جب غزوہ تبوک کے لیے روانہ ہوئے تو حضرت علیؓ کو مدینہ میں اپنا جانشین مقرر فرمایا۔ ابن ہشام کا بیان ہے کہ غزوہ تبوک سے واپسی پر سرورِ عالمؐ نے حضرت ابوبکرؓ صدیق کو امیر حج بناکر مکہ روانہ فرمایا۔ اسی اثناء میں سورہ براۃ نازل ہوئی تو آپؐ نے حضرت علیؓ کو یہ ذمہ داری سونپی کہ وہ مکہ جاکر حج کے اجتماع میں یہ سورہ لوگوں کو سنائیں۔

حجۃ الوداع سے کچھ عرصہ قبل حضورِ اکرمؐ نے حضرت علیؓ کو یمن کے ایک مشہور قبیلہ کی طرف اسلام کی تبلیغ کے لیے بھیجا۔ حضرت علیؓ یمن گئے تو اس انداز سے لوگوں کو دعوتِ توحید دی کہ وہ بِلاتامّل حلقہ بگوش اسلام ہوگئے۔ 10ھ میں حضرت علیؓ یمن سے آکر ہی مکہ میں حجۃ الوداع میں شرکت کے لیے آئے حجۃ الوداع سے واپسی کے سفر میں حضورﷺ نے ایک مقام پر قیام فرمایا۔ ابنِ سعد کا بیان ہے کہ حجۃ الوداع (10ھ) کے بعد حضورؐ نے حضرت علیؓ کو 300 سوار دے کر یمن ہی کے ایک اور قبیلہ کی طرف اسلام کی حقانیت کو تسلیم کروانے کے لیے بھیجا لیکن قبیلہ والوں نے پہلے سخت مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔ حضرت علیؓ نے ایک ہی حملے میں اُن کے کس بَل نکال دئیے۔ جب انہیں اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اُن کے دو معززین حضرت علیؓ کی خدمت میں حاضر ہوکر حلقۂ بگوشِ اسلام ہوگئے۔35ھ میں حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت علیؓ سریر آرائے خلافت ہوئے تو ہر طرف افراتفری پھیلی ہوئی تھی لیکن پھر بھی حضرت علیؓ نے حوصلہ اور صبر کا دامن نہ چھوڑا اور تمام مشکلات کا دیوانہ وار ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ آپؓ نے خلافتِ راشدہ کی کشتی کو گردابِ بلا سے نکالنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کیا۔

خلیفہ چہارم حضرت علیؓ چار سال 9 ماہ آٹھ دن خلیفۃُ المسلمین رہے۔ آپ ؓقرآن پاک کے حافظ تھے اور اس کی ایک ایک آیت کے معنی اور شانِ نزول سے بخوبی واقف تھے، گویا تفسیرِ قرآن میں آپ ؓمرتبۂ کمال پر فائز تھے۔تقریر و خطابت میں اپنی مثال آپ ؓتھے۔ فنّ نحو کی ایجاد کا سہرا بھی حضرت علیؓ کے سر ہے۔حضرت نبی کریمؐ نے حضرت علیؓ کے متعلق فرمایا کہ ’’میں علم و حکمت کا شہر ہوں اور علی اُس کا دروازہ ہے‘‘۔آپؓ کو ’’باب العلم‘‘ کا خطاب پہلے ہی مل چکا تھا۔

19 رمضان 40ھ کی صبح نمازِ فجر کے وقت ایک خارجی عبدالرحمن بن ملجم نے عین اُس وقت زہرآلود تلوار سے آپؓ پر قاتلانہ حملہ کیا جب آپؓ کوفہ کی مسجد کے محراب میں کھڑے نماز پڑھ رہے تھے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

علامہ اقبال کا خطبہ عید الفطر

9 فروری 1932ء کو عید الفطر کے موقع پر علامہ اقبال نے بادشاہی مسجد لاہور میں خطبہ دیا۔ لاؤڈ سپیکر کا انتظام تھا۔ذیل میں اس کی مکمل تفصیل شائع کی جا رہی ہے۔’’ملّتِ اسلامیہ!قرآن حکیم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے، رمضان کا مہینہ جس میں قرآن اُترا،لوگوں کیلئے ہدایت اور رہنمائی اور فیصلے کی روشن باتیں،تو تم میں جو کوئی یہ مہینہ پائے ضرور اس کے روزے رکھے۔یہی ارشادِ خداوندی ہے جس کی تعمیل میں آپ نے ماہِ رمضان کے پورے مہینے روزے رکھے اور اس اطاعت ِ الٰہی کی توفیق پانے کی خوشی میں آج بحیثیت قوم خدا تعالیٰ کی بارگاہ میں سجدہ شکر بجا لانے کیلئے جمع ہوئے ۔

شکر کا دن

عید کے دن نماز کی ادائیگی کیلئے عید گاہ کی طرف جانااور تمام مسلمانوں کا ایک امام کی اقتداء میں نماز ادا کرنا اسلام کی شان و شوکت کا اظہار ہے

عید الفطر

ایک مسلمان اللہ تعالیٰ کا صحیح شکراسی صورت میں بجالا سکتا ہے جبکہ وہ اس کے دئیے ہوئے رزق اور اس کی دی ہوئی نعمت ِہدایت پر بھی شکر ادا کرے جو قرآن کی شکل میں اس کو عطا ہوئی ہے

فیضان عید

کرم بالائے کرم ہے کہ اللہ نے ہمیں رمضان کے فوراً بعد عید الفطر کی نعمت عظمیٰ سے سرفراز فرمایا زندگی کا بہترین دستور العمل (قرآن ) پاکر اور ایک مہینے کے سخت امتحان میں کامیاب ہوکر مسلمان کا خوش ہونا فطری بات ہے

اردو شاعری میں طنزو مزاح کی روایت

جس طرح خوشی اور غم کا عمل دخل تمام حیاتِ انسانی میں جاری وساری رہتا ہے، اسی طرح طنز و مزاح کو بھی زندگی میں بنیادی حیثیت حاصل ہے۔بچہ اپنی پیدائش ہی سے رونے کے بعد جو کام سیکھتا ہے، وہ رونا اور ہنسی ہے۔اس وقت وہ کسی بھی جذبے سے آگاہی کے بغیر صرف گدگدانے پر خوشی کا اظہار کر کے اپنی جبلت کا احساس دلاتا ہے ۔ انسان کے علاوہ کوئی بھی جاندار اس عمل پر قادر نہیں اور مولانا حالی نے اسی لیے غالب کو حیوانِ ظریف قرار دیا تھا۔ صرف غالب ہی نہیں بلکہ تمام انسان اس جذبے کے حامل ہوتے ہیں :

عید پر منفرد نظر آنے کی خواہش

رمضان اور عید کی تیاریاں ساتھ ساتھ شروع ہوتی ہیں ،جوں جوں رمضان المبارک کا آخری عشرہ قریب آنے لگتا ہے ،ویسے ویسے عید کی تیاریوں میں بھی شدت آجاتی ہے،کہیں ٹیلر ماسٹر کے نخرے اور کہیں وقت پر جوڑا سی کر نہ دینے پر جھگڑے ۔ اگر سی دیا تو وہ ڈیزائن نہیں بنایاجو کہا گہا تھا۔ مکان پر رنگ روغن ہونے لگتا ہے تو مالکن کو گھر کی ڈیکوریشن کی فکر لاحق ہوتی ہے، پردے صاف کرائے جاتے ہیں، کچن آئٹمز کے لئے ایک لمبی فہرست لے کر صاحب خانہ گھومتے پھرتے نظر آتے ہیں ، لیکن اس مرتبہ کورونا نے عید کی خوشیوں کو بڑھانے والی یہ چہل پہل بھی روک دی ہے۔