نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- عالمی برادری نفرت انگیزمواد،انتہاپسندی روکنےکےاقدامات کرے،وزیراعظم
  • بریکنگ :- کینیڈامیں پاکستانی نژادخاندان کےقتل پرعوام حیران ہیں،وزیراعظم
  • بریکنگ :- اس حملےکیخلاف سخت ایکشن لیناہوگا،وزیراعظم عمران خان
  • بریکنگ :- نفرت انگیزویب سائٹس انسانوں میں نفرت پیداکرتی ہیں،وزیراعظم
Coronavirus Updates

درآمدات و برآمدات کا تقابل

خصوصی ایڈیشن

تحریر : روزنامہ دنیا


ترسیلاتِ زر:گزشتہ حکومت کے آخری مالی سال 2018 کے دوران پاکستان میں مجموعی طور پر 19.9 ارب ڈالر کی ترسیلات آئیں۔تحریک انصاف کے حکومت سنبھالنے کے بعد ملکی ترسیلات میں اضافہ دیکھنے میں آیا، اور مالی سال 2019 کے دوران یہ 21.7 ارب ڈالر تک جا پہنچیں اور مالی سال 2020 میں مزید بہتری کے بعد ملکی ترسیلات 23.1 ارب ڈالر ہو گئیں۔ رواں مالی سال2021 میں جولائی تا مارچ کے دوران ملکی ترسیلات 26 فیصد اضافے کے ساتھ 21.467 ارب ڈالر تک جا پہنچیں جو کہ گزشتہ سال جولائی تا اپریل کے دوران 17.008 ارب ڈالر تھیں۔مارچ 2021 میں پاکستان آنے والی ترسیلاتِ زر 2.7 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئیں، مارچ 2020 میں آنے والی ترسیلاتِ زر 1.9 ارب ڈالر تھی، یوں رواں سال مارچ میں اس میں 43.1 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اسی طرح رواں مالی سال 2021 میں بیرون ملک موجود تارکین وطن کی جانب سے پاکستان بھیجی جانے والی ترسیلات زر مسلسل دسویں مہینے 2 ارب ڈالر سے زیادہ رہی ہیں۔ مالی سال 2021 میں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان میں سعودی عرب سے 5.7 ارب ڈالرز کی ترسیلاتِ زر آئیں، متحدہ عرب امارات سے 4.5 ارب ڈالر، برطانیہ سے 2.9 ارب ڈالر جبکہ امریکہ سے 1.9 ارب ڈالر ترسیلاتِ زر کی مد میں آئے۔ گزشتہ ماہ اپریل کے دوران پاکستان میں ریکارڈ 2.8 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر آئیں۔ یوں مالی سال 2021 میں جولائی تا اپریل کے دوران پاکستان میں 24.2 ارب ڈالر کی ترسیلاتِ زر آئیں۔

تجارتی خسارہ:

ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ جولائی تا اپریل کے دوران تجارتی خسارہ گزشتہ سال کے اسی دورانیے کی نسبت 21.69 فیصد اضافے کے ساتھ 23.84 ارب ڈالر ریکارڈ ہوا۔ دستاویزات کے مطابق ملکی درآمدات رواں مالی سال میں جولائی سے اپریل کے دوران44.75 ارب ڈالر رہیں جو کہ گزشتہ مالی سال کے اسی دورانیے کے دوران 37.99 ارب ڈالر تھیں۔ یوں گزشتہ مالی سال کی نسبت موجودہ مالی سال کے دوران پاکستان کی درآمدات میں 17.79 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اس کے مقابلے میں پاکستان کی برآمدات جولائی سے اپریل کے دوران 13.63 فیصد اضافے کے ساتھ  20.90 ارب ڈالر تک جا پہنچی ہیں جوکہ گزشتہ مالی سال کے دوران 18.39  ارب ڈالر تھیں۔ تحریک انصاف کے حکومت سنبھالنے سے قبل مالی سال 18 میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 37.64 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح پر تھا۔ پاکستان کی تجارتی صورتحال کا جائزہ لیا جائے تو گزشتہ چند سالوں میں ملکی درآمدات میں برآمدات کی نسبت کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا۔ تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے کے بعد ایک جامع تجارتی پالیسی مرتب کی جس کے نتیجے میں ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا اور ساتھ ہی ساتھ درآمدات کی شرح میں بھی کمی آنے لگی۔ ان اقدامات کے باعث ملکی تجارت پر مثبت اثرات نظر آنے لگے اور مالی سال 2019 میں سالانہ تجارتی خسارہ 37.64 ارب ڈالر سے 15.33 فیصد کمی کے ساتھ 31.82 ارب ڈالرتک پہنچ گیا۔ اسی طرح مالی سال 2020 میں پاکستان کے تجارتی خسارے میں تاریخی کمی دیکھنے میں آئی اور تجارتی خسارہ 31.82 ارب ڈالر سے 27.12 فیصد کمی کے ساتھ 23.18 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔ تاہم اسی مالی سال کے دوران ملکی برآمدات میں بھی 6.8 فیصد کمی دیکھنے کو ملی جس کے نتیجے میں ملکی برآمدات 22.95 ارب ڈالر سے کم ہو کر 21.39 ارب ڈالر ہو گئیں۔گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی تجارتی خسارے میں تاریخی کمی کی ایک بڑی وجہ کورونا وباء  کے نتیجے میں  عالمی تجارتی لاک ڈاؤن کے باعث معاشی سست روی تھی۔ رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران جولائی سے اپریل کے عرصے میں ملکی تجارتی خسارہ 19.59  ارب ڈالر سے 21.69 فیصد اضافے کے ساتھ 23.84 ارب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے، جبکہ اس میں مزید اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔ موجودہ مالی سال میں جولائی سے اپریل کے دوران ملکی درآمدات میں 17.79 فیصد اضافہ جبکہ ملکی برآمدات میں 13.63 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت اور سرمایہ کاری عبدالرزاق داؤد کے مطابق مارچ 2021 میں ملکی برآمدات 2.345 ارب ڈالر ریکارڈ ہوئیں۔ 2011 کے بعد برآمدات پہلی بار مسلسل 7 ماہ سے 2 ارب ڈالر سے زیادہ ریکارڈ ہوئی ہیں۔ رزاق داؤد کے مطابق درآمدات میں اضافہ پیٹرولیم، گندم ، مشینری، خام مال و کیمیکلز، موبائل فونز، فرٹیلائزر،ٹائرز، اینٹی بایوٹکس اور ویکسین کی درآمد کے باعث ہوا۔  

غیر ملکی سرمایہ کاری:

رواں مالی سال کے دوران پاکستان میں غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری (ایف ڈی آئی ) میں 32.5 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے پہلے دس ماہ جولائی سے اپریل کے دوران سرمایہ کاری 1  ارب 55 کروڑ 34 لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 2 ارب 30 کروڑ 13 لاکھ ڈالر تھی۔ تاہم اسی عرصے کے دوران غیر ملکی پورٹ فولیو سرمایہ کاری 2 ارب 46 کروڑ 31 لاکھ ڈالر تک جا پہنچی ہے جو گزشتہ مالی سال میں جولائی سے اپریل کے دوران منفی 23 کروڑ 45 لاکھ ڈالر تھی۔ یوں رواں مالی سال کے پہلے 10 ماہ کے دوران کل غیر ملکی سرمایہ کاری 98  فیصد اضافے سے 3 ارب 73 کروڑ 64 لاکھ ڈالر رہی جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے میں 1 ارب 88 کروڑ 41 لاکھ ڈالر تھی۔  

ملکی زرمبادلہ کے ذخائر:

مرکزی بینک کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق جون  2018 میں پاکستان میں زرمبادلہ کے ذخائر 16.38 ارب ڈالر تھے۔ تحریک انصاف کے برسر اقتدار آنے کے ایک سال بعد جون 2019 میں ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر 14.48 ارب ڈالر پر پہنچ گئے۔ تاہم ، گزشتہ مالی سال کے دوران ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ دیکھا گیا اور جون 2020 میں ملکی زرمبادلہ ذخائر 18.88  ارب ڈالر تک پہنچ گئے۔ رواں مالی سال کے دوران ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 4  ارب 41 کروڑ ڈالرز اضافے کے ساتھ 23.29  ارب ڈالر کو پہنچ گئے۔ اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق رواں سال جون کے دوران مرکزی بینک کے ذخائر 16.13 ارب ڈالر جبکہ کمرشل بینکوں کے ذخائر 7.16  ارب ڈالر کو پہنچ گئے۔ موجودہ مالی سال کے دوران زرمبادلہ کے ذخائر بڑھانے کیلئے ستمبر 2020 میں اسٹیٹ بینک اور وفاقی حکومت نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ اسکیم متعارف کرائی جس کے تحت نان ریزیڈینٹ پاکستانی (این آر پیز) پاکستان کے بینکاری اور ادائیگیوں کے نظام سے مکمل طور پر منسلک ہو گئے۔ اس اسکیم کے تحت نیا پاکستان سرٹیفکیٹ کا آغازہوا جس کے تحت ڈالر میں سرمایہ کاری کرنے پر 5 سے 7 فیصد جبکہ روپے پر 9 سے گیارہ فیصد منافع دیے جانے کا عندیہ دیا گیا۔اپنے پہلے ہی مہینے میں اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ پروگرام کے تحت 60 لاکھ ڈالرز اکٹھے کیے، جبکہ وفاقی حکومت اور مرکزی بینک جون 2021 تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں ڈپازٹ کرائے گئے ڈالرز کی مالیت 1.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع کر رہے ہیں۔ روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ متعارف کیے جانے کے بعد سے ستمبر 2020 تا مارچ 2021 تک روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹس میں مجموعی ڈپازٹ کی مالیت 80 کروڑ 60 لاکھ ڈالرز تھی۔ 

 کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ:

تحریک انصاف کو اقتدار میں آنے کے بعد سب سے بڑا مسئلہ کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا پیش آیا۔ مالی سال 2018 میں ملک کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 19.9 ارب ڈالر کی ریکارڈ سطح کو پہنچ گیا تھا، جس میں کمی لانے کیلئے حکومت کی جانب سے معاشی اقدامات کیے گئے۔ گزشتہ تین مالی سالوں کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اب کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس میں بدل چکا ہے۔ اس خسارے کی کمی میں ایک اہم کردار ملکی درآمدات میں کمی  ہے۔ مالی سال 18 میں درآمدات ریکارڈ 44 ارب ڈالر تک تجاوز کر گئی تھیں ، البتہ موجودہ مالی سال کے 11 ماہ میں جولائی سے اپریل کے دوران ملکی درآمدات 23.8 ارب ڈالر کی سطح کو آ پہنچی ہیں۔ یوں تقریباً تین سالوں میں پاکستان کی درآمدات میں تقریباً 46 فیصد کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ اس کے علاوہ ملکی ترسیلاتِ زر میں رواں مالی سال کے دوران ماہانہ کی بنیاد پر 2 ارب ڈالر سے زائد کا اضافہ ہوا ہے، جس کے باعث موجودہ  مالی سال میں جولائی سے اپریل کے دوران پاکستان کی ترسیلاتِ زر24.2 ارب ڈالر کی سطح کو عبور کر گئی ہیں۔ پاکستان کے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کا اگر تقابلی جائزہ لیا جائے تو مالی سال 18 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ ریکارڈ 19.9 ارب ڈالر پر تھا، جو مالی سال 19 میں 28 فیصد کمی کے ساتھ 13.4 ارب ڈالر پر آ گیا۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ریکارڈ 67 فیصد کی کمی دیکھنے میں آئی اور مالی سال 2020 کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 9 ارب ڈالر کم ہو کر 4.4 ارب ڈالر ہو گیا۔مرکزی بینک کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق  رواں مالی سال کے ابتدائی دس ماہ جولائی سے اپریل کے دوران کرنٹ اکاؤنٹ 77 کروڑ 30 لاکھ ڈالر سرپلس رہا۔ یوں ملک میں 17 برس کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہوا ہے، جو کہ معیشت کو طویل عرصے سے جاری خسارے کے باعث پڑنے والے دباؤ سے نکلنے میں مدد کرے گا۔کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہونے سے معیشت کو بیرونی سطح پر، مثلاً غیر ملکی زرِ مبادلہ اور مستحکم ایکسچینج کی صورت میں مستحکم ہونے میں مدد مل رہی ہے۔

بجٹ اہداف کیسے پورے ہوں گے؟

 حکومتی کارکردگی پر ماہرین کی آراء

اسد علی شاہ(ماہر ٹیکس امور)

حکومت کی معاشی پالیسیاں درست سمت میں ہیں۔ خاص طور پر ٹیکس کے حوالے سے جو اقدامات لیے جارہے ہیں میں ان سے مکمل طور پر اتفاق کرتا ہوں۔ حکومت کی اسٹریٹیجی اور کانسپٹس بالکل ٹھیک ہیں۔ آئندہ سال کے لیے حکومت نے 6000ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے کے ہدف کا اعلان کیا ہے۔ اگرچہ یہ بہت بڑا ہندسہ ہے مگر ناممکن نہیں ہے تاہم اس کے لیے حکومت کو بنیادی ضروری اقدامات کرنے ہونگے۔ یہ بالکل واضح ہے کہ معاشی ترقی کے بغیر ٹیکس نہیں بڑھایا جاسکتا اور معاشی ترقی حاصل کرنے کیلئے سب سے پہلے ٹیکس دہندگان کو خوف کی فضا سے نکال کر انھیں اعتماد دینا ہوگا۔ صنعتکاروں کو مراعات دینی ہونگی تاکہ ان کے لیے کشش پیدا ہوسکے۔ رواں سال اگرچہ جمع ٹیکس کا فگر 4170ارب ہے جو بظاہر تو ماضی کی نسبت اچھا اضافہ ہے لیکن اگر جی ڈی پی کے تناسب سے دیکھاجائے تو ہم 10فیصد سے کم ہیں۔ ہمیں 12فیصد کا ہدف ضرور رکھنا چاہئے ۔ اگر ان کا جو معاشی ترقی کا ہدف 5فیصد ہے اور 10فیصد انفلیشن ہو تو 15فیصد جی ڈی پی بڑھتا ہے۔ اس صورت میں 11فیصد کا ہدف رکھنا مناسب ہے تاہم اسے حاصل کرنے کے لیے اسٹریٹیجی اور پلاننگ کرنی ہوگی۔ ہمیں ماضی کو دیکھے بغیر منصوبہ بندی کرنی چاہئے کیونکہ مستقبل میں بہت پوٹینشل ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ہمارے 30لاکھ ٹیکس دہندگان ابھی موجود ہیں، ایف بی آر کے مطابق تقریبا ً10ملین افراد ایسے ہیں جن کے پاس گاڑیاں ہیں جبکہ دیگر پراپرٹیز کا ڈیٹا بھی ایف بھی آر کے پاس موجود ہے۔ اگر ایف بی آر اپنے ڈیٹا کی بنیاد پر ٹیکس نیٹ کو بڑھانے کا ہدف رکھے تو کوئی وجہ نظر نہیں آتی کہ وہ ایسا نہ کرپائے۔ 

 اشفاق تولہ (ماہر معاشیات)

تحریک انصاف کی حکومت میں اکانومی میں ہلچل تو رہی ہے مگر یہ دیکھنا ضروری ہے کہ یہ ہلچل کیوں رہی۔ جب تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو معاشی پالیسی کو پیرا ڈائم شفٹ دیا۔ اس سے ہوا یہ کہ جو سرمایہ کار تھا اس نے اہداف متعین کرلیے ، اس کے لیے اگر اسٹاک میں فائدہ نظر آیا تو اس نے وہاں سرمایہ لگایا، اگر اسے بینکنگ سیکٹر میں کچھ دکھا تو وہاں سرمایہ لگایا، اگر رئیل اسٹیٹ میں فائدہ سمجھ آیا تو اس جانب چلے گئے۔ اب اس طرح کی اکانومی کو عام طور پر تو کم ریٹ پر رکھنا چاہئے تاکہ سرمایہ مین اسٹریم میں براہ راست شامل رہے۔ ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ہم وہ ملک ہیں جن کے پاس زیادہ ایکسپورٹ نہیں ہیں۔ جن کے پاس اس قسم کی اکانومی ہوتی ہیں تو ممالک ہمارے ریٹ کم رکھتے ہیں۔ فروری 2020میں ایک مانیٹرنگ پالیسی آئی تھی جس میں 75بیسز پوائنٹس کم کیے گئے تھے مگر شرح سود کم کرنے کے حوالے سے ہچکچاہٹ دکھائی جارہی تھی مگر جب شور ہوا تو شرح سود کم کرنا پڑی اور پھر 7فیصد کردی گئی۔ اب ذرا غور کریں کہ شرح سود کم کرنے پر ہلچل دکھائی دی اور لوگوں نے کام کرنا شروع کیا۔ لوگوں کو یقین ہوا تھا کہ آج اگر ہم کام کرتے ہیں تو ہمارے اخراجات کم آئیں گے اور کھپت بھی بڑھے گی ۔ اب جہاں تک برآمدات کا تعلق ہے تو یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ہماری برآمدات کا بڑا حصہ ٹیکسٹائل پر منحصر ہے۔ ہمارے پڑوسی ملک بھارت میں کورونا نے تباہی مچائی اور دوسری جانب بنگلہ دیش بھی متاثر ہوا تو بنیادی طور پر اس کا کچھ فائدہ ہمیں حاصل ہوا ، ہم یوں کہہ سکتے ہیں کہ مصیبت ہمارے حق میں بہتر ثابت ہوئی۔ موجودہ بجٹ سے عام آدمی کو روٹی، کپڑا اور مکان ہی کی توقع ہے۔ آٹا اور چینی اس وقت عام آدمی کی سب سے بڑی ضرورت بنے ہوئے ہیں۔ ہمارا مسئلہ یہ ہے کہ ہم ٹیکس جمع کرنے کے اہداف کے حوالے سے ہمیشہ غلط اندازے لگاتے ہیں اور جب انہیں پورا نہیں کر پاتے تو آئی ایم ایف سے درخواست کرتے ہیں کہ روائز کردیں۔ یہ بھی مہنگائی میں اضافے کی وجہ ہے۔موجودہ حکومت کے پہلے سال میں 562ارب روپے کے نوٹ چھاپے گئے، دوسرے سال میں 1100ارب روپے کے نوٹ چھاپے گئے، اور رواں سال مئی تک 982ارب روپے کے نوٹ چھاپے جا چکے ہیں۔ ہر 3سو بلین پر ایک فیصد مہنگائی بڑھتی ہے۔ 

 شارق وہرا(ماہر معاشیات)

انفرادی سطح پر اکانومی کا تقابل ماہانہ سطح پر کیا جاسکتا ہے لیکن جب ہم حکومتی سطح پر معاشی تقابل کرتے ہیں تو ہمیں ایک مالی سال سے دوسرے مالی سال کا تقابل کرنا ہوتا ہے۔ اس کلیہ پر عمل کرتے ہوئے دیکھیں تو تحریک انصاف کی حکومت کی معاشی کامیابیاں شائد قابل ستائش نہ ہوں اور عمومی طور پر اعدادوشمار تقریباً اسی سطح پر ہوں جہاں گزشتہ حکومت چھوڑ کر گئی تھی مگر یہ ضرور مد نظر رکھنا چاہئے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے کورونا کی وباء کے دوران اکانومی کو کھڑا رکھا ہے۔ اس کے لیے انھوں نے صنعتکاروں کو فنڈ دیا، سہولیات دیں تاکہ بے روزگاری نہ بڑھنے پائے۔ کورونا کی وباء کے دوران انڈسٹری کوبوسٹ دینا ایسا عمل ہے کہ جس کے لیے تحریک انصاف کی حکومت کو کریڈٹ دیا جانا چاہیے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں بھی دیکھا جائے تو ایکسپورٹس بڑھی ہیں۔ اب یہ نہیں کہا جاسکتا کہ بھارت یا بنگلہ دیش کی ایکسپورٹ کم ہونے کی وجہ سے پاکستان میں اضافہ ہوا ہے۔ دراصل حکومت نے صنعتکاروں کو اعتماد دیا ہے اور اسی کا نتیجہ ہے کہ ایکسپورٹس میں اضافہ نظر آرہا ہے ۔ صرف اتنا ہی نہیں کہ پاکستان کے معاشی اشاریے بہتر ہوئے بلکہ دنیا بھر میں پاکستان کا امیج بھی بہتر ہوا ہے اور اس کا فائدہ لانگ ٹرم میں اکانومی میں واضح طور پر نظر آئے گا۔ تحریک انصاف کی حکومت جب آئی تھی تو ا سکے پاس تجربہ کار ٹیم نہیں تھی یہی وجہ رہی ہے کہ اسد عمر کو بھی جلد ہٹایا گیا اور ان پر یہ الزام بھی لگایا گیا کہ وہ صحیح کام نہیں کرسکے مگر میرا خیال یہ ہے کہ کوئی بھی ٹیم ہو اسے پورا ٹائم ملے تو وہ ڈیلیور کرتی ہے۔ شرح سود کو 13فیصد پر لے جانا یقینی طور پر تحریک انصاف حکومت کا غلط فیصلہ تھا اور اس سے اکانومی سکڑ گئی مگر جیسے ہی انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح ریونیو آسکتا ہے نہ روزگار کے مواقع پیدا کیے جاسکتے ہیں تو اسی لیے حکومت شرح سود کو 7فیصد پر لے گئی۔ ہمارے ملک میں مشترکہ طور پر ایک چارٹر آف اکانومی بنائے جانے کی ضرورت ہے تاکہ حکومت کے ساتھ ہی معاشی پالیسیوں کی تبدیلیوں کا سلسلہ رک سکے۔

 آصف حسن (ماہر ٹیکس امور)

اس وقت جو صورتحال  ہے اس میں ٹیکس دہندگان خوف کا شکار ہیں ۔ اس سے ہوتا یہ ہے کہ جو لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل نہیں  وہ اس سے دور رہنے میں ہی عافیت سمجھتے ہیں ۔ اگر اس رویہ کو ختم کرکے ٹیکس دہندگان کو سہولیات دی جاتی ہیں تو ٹیکس نیٹ بڑھانے میں بہت مدد ملے گی ۔ اگرچہ اسے  لانگ ٹرم یا میڈیم ٹرم اسٹریٹیجی کہا جاسکتا ہے مگر اس سے ٹیکس ریونیو میں خاطر خواہ اضافہ ہوسکتا ہے۔ اہم  چیز یہ دیکھنے کی ہے کہ ہمارا 6000ارب روپے کا ٹیکس جمع کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے ، اب جیسے کہ ہمارے وزیر خزانہ صاحب بریک ڈائون دے رہے ہیں کہ افراط زر سمیت جو ہماری 15فیصد جی ڈی پی ہے تو 500تک تو ہم لے جائیں گے۔ یہاں تک بات سمجھ میں آتی ہے مگر اس کے بعد جو کہتے ہیں کہ 400سے 600ارب روپے ہم جنریٹ کریں گے اس پر مجھے خدشات ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اگر ہم گزشتہ دس سال کی اپنی ٹیکس کی تاریخ دیکھیں تو ڈائریکٹ ٹیکسز 38فیصد پر ہیں جن میں سے 27فیصد ود ہولڈنگ ٹیکس ہے جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز 62 فیصد ہیں۔ اب جو ہمارا ٹیکس کا نظام ہے اس پرنظر ڈالیں تو ہم ود ہولڈنگ ٹیکس کو ہٹا کر 10فیصد ڈائریکٹ ٹیکسز سے پورا کرتے ہیں۔اس پورے سسٹم میں اگر ایف بی آر کا ٹیکس کلیکشن کا حجم نکالا جائے تو وہ صرف دو فیصد بنتا ہے ۔ میرا خیال ہے ایف بی آر Quantative Assessmentکے بجائے Qualitative Assessmentکرنے پر توجہ دے تاکہ درست سمت میں منصوبہ بندی کی جاسکے۔ 

ڈاکٹر قیس اسلم(ماہر معاشیات)

حکومت کو چاہیے کہ ملک میں بیرونی سرمایہ کاری کو بڑھانے کیلئے کارپوریٹ ٹیکس میں چھوٹ دے ۔ ساتھ ہی ٹیکس نظام کو ٹرانسپیرنٹ کرنا ہو گا۔ حکومت کو اس بارے میں بھی سوچنا ہو گا کہ وہ بلا واسطہ ٹیکس کو پروڈکشن سے ہٹا کر ریٹیل پر عائد کرے تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ ٹیکس نیٹ میں شامل ہو سکیں۔ اگر معاشی ترقی میں تسلسل قائم رکھنا ہے تو ٹیکسز کو نیچے لانا ہو گااور ٹیکس اکٹھا کرنے کیلئے کوئی اور ادارہ قائم کرنا ہو گا۔ ایف بی آر کو صرف مانیٹرنگ کا کام دینا چاہئے۔ حکومت کے پاس ٹیکس آمدن کے کوئی اور ذرائع نہیں ہیں جس کے باعث حکومت کی یہی حکمت عملی ہوتی ہے کہ جہاں کہیں سے بھی ٹیکس آرہا ہو وہیں سے اکٹھا کر لیا جائے۔ اگلے مالی سال میں حکومت کی جانب سے ٹیکس میں کمی کرنے کا کوئی ارادہ نظر نہیں آ رہا۔ حکومت پہلے ہی اگلے مالی سال میں چھ ہزار ارب روپے سے زائد کا ٹیکس جمع کرنے کا سوچ رہی ہے۔ اس سب میں ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور ٹیکس آمدن کے نئے ذرائع بھی تلاش کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ تاہم اگر چھ ہزار ارب روپے کا ٹارگٹ پورا کرنے کیلئے حکومت نے بلا واسطہ ٹیکس کو ہی بڑھایا تو اس کا سیدھا اثر مہنگائی پر پڑے گا۔ایسے میں یہ ضروری ہے کہ ٹیکس نیٹ میں اضافہ کیا جائے اور بلا واسطہ ٹیکس میں مزید اضافہ کرنے سے گریز کیا جائے۔ 

ڈاکٹر حفیظ پاشا (ماہر معاشیات)

اس سال کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے  یہ دیکھ لینا چاہئے کہ حکومت نے جو اعدادوشمار جاری کیے ہیں اس میں رواں مالی سال کے صرف چھ سے نو ماہ کے ہی اعدادوشمار شامل ہیں، لہٰذا رواں سال کی گروتھ ریٹ پر بحث کرنا نا مناسب ہو گا۔ اس سال کی معاشی شرح نمو 3.94فیصد تھی ، کورونا وباء کا اس میں ایک بڑا عمل دخل ہے۔ یہ دیکھنا ہو گا کہ اگلے سال معاشی صورتحال کیا ہو گی۔ آئی ایم ایف پروگرام میں شامل ہونے کے سبب حکومت کی جانب سے ایف بی آر کے ریونیو میں اضافے کے ساتھ بجلی کی قیمتوں میں بھی 30 سے 35 فیصد اضافے کی بات کی جا رہی ہے۔ یہ دونوں عمل ایک ساتھ ہونا بڑا مشکل ہے۔ اس سے معیشت پر بوجھ بڑھے گا ۔ موجودہ مالی سال کے ابتدائی نو ماہ کے دوران پی ایس ڈی پی پرخرچ دس فیصد گر گیا ہے۔ اگلے مالی سال میں معاشی ترقی کیلئے پی ایس ڈی پی پروگرام پر خرچ کو بڑھانا ہو گا۔ اس سال برآمدات میں اضافہ نہ ہونا پریشان کن ہے ۔ حکومت کو بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے ٹیکس کا دائرہ کار بڑھانا ہو گا۔ اگر کورونا وباء کا تیسرا حملہ جلد قابو میں آ گیا اور ملک بھر میں لاک ڈاؤن ختم ہو گیا تو اس بات کی بھی امید کی جا سکتی ہے کہ اگلے مالی سال میں جی ڈی پی 4 فیصد سے تجاوز کر جائے گا۔ 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ابوظہبی میں چوکوں اورچھکوں کی بہار قومی کرکٹرز اورغیرملکی ستاروں سے سجی ٹیمیں شاندار کھیل کا مظاہرہ کررہی ہیں

آئندہ میچز کا شیڈول13 جون: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ لاہور قلندرز۔ ملتان سلطانز بمقابلہ پشاور زلمی۔14 جون: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ کراچی کنگز۔15 جون: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ لاہورقلندرز، پشاور زلمی بمقابلہ کراچی کنگز۔16 جون: ملتان سلطانز بمقابلہ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز۔17جون: اسلام آباد یونائیٹڈ بمقابلہ پشاور زلمی۔ کراچی کنگز بمقابلہ لاہور قلندرز۔ 18 جون: ملتان سلطانز بمقابلہ لاہور قلندرز۔19 جون: کوئٹہ گلیڈی ایٹرز بمقابلہ کراچی کنگز، ملتان سلطانز بمقابلہ اسلام آباد یونائیٹڈ۔20 جون: پریکٹس میچز۔21 جون: کوالیفائر (پوائنٹس ٹیبل پر پہلی بمقابلہ دوسری پوزیشن والی ٹیم )۔پوائنٹس ٹیبل پر تیسری بمقابلہ چوتھی پوزیشن والی ٹیم)۔22 جون: ایلیمینیٹر 2 (کوالیفائر ہارنے والی ٹیم اور ایلیمینیٹر 1کی فاتح ٹیم)۔23 جون: آرام/ٹریننگ ۔24 جون: فائنل کھیلا جائیگا۔

قومی ٹیم کا اگلا مشن ...برطانیہ اورویسٹ انڈیز

ابوظہبی میں جاری پاکستان سپرلیگ کا چھٹا ایڈیشن مکمل ہوتے ہی قومی کرکٹ ٹیم اپنے اگلے مشن پر برطانیہ روانہ ہوجائیگی، پاکستان کو انگلینڈ کے خلاف3ون ڈے اور3ٹی ٹوئنٹی میچز اور ویسٹ انڈیز کے خلاف 5ٹی ٹوئنٹی اور 2 ٹیسٹ میچز کھیلے گا۔ قومی کرکٹ ٹیم کی سلیکشن کمیٹی نے دورہ انگلینڈ اور ویسٹ انڈیز کے لیے قومی اسکواڈ ز میں چار کھلاڑیو ںکی واپسی ہوئی ہے۔ حارث سہیل (قومی ون ڈے انٹرنیشنل )، عماد وسیم (قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈز)، محمد عباس اور نسیم شاہ کی قومی ٹیسٹ اسکواڈ، اعظم خان کو پہلی مرتبہ قومی ٹی ٹوئنٹی اسکواڈ اور سلمان علی آغا کو قومی ون ڈے انٹرنیشنل اسکواڈ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

بجٹ22-2021 کس کو کیا ملا؟

پاکستان تحریک انصاف حکومت کے چوتھے وزیرخزانہ نے تیسرا بجٹ پیش کردیا ہے۔ اس بجٹ میں پاکستان کے کل سالانہ اخراجات کا تخمینہ 7523 ارب روپے لگایا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ملک کی کل آمدنی 7909 ارب روپے ہے، یوں ماضی کی طرح موجودہ بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہی ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 3412 ارب روپے منتقل کیے جانے کا تخمینہ ہے۔ اس قابل تقسیم محصولات میں ہے پنجاب کو 1691ارب روپے، سندھ کو 848 ارب روپے، خیبر پختونخوا کو 559 ارب روپے اور بلوچستان کو 313 ارب روپے دیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یوں صوبوں کو پیسوں کی ترسیل کے بعد وفاقی حکومت کے پاس 4497 ارب روپے رہ جاتے ہیں جن سے ملک کو چلایا جائے گا۔ موجودہ مالی سال میں ہونے والے اخراجات کی جانب نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سال مجموعی طور پر 3060 ارب روپے قرضوں پر سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے، جن میں سے اندرونی قرضوں پر سود کی مد میں 2757 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں پر سود کی مد میں 302 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔ اسی طرح وفاقی سول حکومت کو چلانے کے اخراجات کی مد میں 479 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ کی تفصیل میں جایا جائے تو موجودہ بجٹ میں دفاعی اخراجات کیلئے 1370 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ گزشتہ مالی بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 80 ارب زیادہ ہیں۔ اسی طرح حکومت کی جانب اس دفعہ پنشن کی مد میں 480 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ملٹری پنشن کیلئے 360 ارب روپے اور سول ملازمین کی پنشن کیلئے 120 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جو گزشتہ مالی بجٹ کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔ اب اگر وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا موازنہ کیا جائے تو موجودہ مالی سال میں حکومت نے سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کیلئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو 113 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی بجٹ سے 5 ارب روپے کم ہے۔ اس کے علاوہ آبی وسائل کی بہتری کیلئے 103 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں

بجٹ 22-2021ماہرین کی نظر میں

یہ بجٹ غلط دعووں پر مبنی غلط اعدادوشمار پر مبنی بجٹ ہے۔ البتہ اس میں عوام کے لیے کچھ ریلیف ہے۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جس قدر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہے اس سے زیادہ عوام کی جیب سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ تو پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد ریویو ہوا کریں گی اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگا جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ہے جسے ہم بھتہ کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا تو اس کا نام تبدیل کردیا گیا۔

حسد سے بچیں

’’آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو۔ نہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھواور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلقی کرو اوربھائی بھائی ہو جاؤ۔‘‘ فرمانِ رسول ﷺ ’’حسد سے بچو! کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ حدیثِ رسولﷺ

سیرت مصطفٰیﷺ۔۔۔فلاح انسانیت کا ذریعہ

فخرِ موجودات، باعثِ تخلیقِ کائنات، ہادیٔ برحق ،خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمد اللہ کا انسانیت پر اتنا بڑا احسان عظیم ہے ،جس کا احاطہ بڑے بڑے دانشور نکتہ داں مفکر نہیں کرسکتے ۔ذات مصطفی ؐ ہی خدا کی پہچان کا واحد ذریعہ ہے نبی کریم ﷺکی آمد کی پیش گوئیاں ہر نبی کرتا رہا ،خدا والوں کو بھی صدیوں سے آپؐ کا انتظار تھاصاحبانِ عرفان آپؐ کے کمالات معجزات نشانیاں جانتے تھے اور آپؐ کے شدت سے منتظر تھے ۔جہاں انتظار کرنے والوں نے آپؐ کی مدح سرائی کی وہاں جمالِ مصطفی ؐ کا مشاہدہ کرنے والوں نے بھی آپؐ کے مقام کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔انہی ہستیوں میں ایک سب سے نمایاں نام حضرت ابو طالبؓ کا بھی ہے ۔جنہوں نے نہ صرف مقام مصطفیؐ کو دنیا کے سامنے آشکار کیا بلکہ ذات مصطفیؐ کے تحفظ کیلئے ہر مصیبت و الم کو برداشت کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ام المومنین حضرت خدیجہؓ کے بعد حضرت ابو طالبؓ دنیا میں نہ رہے تو حضرت جبرئیلؑ نے آکر اللہ کے نبی ؐ کو وحی کی کہ اب مکہ چھوڑ دیں اس شہر میں آپکا پاسبان و مربی کوئی نہیں رہا ۔یوں حضرت ابو طالب ؓکے بعد مکہ چھوڑنا پڑ ااور ہجرت پر مجبور ہو نا پڑا۔