نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- کشمیریوں کےماورائےعدالت قتل کی آزادانہ تحقیقات کامطالبہ کرتےہیں،ترجمان
  • بریکنگ :- پاکستان کی مقبوضہ کشمیرمیں مزید 3کشمیریوں کےقتل کی مذمت
  • بریکنگ :- کشمیریوں کےماورائےعدالت قتل کی کارروائیوں میں اضافہ ہوا،ترجمان
  • بریکنگ :- رواں سال بھارتی فوج نے 55سےزائدکشمیریوں کوشہیدکیا،ترجمان دفترخارجہ
  • بریکنگ :- کسی بھی طرح کاتشددکشمیریوں کےجذبہ حق خودارادیت کودبانہیں سکتا،ترجمان
Coronavirus Updates

قرضوں پر کھڑی قومی معیشت ،قرضے نہ لینے کے دعویدار قرض لینے پر مجبور

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مہروز علی خان


گردشی قرضہتوانائی کے شعبے میں گردشی قرضوں سے مراد یہ ہے کہ حکومت یا سرکاری ادارے جب بجلی سپلائی کرنے والے اداروں کو حاصل ہونے والی بجلی کے عوض معاوضہ ادا نہیں کر پاتے تو یہ قرض جمع ہوتا رہتا ہے ، یوں سادہ الفاظ میں بجلی کی پیداواری لاگت اور اسے بیچ کر ہونے والی وصولیوں کے فرق کو گردشی قرضہ کہتے ہیں۔پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی لاگت پوری نہ ہونے کی اہم وجوہات میں ملک میں جاری بجلی چوری، بجلی کی ترسیل کا پرانا نظام اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی ناقص کارکردگی شامل ہے۔ موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل جون 2018ء میں ملک میں جاری گردشی قرضہ 1148 ارب روپے تھا ، تاہم حکومت کی جانب سے بجلی فراہم کرنے والی کمپنیوں اور اس سے منسلک اداروں کو بروقت ادائیگی نہ کیے جانے پر اس میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور نومبر 2020ء تک پاکستان میں توانائی کے شعبے میں گردشی قرضے کا حجم 2306 ارب روپے تک پہنچ گیا تھا۔ موجودہ مالی سال کے پہلے آٹھ ماہ جولائی تا فروری کے دوران بجلی سیکٹر کے گردشی قرضوں میں 212 ارب روپے کا اضافہ دیکھنے میں آیا، جس کے بعد بجلی سیکٹر کا گردشی قرضہ فروری 2021ء تک 2362 ارب روپے تک جا پہنچا تھا۔ یوں موجودہ مالی سال 2021ء کے پہلے آٹھ ماہ کے دوران بجلی سیکٹر کا گردشی قرضہ ماہانہ 26.5 ارب روپے بڑھا ہے۔ اس بات کا بھی اندیشہ ظاہرکیا جا رہا ہے کہ رواں مالی سال کے دوران بجلی سیکٹر کے گردشی قرضوں میں کل 436 ارب روپے کا اضافہ ہو گا۔ اگر یہ بات سچ ثابت ہو گئی تو جون 2021ء کے اختتام تک پاکستان کا توانائی کے شعبے سے منسلک گردشی قرضہ 2587 ارب روپے ہو جائے گا۔ ان معاملات کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ تحریک انصاف نے اپنے دورِ اقتدار میں بجلی سیکٹر سے منسلک گردشی قرضے میں دو گنا سے بھی زائد کا اضافہ کیا ہے۔ پاکستان میں بجلی کے شعبے کو فعال بنانے اور اس کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے ساتھ نظام میں شفافیت لانے کے لیے جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ 19 مئی 2021ء کو مہمند ڈیم کے دورے کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے اس بات کی جانب اشارہ کیا کہ 2023ء تک ملک میں جاری توانائی سیکٹر کا گردشی قرضہ 1455 روپے تک پہنچ جائے گا۔ اس حوالے سے وزیراعظم نے یہ نوید بھی سنائی کہ 2028ء تک ملک میں 10 بڑے پانی کے پراجیکٹ مکمل ہو جائیں گے۔

 ایف بی آر کا ٹیکس ہدف اور حصول

رواں مالی سال 2021ء کے لیے ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس آمدن کا ہدف 4 ہزار 963 ارب روپے رکھا گیا تھا۔فیڈرل بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق موجودہ مالی سال کے پہلے دس ماہ جولائی تا اپریل کے دوران ایف بی آر نے 3780 ارب روپے کا نیٹ ریونیو حاصل کیا ہے جو کہ اس عرصہ کے مقرر کردہ ہدف 3637 ارب روپے سے 143 ارب روپے زائد ہے۔ اسی طرح پچھلے سال اس عرصہ (جولائی 2019ء تا اپریل 2020ء ) کے حاصل کردہ نیٹ ریونیو 3320 ارب روپے کے مقابلے میں رواں سال 14 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ریونیو حصول میں بہتری اس جانب اشارہ کرتی ہے کہ ملکی معاشی سرگرمیاں بحالی کی جانب گامزن ہیں، حالانکہ اس وقت ملک کو کورونا وبا کی تیسری لہر کا سامنا ہے۔ ایف بی آر کی کاوشوں کو وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بھی سراہا جا رہا ہے، تاہم حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ چند اہم باتوں کو مد نظر رکھے۔ موجودہ مالی سال میں ایف بی آر کی جانب سے حاصل کیے جانے والے ٹیکس ہدف کا گزشتہ مالی سال سے موازنہ صحیح عمل نہیں ہے کیونکہ پچھلے سال کورونا وبا کے باعث ملک میں لاک ڈاؤن کا نفاذ رہا جس کی وجہ سے ایف بی آر مالی سال 2020ء کے ٹیکس ہدف کو حاصل کرنے میں بری طرح ناکام رہا۔ گزشتہ مالی سال ایف بی آر کی جانب سے ٹیکس ہدف ریکارڈ 5 ہزار 503 ارب روپے رکھا گیا تھا،جس کو نظر ثانی کے بعد 5 ہزار 270 ارب روپے کر دیا گیا تھا۔ اس کے بعد اس میں مزید کمی کی گئی اور ٹیکس ہدف کو 3 ہزار 908 ارب کر دیا گیا۔ ایف بی آر اس ہدف کو بھی حاصل کرنے میں ناکام رہا تھا۔

 اگرچہ گزشتہ مالی سال میں ٹیکس ریونیو کلیکشن میں کمی کی ایک بڑی وجہ کورونا وبا اور لاک ڈاؤن کے باعث ہونے والی معاشی سست روی قرار دی گئی ، تاہم رواں سال ایف بی آر کے ٹیکس نیٹ میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ یکم مئی 2021ء تک ٹیکس سال 2020ء کے لیے انکم ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد 29 لاکھ ہو چکی ہے جو کہ پچھلے سال اسی عرصے تک 26 لاکھ تھی۔ اسی طرح ٹیکس گوشوارے داخل کرنے والوں کی تعداد میں 12 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ٹیکس گوشواروں کے ساتھ ادا شدہ ٹیکس 50.6 ارب روپے رہا جو کہ پچھلے سال اس عرصہ میں 33.1 ارب روپے تھا۔ اس طرح موجودہ مالی سال 2021ء میں ٹیکس ادائیگی میں 53 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ موجودہ مالی سال میں جولائی تا مئی کے دوران ایف بی آر نے 4 ہزار 143 ارب سے زائد کے ٹیکس جمع کیے۔ ایک ہزار 472 ارب روپے کا انکم ٹیکس جمع کیا گیا، جبکہ 1 ہزار 777 ارب روپے سیلز ٹیکس کی مد میں جمع کیے ۔ اسی طرح رواں مالی سال کے 11 ماہ کے دوران 662 ارب روپے کی کسٹم ڈیوٹی اکٹھی کی گئی جبکہ 252 ارب روپے فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں جمع کیے گئے۔

واسطہ اور بلا واسطہ ٹیکس کا حجم

ایف بی آر کی جانب سے موجودہ مالی سال میں واسطہ اور بلا واسطہ ٹیکس کے حجم کا موازنہ کیا جائے تو مالی سال 2021ء میں ایف بی آر نے 2 ہزار 43 ارب روپے کے واسطہ ٹیکس نافذ کیے، جبکہ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل ملک میں واسطہ ٹیکس 1 ہزار 594 ارب روپے تھے۔ یوں موجودہ حکومت نے اپنے دورِ اقتدار میں واسطہ ٹیکس میں 500 ارب روپے سے زائد کا اضافہ کیا۔ اگر واسطہ ٹیکس کی تفصیل کا جائزہ لیاجائے تو تحریک انصاف اقتدار میں آنے کے بعد انکم ٹیکس کو 1 ہزار 577 ارب روپے سے بڑھا کر 2 ہزار 36 ارب روپے پر لے گئی ہے، ورکرز ویلفیئر فنڈ کو 14.6 ارب روپے کی ریکارڈ کمی کر کے 3.2 ارب پر لے گئی ہے، جبکہ کیپیٹل ویلیو ٹیکس کو 2.7 ارب روپے سے بڑھا کر 3 ارب روپے پر لے گئی ہے۔ اسی طرح اگر بلا واسطہ ٹیکس کا موازنہ کیا جائے تو تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل بلاواسطہ ٹیکس 2 ہزار 418 ارب روپے تھے ،جنہیں کو بڑھا کر 2 ہزار 920 ارب روپے کر دیا گیا ہے۔ بلا واسطہ ٹیکسز میں شامل کسٹم ڈیوٹیز کو موجودہ حکومت نے تقریباً ڈھائی سال کے دوران 581 ارب روپے سے بڑھا کے 640 ارب روپے کر دیا ہے۔ اسی طرح سیلز ٹیکس کو بھی 1 ہزار 605 ارب روپے سے بڑھا کر 1 ہزار 919 ارب روپے کیا گیا ،جبکہ فیڈرل ایکسائز کو ڈھائی سال کے دوران 231 ارب روپے سے بڑھا کر 361 ارب روپے کر دیا گیا۔ ایف بی آر کو حاصل ہونے والے واسطہ اور بلا واسطہ ٹیکس کے علاوہ تحریک انصاف کی موجودہ حکومت عوام سے پٹرولیم کی مد میں بھی پیسے حاصل کرنے کے لیے پٹرولیم لیوی ٹیکس میں ریکارڈ اضافہ کر کے اسے ڈھائی سال کے دوران 160 ارب روپے سے 450 ارب روپے پر لی گئی ہے۔ 

 معیشت پر قرضوں کا بوجھ

ملکی معیشت پرقرضوں کے بوجھ میں تواتر سے اضافہ ہو رہا ہے البتہ تحریک انصاف کے بر سر اقتدار آنے کے بعد ملکی قرضوں میں ریکارڈ 52 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ تین سال کے دوران موجودہ حکومت میں قرضے اکٹھے کرنے کی رفتار میں تیزی رہی اور ملک کے مجموعی قرضہ جات میں مارچ 2021ء تک تقریباً 15 ہزار 600 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کا کل قرضہ 45 ہزار 470 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ اگر ماضی کی حکومتوں کے ادوار میں لیے گئے قرضوں کا موازنہ کیا جائے تو جون 2008ء میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت آنے سے قبل پاکستان کا کل قرضہ 6 ہزار 691 ارب روپے تھا، جون 2013ء میں (ن) لیگ کی حکومت آنے سے پہلے پاکستان کا مجموعی قرضہ 16 ہزار 338 ارب روپے تھا، جبکہ جون 2018ء میں ملک کا مجموعی قرضہ 29 ہزار 879 ارب روپے تک جا پہنچا۔ یوں ،پاکستان پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں مجموعی قرضہ جات میں ساڑھے 9 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا، یعنی کہ تقریباً سالانہ 2 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ اسی طرح مسلم لیگ (ن) کے پانچ سالہ دورِ حکومت میں ملکی قرض میں تقریباً ساڑھے 13 ہزار ارب روپے کا اضافہ ہوا ، یعنی کہ سالانہ تقریباً 2700 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔ پاکستان تحریک انصاف کے تقریباً تین سالہ دورِ حکومت میں بڑھنے والے قرضوں کا جائزہ لیا جائے تو سالانہ تقریباً 5 ہزار 200 ارب روپے کی رفتار سے ملکی قرضوں میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

 ملک کے کل قرضوں و واجبات میں اندرونی قرضوں کا تناسب 61 فیصد ہے ،جبکہ بیرونی قرضہ 39 فیصد ہے۔ قرض واجبات کے حوالے سے حکومتی اعدادوشمار بتاتے ہیں کہ گزشتہ تین سال کے دوران حکومت کے اندرونی قرضے میں 51 فیصد اضافہ ہوا ہے ،جبکہ بیرونی قرضے میں 53 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ آئی ایم ایف سے لیے جانے والے قرضے میں گزشتہ تین سال میں 57 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان کے کل قرضہ جات میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کا حصہ 1 ہزار 165 ارب روپے یعنی صرف 2.5 فیصد ہے۔ 

 اسی طرح پاکستان کا کل قرضہ ملکی جی ڈی پی کا 95.3 فیصد ہے جو کہ جون 2018ء میں 86.3 فیصد پر تھا۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق مارچ 2020ء تک ملک کا مجموعی بیرونی قرض 116 ارب ڈالر سے تجاویز کر گیا ہے، جو کہ گزشتہ سال مارچ 2020ء کو 110 ارب ڈالر تھا، یعنی گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان کے ذمے مجموعی طور پر واجب الادا قرض میں چھ ارب ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔

 وزیراعظم عمران خان کی جانب سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ حکومت نے اپنے ڈھائی سالہ دورِ اقتدار میں 20 ارب ڈالر کا بیرونی قرضہ واپس کیا ہے۔ اگر اسٹیٹ بینک کے اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو حکومت نے مالی سال 2019ء میں 9.4 ارب ڈالر اور مالی سال 2020ء کے دوران 12.8 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے ادا کیے، جبکہ رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ جولائی سے اپریل کے دوران 9.6 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی گئی۔ اگر بیرونی قرضوں کی ادائیگی کا موازنہ ماضی کی حکومتوں سے کیا جائے تو مسلم لیگ (ن) نے اپنے پہلے ڈھائی سالہ دورِ اقتدار میں تقریباً 10 ارب ڈالر کی بیرونی قرض کی مد میں ادائیگی کی، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنی حکومت کے پہلے ڈھائی سال کے دوران بیرونی قرض کی مد میں 6 ارب ڈالر سے زائد کی ادائیگی کی گئی۔ 

بجٹ خسارہ 

پاکستان تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل وفاقی بجٹ خسارہ اپنی تاریخی سطح پر تھا۔ مالی سال 2018ء میں گزشتہ حکومت کے آخری ادوار میں پاکستان کا بجٹ خسارہ 1 ہزار 891 ارب روپے تھا۔ اسی طرح ملکی جی ڈی پی کا کل حجم 34 ہزار 396 ارب روپے تھا، یوں موجودہ حکومت کے اقتدار میں آنے سے قبل مالی خسارہ جی ڈی پی کا 5.5 فیصد تھا۔ عمران خان کے برسر اقتدار آنے کے بعد ملکی جی ڈی پی خسارے کو کم کرنے کے لییٹیکس کولیکشن نظام میں بہتری لانے اورحکومتی اخراجات میں کمی کے ساتھ ٹیکس نیٹ ورک کو وسیع کرنے کے لیے اقدامات تو کیے گئے لیکن ان سب اقدامات کے باوجود ملک بجٹ خسارے کی جانب ہی گامزن رہا۔ وفاقی محکمہ فنانس کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2019ء میں حکومت نے بجٹ خسارہ 1 ہزار 890 ارب روپے تک رکھنے کی توقع رکھی ،جبکہ ملکی جی ڈی پی 38 ہزار 388 ارب روپے مقرر کی گئی تھی۔ یوں حکومت نے مالی سال 2019ء میں بجٹ خسارہ 4.9 فیصد طے کیا تھا۔ البتہ نظر ثانی کے بعد بجٹ خسارہ 2 ہزار 776 ارب روپے کی سطح کو پہنچ گیا جو کہ اس مالی سال میں ملکی جی ڈی پی کا 7.2 فیصد بنا۔ کچھ ایسا ہی گزشتہ مالی سال کے دوران ہوا جب حکومت کی جانب سے بجٹ خسارہ 3 ہزار 137 ارب روپے مقرر کیا گیا، جو کہ ملکی جی ڈی پی کا 7.1 فیصد تھا،جبکہ ملکی جی ڈی پی کا حجم 44 ہزار ارب طے کیا گیا۔ البتہ ایک دفعہ پھر ان اعدادوشمار میں نظر ثانی کی گئی اور بجٹ خسارہ 3 ہزار 800 ارب روپے کو عبور کر گیا، جبکہ ملکی جی ڈی پی 41 ہزار 727 ارب روپے تک آ پہنچا۔ یوں گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی بجٹ خسارہ ملکی جی ڈی پی کا 9.1 فیصد رہا۔ رواں مالی سال میں ملکی بجٹ خسارہ مزید اضافے کے ساتھ 3 ہزار 195 ارب روپے کو پہنچ گیا جو کہ ملک کی کل جی ڈی پی کا 7 فیصد ہے ، جبکہ حکومت نے موجودہ مالی سال میں جی ڈی پی کا کل حجم 45 ہزار 567 ارب روپے مقرر کیا۔وزارت فنانس کی دستاویزات کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 9 ماہ جولائی سے مارچ کے دوران ملکی بجٹ خسارہ 1 ہزار 652 ارب روپے تک جا پہنچا ہے جوکہ گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 1 ہزار 686 ارب روپے تھا۔ پاکستان کے ادارہ شماریات کے جاری کردہ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو ملکی جی ڈی پی 47 ہزار 709 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ یوں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ موجودہ مالی سال کے دوران ملکی جی ڈی پی میں طے شدہ ہدف سے 4 فیصد زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ اگر تحریک انصاف کے تقریباً تین سالہ دورِ اقتدار کا موازنہ کیا جائے تو ملک کا بجٹ خسارہ 1 ہزار 891 ارب روپے سے بڑھ کر 3 ہزار 195 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ یوں موجودہ حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد بجٹ خسارے میں 59 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ 

 بیرونی و اندرونی قرضے

تحریک انصاف کے برسراقتدار آنے کے بعد حکومت کی جانب سے سب سے زیادہ زور بیرونی و اندرونی قرضوں کی ادائیگیوں پر دیا گیا، جس کے باعث بجٹ کا ایک بڑا حصہ اس کام کے لییمختص کیا گیا۔ اگر ماضی کی بات کی جائے تو تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے پہلے مالی سال 2018ء میں گزشتہ حکومت نے 1 ہزار 997 ارب روپے قرض اور واجبات کی ادائیگیوں کی صورت میں ادا کیے، تاہم تحریک انصاف نے مالی سال 2019ء میں اس میں تقریباً 57 فیصد اضافہ کر کے 3 ہزار 133 ارب روپے ادا کیے۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال کے دوران قرضوں کی ادائیگیوں میں 42 فیصد اضافہ کیا گیا اور قرض وسود کی ادائیگی 3 ہزار 313 سے بڑھ کر 4 ہزار 450 ارب روپے تک جا پہنچی۔ اگر موجودہ مالی سال کی بات کی جائے تو حکومت نے رواں مالی سال کے ابتدائی 9 ماہ جولائی سے مارچ کے عرصے میں کل 3 ہزار 548 ارب روپے قرض و سود کی ادائیگی کی صورت میں واپس کیے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف اپنے تقریباً تین سالہ دورِ حکومت میں 20 ارب ڈالر کے بیرونی قرضوں کی ریکارڈ واپسی کا بھی دعویٰ کرتی دکھائی دیتی ہے۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کا جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2019ء میں حکومت کی جانب سے کل 9 ہزار 478 ملین ڈالر (9.478 ارب ڈالر) کی ادائیگی قرض و سود کی صورت میں کی گئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال 2020ء کے دوران 12 ہزار 859 ملین ڈالر (12.859 ارب ڈالر) قرض و سود کی صورت میں ادا کیے گئے۔ رواں مالی سال کے ابتدائی 10 ماہ جولائی سے اپریل کے عرصے میں 9 ہزار 446 ملین ڈالر (9.446 ارب ڈالر) بیرونی قرض و سود کے طور پر ادا کیے گئے۔ یوں تقریباً تین سال کی مدت کے دوران حکومت نے 31.783 ارب ڈالر بیرونی قرض و سود کے طور پر ادا کیے۔ تاہم ان سب ادائیگیوں کے باوجود پاکستان کا کل قرض و سود جو پاکستان تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل جولائی 2018 ء میں 29 ہزار 879 ارب روپے تھا ،تقریباً تین سال کے قلیل عرصے کے دوران مارچ 2021ء تک 45 ہزار 470 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ یوں تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد سے پاکستان کے کل قرضوں میں 52 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح مرکزی بینک کی جانب سے جاری دستاویزات کے مطابق تقریباً تین سال کے دوران مارچ 2021ء تک پاکستان کے بیرونی قرض و سود کی ادائیگیاں 53 فیصد اضافے کے ساتھ 11 ہزار 575 ارب روپے سے بڑھ کر 17 ہزار 749 ارب روپے تک جا پہنچی ہیں۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بجٹ22-2021 کس کو کیا ملا؟

پاکستان تحریک انصاف حکومت کے چوتھے وزیرخزانہ نے تیسرا بجٹ پیش کردیا ہے۔ اس بجٹ میں پاکستان کے کل سالانہ اخراجات کا تخمینہ 7523 ارب روپے لگایا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ملک کی کل آمدنی 7909 ارب روپے ہے، یوں ماضی کی طرح موجودہ بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہی ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 3412 ارب روپے منتقل کیے جانے کا تخمینہ ہے۔ اس قابل تقسیم محصولات میں ہے پنجاب کو 1691ارب روپے، سندھ کو 848 ارب روپے، خیبر پختونخوا کو 559 ارب روپے اور بلوچستان کو 313 ارب روپے دیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یوں صوبوں کو پیسوں کی ترسیل کے بعد وفاقی حکومت کے پاس 4497 ارب روپے رہ جاتے ہیں جن سے ملک کو چلایا جائے گا۔ موجودہ مالی سال میں ہونے والے اخراجات کی جانب نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سال مجموعی طور پر 3060 ارب روپے قرضوں پر سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے، جن میں سے اندرونی قرضوں پر سود کی مد میں 2757 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں پر سود کی مد میں 302 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔ اسی طرح وفاقی سول حکومت کو چلانے کے اخراجات کی مد میں 479 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ کی تفصیل میں جایا جائے تو موجودہ بجٹ میں دفاعی اخراجات کیلئے 1370 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ گزشتہ مالی بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 80 ارب زیادہ ہیں۔ اسی طرح حکومت کی جانب اس دفعہ پنشن کی مد میں 480 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ملٹری پنشن کیلئے 360 ارب روپے اور سول ملازمین کی پنشن کیلئے 120 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جو گزشتہ مالی بجٹ کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔ اب اگر وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا موازنہ کیا جائے تو موجودہ مالی سال میں حکومت نے سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کیلئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو 113 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی بجٹ سے 5 ارب روپے کم ہے۔ اس کے علاوہ آبی وسائل کی بہتری کیلئے 103 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں

بجٹ 22-2021ماہرین کی نظر میں

یہ بجٹ غلط دعووں پر مبنی غلط اعدادوشمار پر مبنی بجٹ ہے۔ البتہ اس میں عوام کے لیے کچھ ریلیف ہے۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جس قدر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہے اس سے زیادہ عوام کی جیب سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ تو پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد ریویو ہوا کریں گی اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگا جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ہے جسے ہم بھتہ کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا تو اس کا نام تبدیل کردیا گیا۔

حسد سے بچیں

’’آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو۔ نہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھواور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلقی کرو اوربھائی بھائی ہو جاؤ۔‘‘ فرمانِ رسول ﷺ ’’حسد سے بچو! کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ حدیثِ رسولﷺ

سیرت مصطفٰیﷺ۔۔۔فلاح انسانیت کا ذریعہ

فخرِ موجودات، باعثِ تخلیقِ کائنات، ہادیٔ برحق ،خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمد اللہ کا انسانیت پر اتنا بڑا احسان عظیم ہے ،جس کا احاطہ بڑے بڑے دانشور نکتہ داں مفکر نہیں کرسکتے ۔ذات مصطفی ؐ ہی خدا کی پہچان کا واحد ذریعہ ہے نبی کریم ﷺکی آمد کی پیش گوئیاں ہر نبی کرتا رہا ،خدا والوں کو بھی صدیوں سے آپؐ کا انتظار تھاصاحبانِ عرفان آپؐ کے کمالات معجزات نشانیاں جانتے تھے اور آپؐ کے شدت سے منتظر تھے ۔جہاں انتظار کرنے والوں نے آپؐ کی مدح سرائی کی وہاں جمالِ مصطفی ؐ کا مشاہدہ کرنے والوں نے بھی آپؐ کے مقام کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔انہی ہستیوں میں ایک سب سے نمایاں نام حضرت ابو طالبؓ کا بھی ہے ۔جنہوں نے نہ صرف مقام مصطفیؐ کو دنیا کے سامنے آشکار کیا بلکہ ذات مصطفیؐ کے تحفظ کیلئے ہر مصیبت و الم کو برداشت کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ام المومنین حضرت خدیجہؓ کے بعد حضرت ابو طالبؓ دنیا میں نہ رہے تو حضرت جبرئیلؑ نے آکر اللہ کے نبی ؐ کو وحی کی کہ اب مکہ چھوڑ دیں اس شہر میں آپکا پاسبان و مربی کوئی نہیں رہا ۔یوں حضرت ابو طالب ؓکے بعد مکہ چھوڑنا پڑ ااور ہجرت پر مجبور ہو نا پڑا۔

حقوق العباد

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کیلئے اس دارفانی میں پیدا کیا تو اس پر اس سماجی زندگی میں کچھ حقوق رکھ دیئے تاکہ بندہ ان حقوق کی پاسداری کر کے اسی کے ذریعے قرب باری تعالیٰ حاصل کرے۔سب سے پہلے ان حقوق کی 2 قسمیں ہیں۔1:حقوق اللہ 2:حقوق العباد۔ہم یہاں حقوق العباد بیان کریں گے۔حقوق العباد میں سب سے زیادہ حق و الدین کا ہے،اس لیے سب سے پہلے والدین کے حقوق بیان کرتے ہیں۔

مسائل اور ان کا حل

سونا اور نقدی ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر ہونے پر زکوٰۃ واجب ہے سوال :(1)اسکی وضاحت فرمائیں کہ دویاتین تولے سونے پرکون سی زکوٰۃ ہوتی ہے اوردویاتین تولے سونے کے ساتھ ایک روپیہ بھی ہوتوکونسی زکوٰۃ ہوتی ہے؟ (عامربن غلام جیلانی )جواب:(1) دراصل سونے کی زکوٰۃ کانصاب ساڑھے سات تولہ ہے جسکی تفصیل یہ ہے کہ اگرکسی کے پاس صرف سوناہوسونے کے علاوہ چاندی ،نقدی یا مال تجارت کچھ نہ ہوتوایسی صورت میں ساڑھے سات تولہ سونے سے کم سونے پرزکوٰۃ واجب نہیں اورساڑھے سات تولہ سونایااس سے زیادہ سوناہونے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہے ، تاہم اگرسوناساڑھے سات تولے سے کم ہو اور اسکے ساتھ نقدی بھی ہوتوایسی صورت میں اب شرعاً سونے کے نصاب کااعتبارنہیں کیا جائیگا بلکہ اب ایسی صورت میں چاندی کانصاب معتبرہوگا جوکہ ساڑھے باون تولہ ہے لہٰذاایک دوتولہ سونے کے ساتھ ایک روپیہ بھی ہوتواسکی مجموعی قیمت چونکہ ساڑھے باون تولہ (چاندی کے نصاب کے بقدر)مالیت بنتی ہے اسلئے اس صورت میں چاندی کے نصاب کے اعتبارسے شرعاً زکوٰۃ واجب ہوگی۔(مزید تفصیل اور حوالہ جات کیلئے دیکھئے فتاویٰ عثمانی 2؍70)‘‘