نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- ن لیگ ووٹ کوعزت دوکانعرہ لگاتی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ووٹ کو 2،2 ہزارمیں خریدناووٹ کوعزت دیناہے؟فوادچودھری
  • بریکنگ :- ن لیگ اداروں کوبلیک میل کررہی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- بعدمیں پتہ چلتاہےیہ ساری ویڈیوزجعلی تھیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ن لیگ لوگوں کولالچ دےکرالیکشن لڑتی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- عمران خان کاپورےپاکستان میں ووٹ ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- مریم نوازنےکہامیری لندن توکیاپاکستان میں بھی کوئی جائیدادنہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- بعدمیں پتہ چلامریم نوازکی لندن میں بھی اربوں روپےکی جائیدادہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- یہ سب سیاسی بونےہیں،وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی بینظیرکی نہیں آصف زرداری اوربلاول کی پارٹی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- آپ کےکرتوتوں کی وجہ سےآج پاکستان مشکلات کاشکارہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ن لیگ اورپیپلزپارٹی کوای وی ایم سےگھبراہٹ ہوتی ہے،فوادچودھری
Coronavirus Updates

گرمی دانوں اور کیل مہاسوں سے تحفظ

خصوصی ایڈیشن

تحریر : بدر النساء


ایکنی کے نتیجہ میں چہرے بدنما ہو جاتے ہیں ، لیکن ایکنی قابل علاج مسئلہ ہے۔ غدود دہنیہ (چربیلے مادے یعنی چکنائی پید اکرنے والے غدودوں) کی اضافی کارکردگی اوربے قاعدگی کا نتیجہ ایکنی کی صورت میں برآمد ہوتا ہے۔

ان کے علاج کے لئے مناسب کلینزنگ ، بلیک ہیڈز کو نکالنے اور ان کی تشکیل کو روکنے، جلد کے اضافی چکنے پن کو کم کرنے ، مساموں کو سیکڑنے ،پھنسیوں کا علاج کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ انفیکشن کو پھیلنے سے روکنا ضروری ہوتا ہے کیونکہ شدید ایکنی میں جھریاں پڑسکتی ہیں ۔ جلد کو مائسچرائز کرنے کے لیے میڈیکیٹڈ بیس مہیا کرکے داغ دھبوں کو دور کرنا ضروری ہوتاہے۔

کیل، مہاسوں، پھنسیوں اور کالے دانوں (بلیک ہیڈز) کے ساتھ خود چھیڑچھاڑ کرنے کی کوشش نہ کریں اگر آپ انہیں خود نوچ کریا دبا کر نکالنے کی کوشش کریں گی تو جلدکی بافتوں کو تباہ کر لیں گی اور انفیکشن کو پھیلنے کا موقع دیں گی۔آئیلی فیس کریموں ، کلینزنگ کریموں اور چکنائی والی مصنوعات کا استعمال نہ کریں ۔ایکنی کا علاج کرتے ہوئے سب سے پہلا قدم کلینزنگ تجویز کیا جاتاہے۔ جہاں تک ممکن ہو سکے جلد کو خشک رکھا جائے۔ چہرے کو دن میں دو مرتبہ میڈیکیٹڈ صابن سے دھونے سے ایسا ممکن ہے۔

اکثر اوقات ایکنی کے شکار افراد کو جلد کی مصنوعی خشکی سے واسطہ پڑتا ہے ، یہ خشکی چکنائی کی کمی کی وجہ سے نہیں ہوتی بلکہ جلد کی بیرونی سطح میں رطوبت (مائسچر) کی کمی کے سبب پیدا ہوتی ہے اور رطوبت کی کمی کلورین ملے پانی کے استعمال یا خشکی پید اکرنے والے عوامل سے ہوتی ہے جو عام طور پر ایکنی کے علاج کے لیے زیراستعمال لائے جاتے ہیں۔ بیوٹی پارلرز میں خشکی دور کرنے کے لیے چہروں کا مساج کیا جاتا ہے لیکن نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ان کی ایکنی میں مزید اشتعال آ جاتا ہے۔ آئیلی کریموں سے چہرے کے مساج کی وجہ سے چکنائی پیدا کرنے والے غدودوں کو اضافی کارکردگی کی تحریک ملتی ہے ۔ انہیں پھولوں کے عرق یا کھیرے سے تیارکردہ مائسچرائزر تجویز کرنا بہتر ہوتا ہے یا پھر خشکی سے نجات کے لیے شہد لگانے کی تجویز دی جاتی ہے۔

ایکنی میں فائونڈیشن سے بھی بچنا چاہیے۔ بہت سی لڑکیاں میک اپ کے ذریعے ایکنی کو چھپانے کی کوشش کرتی ہیں لیکن یاد رہے کہ نارمل فائونڈیشن کا استعمال بھی شیطانی چکر میں پھنسا  دے گا۔ آپ جس قدر کوشش کریں گی کہ ایکنی کی جھائیاں چھپائی جائیں، اتنی ہی مزید جھائیاں پیدا ہوتی جائیں گی۔ خشکی یا سکری کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ نہ صرف ایکنی کا سبب بنتی ہے بلکہ اس کی شدت میں اضافہ کرتی ہے۔ اگر آپ کو خشکی سکری کی شکایت ہے تو ایکنی کے ساتھ ساتھ اس کا علاج بھی کریں۔

خشکی اور سکری کے علاج کی کامیابی کا انحصار غذائی احتیاط پر بھی ہے۔ اپنی غذا کے بارے میں لاپرواہی برتنا، زیادہ میٹھا کھانا، تلی ہوئی اور مصالحے دار چیزیں کھانا بھی صورتحال کو خرابی سے دوچار کرتا ہے۔ مٹھائیوں، چاکلیٹ، کنفیکشنری، آئس کریم سے پرہیز رکھیں۔ آپ مچھلی اور چربی کے بغیر گوشت ، سبزیاں، تازہ پھل، پنیر اور دہی کھا سکتی ہیں اور پانی پئیں ۔ اس سے ان مسائل میں کمی آ سکتی ہے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس، پاکستان میں ذیابیطس خطرناک ، پوری دنیا میں تیسرے نمبر پر آگیا،ماہرین سر جوڑ بیٹھے

ملک میں’’ خاموش قاتل ‘‘ ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد میں مستقل اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے ، عوام الناس کی جانب سے اپنے طرز زندگی میں تبدیلی نہ کرنے کی وجہ سے اعدادو شمار خطرناک ہوتے جارہے ہیں۔ماہرین امراض ذیابیطس کے مطابق ملک میں ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 3 کروڑ 30 لاکھ ہوگئی ہے ۔اس تشویش ناک صورتحال کے باعث ماہرین سر جوڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔ماہرین ذیابیطس کا کہنا ہے کہ ہمارا ہیلتھ سسٹم اس طرح کا نہیں ہے کہ ہم کروڑوں کی تعداد میں ذیابیطس کے شکار مریضوں کا علاج کرسکیں تاہم مستقل کوششوں میں لگے ہوئے ہیں کہ لوگوں کو ذیابیطس کے موذی مرض سے بچنے کے لئے عوام آگاہی پھیلائی جائے تاکہ عوام الناس اس مرض سے بچ سکیں اور دوسروں کو اس سے بچانے کا ذریعے بھی بن سکیں۔ہر سال 14 نومبر کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔اس حوالے سے عوامی آگاہی مہم کے ساتھ ساتھ مختلف سیمینارز ،پریس کانفرنسز ،واک اور تشہیری مہمات چلاکر ذیابیطس سے بچاؤ کے لئے مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جائے۔اس سلسلے میں شہر قائد میں ڈائیبیٹک ایسوسی ایشن آف پاکستان کے زیر انتظام عالمی سطح کی دو روزہ کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔جس میں ملک کے نامور ماہر امراض ذیابیطس نے شرکت کی جبکہ بیرون ممالک کے ماہرین نے کانفرنس میں ویڈیو کے ذریعے ذیابیطس سے بچاؤ کے حوالے سے اپنے پیغام عوام تک پہنچائے۔

11ماہ بعد رنگ میں فاتحانہ واپسی ایک اور ٹائٹل باکسر محمد وسیم کے نام قومی باکسر نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ سلور بیلٹ میں کولمبیئن فائٹر کو ہرایا

مایہ ناز پاکستانی باکسر محمدوسیم نے ڈبلیو بی اے فلائی ویٹ ورلڈ کا ٹائٹل اپنے نام کر کے ایک بار پھر سبز ہلالی پرچم سر بلند کر دیا۔ قومی ہیرو نے اپنے سے کہیں زیادہ تجربہ کار کولمبین باکسر رابرٹ بریرا کو باکسنگ کے مقابلے میں شکست سے دوچار کیا اور ڈبلیو بی سی فلائی ویٹ ورلڈ سلور بیلٹ چیمپئن بن گئے۔ دبئی کے باکسنگ ایرینا میں ہونے والے مقابلے میں12رائونڈز پر مشتمل فائٹ میں ججز نے محمد وسیم کو فاتح قرار دیا۔ مقابلے میں فتح حاصل کرنے پر پاکستانی باکسر محمد وسیم نے کہاکہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں،اس فائٹ کیلئے بہت محنت کی۔محمد وسیم نے فائٹ جیتنے پر اللہ اکبر کا نعرہ بھی لگایا۔ دونوں باکسرز کے درمیان یہ بائوٹ فلائی ویٹ کیٹیگری میں ہوئی۔یہ پاکستان کے محمد وسیم نے 12 ویں فائٹ جیتی ہے جبکہ ایک میں انہیں شکست ہوئی ہے۔کولمبین باکسر، محمد وسیم سے زیادہ تجربہ کار ہیں، وہ 26 فائٹس میں حصہ لے چکے ہیں، انہوں نے 13 حریفوں کو ناک آئوٹ کیا جبکہ بریرا کو 3 میں شکست ہوئی۔

ماحولیاتی آلودگی (آخری قسط)

جن گاڑیوں میں سے کالا دھواں نکلتا ہے، پولیس والے ان گاڑیوں کو روکتے کیوں نہیں؟ ایسی گاڑیوں کا چالان ہونا چاہیے۔ ہیں نا آپا؟۔

چھوٹے چھوٹے دانے

کسی جنگل میں ایک ننھی چیونٹی اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتی تھی۔ ننھی چیونٹی کی ماں جب تک صحت مند تھی اپنے اور ننھی چیونٹی کے لئے مزے دار دانے لاتی، لیکن جب اس کی ماں بیمار اور بوڑھی ہو گئی تو دانہ لانے کی ذمے داری ننھی چیونٹی پر آ پڑی۔

بے غرض نیکی

ایک نیک عورت کہیں گاڑی میں سوار جا رہی تھی کہ اسے سڑک پر چھوٹی عمر کا ایک لڑکا نظر آیا، جو ننگے پائوں چلا جا رہا تھا اور بہت تھکا ہوا معلوم ہوتا تھا یہ دیکھ کر نیک عورت نے کوچوان سے کہا غریب لڑکے کو گاڑی میں بٹھا لو۔ اس کا کرایہ میں ادا کر دوں گی۔‘‘