نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سندھ کوبلدیاتی نظام کی بہت زیادہ ضرورت ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی:آرٹیکل 140اےپرعملدرآمدنہیں ہورہا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- سپریم کورٹ آرٹیکل 140اےپرعملدرآمدکرائے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی کےعوام سندھ حکومت سےتنگ ہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ہمیں کراچی کےمسائل کاادراک ہے،وفاقی وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- کراچی کےشہریوں کوپینےکاپانی دستیاب نہیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- وزیراعلیٰ سندھ اوران کی پارٹی پانی نہ ملنےکی ذمہ دارہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کواندرون سندھ کی پارٹی بنادیاگیا،فوادچودھری
  • بریکنگ :- کراچی کامیئربراہ راست منتخب ہوناچاہیے،وفاقی وزیراطلاعات
  • بریکنگ :- احسن اقبال سینئررہنماہیں کبھی عقل کی بات بھی کرلیاکریں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- احسن اقبال نےالیکٹرونک ووٹنگ مشین دیکھےبغیرمستردکی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- ہرالیکشن کےبعدتنازع کھڑاہوتاہے،وفاقی وزیراطلاعات فوادچودھری
  • بریکنگ :- ن لیگ اوورسیزپاکستانیوں کوووٹ کاحق نہیں دیناچاہتی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- شفاف الیکشن کیلئےاپوزیشن کوسنجیدہ کوششیں کرنی چاہئیں،فوادچودھری
  • بریکنگ :- سندھ حکومت قوم پرستی کی سیاست میں پڑگئی ہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- پیپلزپارٹی کودوبارہ وفاق کی سیاست کرنی چاہیے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- امریکاکوکسی قسم کے ایئربیسزنہیں دیئےجارہے،فوادچودھری
  • بریکنگ :- امیدہےسندھ حکومت رواں سال کچھ پیسہ عوام پرلگائےگی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- سندھ میں پی ٹی آئی حکومت ہوتی توواضح ترقی نظرآتی،فوادچودھری
  • بریکنگ :- سندھ میں سڑکوں کابراحال،اسپتالوں میں سہولتوں کی کمی ہے،فوادچودھری
Coronavirus Updates

نئے پاکستان کے3سال حکو مت کہاں کھڑی ہے ؟

خصوصی ایڈیشن

تحریر : طارق حبیب


اقتصادی جائزہ رپورٹ کے اہم نکاتایک سال میں ڈاکٹرز کی تعداد میں 12ہزار 726کا اضافہ ہوا۔رجسٹرڈ ہیلتھ وزیٹرز کی تعداد 21ہزار 361ہو گئی ہے۔ملک میں ہسپتالوں کی تعداد 1282، ڈسپنسریز کی تعداد 5 ہزار 743 ہے۔واپڈا نے 50 کروڑ ڈالر کے یورو بانڈز کا اجرا کیا ۔مویشیوں کی تعداد میں سالانہ بنیاد پر 19لاکھ کا اضافہ ہوا۔ کورونا کی وجہ سے 2کروڑ لوگ بے روز گار ہوئے۔رواں سال گندم، چاول، گنا اور مکئی کی بمپر فصلیں آئیں۔ترسیلاتِ زر 29فیصد بڑھ رہی ہیں۔ایف اے ٹی ایف پاکستان سے مطمئن ہے۔پاکستان میں احساس پروگرام ڈیڑھ کروڑ لوگوں تک پہنچایا گیا۔چھوٹے 68لاکھ کاروبار میں سے صرف صرف ایک لاکھ کو قرض ملتا ہے۔آئی ایم ایف ملک میں بجلی مہنگی کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے منشور کا ایک بنیادی نکتہ پاکستان کو کاروبار دوست ممالک کی عالمی درجہ بندی میں 147 ویں ملک سے 100ویں نمبر پر لانا تھا۔موجودہ حکومت کے گزشتہ سالوں کی رپورٹس کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان نے اس سلسلے پیشرفت کی ہے۔ تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کی کاروبار دوست ممالک کی فہرست میں 11 درجے ترقی ہوئی اور پاکستان 147 پوزیشن سے 136 پوزیشن پر براجمان ہو گیا۔ اسی طرح 2018 کے مقابلے میں پاکستان 28 درجے بہتری کے بعد108 ویں پوزیشن پر آگیا ہے۔ اس حوالے سے حکومت کی جانب کاروبار کے حوالے سے 112 اصلاحات کی گئی ہیں۔ تحریک انصاف نے حکومت میں آنے کے بعد تین سالہ ’’ڈوئنگ بزنس ریفارم اسٹریٹیجی2018-21 ‘‘متعارف کرائی جس کے تحت ملک میں اندرونی اور بیرونی سرمایہ کاری کیلئے دوست ماحول فراہم کرنا تھا تا کہ ملک کی معاشی پیداوار میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس حکمت عملی کے تحت وفاقی اور صوبائی سطح پر اصلاحی اقدامات کیے گئے۔ ان اصلاحات میں ٹیکنالوجی میں بہتری اور کاروبار کا آغاز کرنے کے طریقہ کار کو آسان بنانا تھا۔ کاروبار دوست ممالک کی عالمی درجہ بندی میں بہتری میں ایف اے ٹی ایف کے مطالبات کے حوالے سے کی جانے والی قانون سازی اور آئی ایم ایف کی شرائط پر عملدرآمد کا اہم کردار ہے۔ اس کامیابی میں پارلیمان سمیت بہت سے اداروں کا بھی مشترکہ کردار ہے،جن میں سرمایہ کاری بورڈ، ایس ای سی پی اور پنجاب آئی ٹی بورڈ وغیرہ شامل ہیں۔ کاروباری سرگرمیوں سے منسلک حکومتی اداروں کی ڈیجیٹلائزیشن اور ون ونڈو آپریشن جیسے اقدامات نے پاکستان میں کاروباری آسانیاں پیدا کرنے میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ان اصلاحات کے نتیجے میں ملک کی معاشی پیداوار میں ریکارڈ اضافہ دیکھنے میں آیا اور ملکی جی ڈی پی جو 2018 میں 34.61 ٹریلین روپے تھی آج 13 ٹریلین روپے کے اضافے کے ساتھ 47.7 ٹریلین روپے تک جا پہنچی ہے۔ تاہم روپے کے مقابلے میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت کے باعث تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے ایک برس بعد ہی پاکستان کی جی ڈی پی 314 ارب ڈالر سے 11 فیصد کمی کے بعد مالی سال 2019 میں 278 ارب ڈالر پر آگئی ۔گزشتہ مالی سال کے دوران اس میں مزید کمی واقع ہوئی اور جی ڈی پی 263 ارب ڈالر پر آ کھڑی ہوئی۔ البتہ ، رواں مالی سال میں لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث ملکی معیشت میں بہتری آئی اور جی ڈی پی 12.5 فیصد ترقی کے ساتھ 296 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ یوں، موجودہ مالی سال کے دوران ملکی جی ڈی میں 33 ارب ڈالر کا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ 

اس کے علاوہ بیرونی سرمایہ کاری میں اضافے کیلئے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں اور غیرملکی سرمایہ کاروں کی حوصلہ افزائی کی جارہی ہے۔ اس سلسلے میں ایک اہم پیشرفت روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ کی صورت میں ہوئی ہے ،جس کی مد میں مئی 2021 تک حکومت نے ایک ارب ڈالر سے زائد وصول کیے ہیں۔

بیشتر کاروباری و معاشی اصلاحات کے باوجود پاکستان میں مالی سال2021 کے ابتدائی 10 ماہ کے دوران غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری میں 32 فیصد سے زائد کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ رواں مالی سال میں جولائی سے اپریل کے دوران غیر ملکی براہ راست سرمایہ کاری ایک ارب 55 کروڑ ڈالر رہی جو کہ گزشتہ مالی سال کے دوران 2 ارب 30 کروڑ سے زائد تھی۔ معاشی ماہرین کے مطابق قومی سطح پر توانائی کے شعبے میں جاری بحران، سیاسی عدم استحکام اور افراطِ زر میں غیر یقینی اضافہ بھی کاروبار دوست ماحول تشکیل دینے کی راہ میں حائل بڑی رکاوٹیں ہیں۔

معاشی شعبوں میں حکومتی کارکردگی

صنعتی شعبہ

پاکستان کی کل افرادی قوت میں صنعتی شعبہ کا حصہ 38 فیصد ہے۔ آبادی کے ایک بڑے حصے کو روزگار فراہم کرنے کے علاوہ ملکی معیشت کی سمت تعین کرنے میں صنعتی شعبے کا کلیدی کردار ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد نہ صرف اسکے ملکی جی ڈی پی کے حصے میں کمی دیکھنے میں آئی بلکہ صنعتی شعبہ کی شرح ترقی بھی منفی میں چلی گئی۔ مالی سال 2018 میں پاکستان کا صنعتی شعبہ ملکی جی ڈی پی کا تقریباً 20.58 فیصد حصہ رکھتا تھا جو کہ مالی سال 2019 کے دوران 19.85 فیصد، پھر مالی سال 2020 کے دوران 19.19 فیصد اور رواں مالی سال 19.12 فیصد رہا۔اسی طرح مالی سال 2018 میں صنعتی شعبہ میں ترقی کی شرح 4.61 فیصد تھی۔ تاہم تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے کے بعد صنعتی ترقی کی شرح میں ریکارڈ کمی دیکھنے میں آئی اور مالی سال 2019 میں منفی 1.56 فیصد تک جا پہنچی جبکہ مالی سال 2020 میں صنعتی ترقی کی شرح منفی 3.77 فیصد رہی۔صنعتی ترقی کی شرح میں ریکارڈ کمی کی ایک بڑی وجہ کورونا وباء بھی ہے جس کے باعث عالمی سطح پر معاشی سرگرمیاں جمود کا شکار ہوئیں۔ کورونا سے متاثر ہ ممالک مکمل لاک ڈاؤن لگانے پر مجبور ہوئے اور ہر طرح کی بین الاقومی آمدورفت پر پابندیاں عائد کر دی گئیں۔ پاکستانی انڈسٹریز کو بیرون ممالک سے ملنے والے بیشتر آرڈرز منسوخ ہوگئے جس کی وجہ سے پاکستان کی صنعتی اشیاء کی برآمدات بڑی حد تک متاثر ہوئیں، جبکہ خام مال کی درآمد بھی التواء کا شکار ہوئی۔

 رواں مالی سال حکومت نے صنعتی ترقی کی شرح 0.1 فیصد تک لانے کا ارادہ کیا  تاہم پاکستان اور دیگر ممالک کی جانب سے لاک ڈاؤن میں نرمی کے باعث صنعتی شعبہ میں ایک بار پھر ترقی کے اثرات پیدا ہو گئے ہیں، جس کے باعث مالی سال 2021 میں پاکستان میں صنعتی ترقی میں گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تقریباً 200 فیصد کی بہتری آئی اور مجموعی صنعتی ترقی کی شرح 3.57 فیصد رہی۔

زرعی شعبہ

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے جس کی سماجی واقتصادی ترقی کا بڑا دارومدار زراعت پر ہے۔ اس شعبے میں انقلابی اصلاحات متعارف کروانے کا نعرہ لگا کر تحریک انصاف نے حکومت سنبھالی تو ابتدا میں ایک ٹاسک فورس قائم کی گئی جس کی سربراہی جہانگیر ترین کر رہے تھے۔ اس ٹاسک فورس کی ذمہ داریوں میں زراعت کے جدید طریقے متعارف کروانے، زرعی اجناس میں کاشتکار کا منافع بڑھانے اور دیگر اقدامات کے ساتھ سبسڈی پروگرامز کو موثر بنانے کے لئے زرعی پالیسی لاگوکرنا شامل تھا۔ اس ضمن میں کوئی بڑ ی پیشرفت تو نہ ہوسکی، اس کے برعکس عوام کو ملک میں وافر دستیاب اجناس کی بھی قلت کا سامنا کرنا پڑا۔ گندم اور چینی کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں اور اشیائے ضروریہ غریب کی دسترس سے باہر ہوتی گئیں۔ اس حوالے سے جب تحقیقات کروائی گئیں تو جہانگیر ترین سمیت اہم حکومتی عہدیداران کو گندم و چینی اسکینڈل میں ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ اس کے نتیجے میں جہانگیر ترین کو زرعی ٹاسک فورس کے عہدے سے ہٹا دیا گیا جبکہ چند وزراء کے قلمدان تبدیل کر دیے گئے۔

زراعت پاکستان کی معیشت میں 19.19 فیصد حصہ رکھتا ہے اور 45 فیصد سے زائد لوگوں کا روزگار بھی اسی شعبہ سے وابستہ ہے۔ گزشتہ سالوں میں زرعی پیداوار کا اگر جائزہ لیا جائے تو مالی سال 2018 میں زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 4 فیصد رہی۔البتہ تحریک انصاف کے حکومت میں آنے کے بعد زرعی شعبہ بھی زبو ں حالی کا شکار ہوا اور مالی سال 2019 میں زرعی پیداوار کی شرح 0.56 فیصد تک جا پہنچی۔ مالی سال 2020 میں زرعی شعبہ میں ترقی کی شرح 3.31فیصد رہی۔ گزشتہ چند سالوں سے ملک میں جاری پانی و توانائی کی قلت، زرعی رقبے میں مسلسل کمی، گورننس کے مسائل اور کسان کی بدحالی کے باعث پاکستان میں اہم فصلوں کی پیداوار میں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ حکومت کی جانب سے رواں مالی سال زرعی شعبہ میں 2.8 فیصد ترقی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ پاکستان کے اداراہِ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق موجودہ مالی سال میں ملک کے زرعی سیکٹر نے 2.77 فیصد کی شرح سے ترقی کی ہے، جو گزشتہ مالی سال 3.31 فیصد پر تھا۔ یوں موجودہ مالی سال میں زراعت کے شعبے میں 16 فیصد کی تنزلی دیکھنے میں ا?ٓئی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے یہ مؤقف اپنایا گیا کہ زرعی پیداوار میں بہتری جی ڈی پی میں اضافے کا باعث بنی۔ حکومت کی جانب سے پاکستان میں زراعت کے شعبے میں ترقی کے بلند و بالا دعوے  کئے گئے اور اس حوالے سے ملک میں اس سال بمپر کراپ کی پیداوار ہونے پر بھی فخر کیا گیا۔ زراعت کے شعبے کا تفصیلی جائزہ لیا جائے تو گندم، چاول، گنا اور مکئی جیسی اجناس کی پیداوار میں 4.65 فیصد اضافہ ہوا ،تاہم کپاس کی فصل کی پیدواری شرح ، جو گزشتہ سال منفی 4.82 فیصد کی شرح پر تھی اس سال مزید تنزلی کے بعد منفی 15.58 فیصد شرح پر آ گئی ہے۔ ساتھ ہی ملک میں جنگلات کی پیداوری شرح 3.6 فیصد سے کم ہو کر 1.42 فیصد پر آ گئی ہے۔گزشتہ مالی سال 2020 میں حکومت نے پبلک سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت زراعت کیلئے 12.048 ارب روپے مختص کیے تھے جس میں سے 8.277 ارب روپے خرچ کیے گئے جو کہ کل رقم کا 68.6 فیصد بنتا تھا۔ اسی طرح رواں مالی سال 2021 کے دورا ن پبلک  سیکٹر ڈیویلپمنٹ پروگرام کے تحت زراعت کیلئے 12 ارب روپے مختص کیے جس میں سے جولائی تا اپریل تک 9.894 ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں جو کہ مختص کی جانے والی کل رقم کا 82.45 فیصد ہے۔

خدمات کا شعبہ

ملکی شرح نمو میں خدمات کے شعبہ کا حصہ 62 فیصد ہے اور اس میں بتدریج  اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ تحریک انصاف کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے یہ شعبہ 6.35 فیصد کی شرح سے ترقی کر رہا تھا۔ معاشی سست روی نے خدمات کے شعبے کو 2019 میں 3.79 فیصد جبکہ مالی سال 2020 میں منفی 0.55 فیصد پر لا کھڑا کیا۔ پاکستان میں خدمات کے شعبے میں پہلی بار منفی شرح کا سہرا بھی پی ٹی آئی کے سر جاتا ہے۔ ساتھ ہی کورونا وباء کے باعث لگنے والے لاک ڈاؤن نے معاشی سست روی میں اضافہ کیا جس کا نتیجہ بیروزگاری میں نمایاں اضافے کی صورت میں سامنے آیا۔ خدمات کے شعبے میں منفی شرح پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار دیکھنے کو ملی۔رواں مالی سال میں حکومت نے سروسز کے شعبے میں ترقی کی شرح 2.6 فیصد تک لیجانے کا ادارہ کیا البتہ کورونا وباء میں کمی کر باعث لاک ڈاؤن میں نرمی کیے جانے اور عالمی معاشی سست روی کے باعث پاکستان کے سروسز سیکٹر میں مثبت پیشرفت دیکھنے میں آئی اور رواں مالی سال پاکستان کا سروسز سیکٹر 4.43 فیصد پر آ گیا۔اگر سروسز سیکٹر کی تفصیلی منظر کشائی کی جائے تو ہول سیل اور ریٹیل ٹریڈ رواں مالی سال منفی 3.94 فیصد شرح سے 8.37 فیصد پر آگیا ہے۔ اسی طرح فنانس اور انشورنس 1.13 فیصد شرح سے بڑھ کر 7.84 فیصد پر آ گئی ہے ۔ البتہ حکومت کی جانب سے ہاؤسنگ سیکٹر سے منسلک افراد کیلئے رواں مالی سال میں مختلف پیکجزکے  اعلانات کے باوجود ہاؤسنگ سیکٹر کی کی ترقی کی شرح 4 فیصد پر ہی قائم رہی۔

چھوٹے اور درمیانے درجے کے 

پیداواری شعبوں کی صورتحال

پاکستان کا مینوفیکچرنگ سیکٹر اس کی معیشت کیلئے ریڑھ کی ہڈی کا کام کرتا ہے اور بنیادی طور پر بڑے پیمانے پر مینوفیکچرنگ ، چھوٹے اور درمیانے درجے کے پیمانے پر مشتمل ہے۔ گزشتہ دہائی سے پاکستان کی جی ڈی پی میں مینوفیکچرنگ سیکٹر کا حصہ 13 فیصد پر مستحکم رہا ہے جس کی ایک بڑی وجہ ساختی رکاوٹیں اور سرکاری دفتری کارروائی میں سست روی ہے، اس کے علاوہ کاروبار کرنے کی قیمتوں میں اضافہ، توانائی کی فراہمی میں حائل رکاوٹیں، امن و امان کی منفی صورتحال، مینو فیکچر نگ سیکٹر خصوصاً چھوٹے اور درمیانے درجے کی پیداواری شعبوں کیلئے قرضوں تک محدود رسائی اور جدید ٹیکنالوجی اور غیر ہنر مند افرادی قوت کی کمی بھی مینوفیچرنگ سیکٹر کی مشکلات میں اضافہ کرتی ہیں۔ مزید برآں گزشتہ تین دہائیوں سے متحرک صنعتی نقطہ نظر اور پالیسی کی عدم موجودگی پاکستان کے مینوفیکچرنگ سیکٹر کیلئے مزید پریشان کن حالات پیدا کرتے ہیں۔

رواں مالی سال2021 میں جولائی تا مارچ کے دوران پاکستان کی بڑے پیمانے پر مشتمل مینوفیکچرنگ سیکٹر میں گزشتہ سال 2020 میں جولائی تا مارچ کی نسبت 9 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ بڑے پیمانے کی مینوفیکچرنگ سیکٹر میں بہتری میں بنیادی کردار ٹیکسٹائل، مشروبات، دوا سازی، کیمیکلز اور آٹو موبائل سیکٹر نے ادا کیا ہے۔ اس کے علاوہ ڈی انڈسٹریلائزیشن کے عمل کو تبدیل کرنے کے باعث بھی ایل ایس ایم سیکٹر میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔

سال 2020 میں کورونا وباء کے معاشی اثرات سے نمٹنے کیلئے حکومت نے 2 خصوصی اسکیمیں "چھوٹا کاروبار و وصنعت پیکج" متعارف کرایا، جس کے ذریعے چھوٹے کاروباروں کو کورونا وباء کے وبائی امراض سے دور کرنے کیلئے مختلف رعایتیں دی گئیں۔تقریباً 35 لاکھ چھوٹے کاروباری افراد جن میں سے 95 فیصد کمرشل اور 80 فیصد صنعتی صارفین ہیں اس پیکج سے فائدہ اٹھا سکتے تھے۔پیکج میں 5 کلو واٹ بجلی استعمال کرنے والے کمرشل ایس ایم ایز اور 70 کلو واٹ بجلی استعمال کرنے والے صنعتی ایس ایم ایز کیلئے تین مہینوں کیلئے بجلی کے بلوں کی ادائیگی میں رعایت بھی شامل تھی۔ ساتھ ہی حکومت نے تعمیراتی شعبے کیلئے ٹیکسوں کی واپسی کے طور پر 100 ارب روپے کے امدادی پیکج کا اعلان بھی کیا۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ان اقدامات کا مقصد ملک میں لاک ڈاؤن کے باعث ہونے والے مالی بحران کے اثرات کو جزوی طور پر کم کرنا تھا۔ حکومت کی جانب سے کیے جانے والے ان اقدامات کی بدولت مینوفیکچرنگ کے شعبے میں ترقی کی شرح منفی 7.39 فیصد سے بڑھ کر 8.71 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے زیادہ ترقی چھوٹی اور درمیانے درجے کی پیداواری صنعتوں میں ہوئی جو گزشتہ مالی سال کی منفی 10.12 فیصد شرح ترقی سے بڑھ کر 9.29 فیصد کی شرح کو پہنچ چکی ہیں۔ یوں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ٹیکسٹائل اور انڈسٹریل سیکٹر کو دی جانے والی مراعات کے ثمرات چھوٹے درجے کی پیداواری صنعت میں تقریباً 200 فیصد ترقی کے ساتھ سامنے آئے ہیں۔ اس کے علاوہ کنسٹرکشن انڈسٹری میں ترقی کی شرح 5.46 فیصد سے بڑھ کر 8.34 فیصد کو پہنچ گئی ہے۔ ساتھ ہی گزشتہ مالی سال کے دوران بجلی اور گیس کی طلب میں ترقی کی شرح 22.40 فیصد تھی، جو مالی سال 2021 میں تنزلی کے بعد منفی 22.96 فیصد پر آن پہنچی ہے۔ 

معاشی ترقی کی شرح

اگست 2018 میں تحریک انصاف کے حکومت میں آنے سے قبل مالی سال 2018 میں ملک 5.5 فیصد کی شرح کے ساتھ ترقی کر رہا تھا،تاہم حکومت میں آنے کے بعد تحریک انصاف کی ناقص معاشی پالیسیوں کے سبب ملکی ترقی کی شرح میں گراوٹ دیکھنے میں آئی اور مالی سال 2019 میں پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 166 فیصد کمی کے ساتھ 2 فیصد پر آ کھڑی ہوئی۔ اسی طرح گزشتہ مالی سال میں کورونا وباء کے سبب لگنے والے عالمی لاک ڈاؤن کے سبب عالمی معیشت میں سست روی کا رجحان رہاجس کا اثر پاکستانی معیشت پر بھی دیکھنے میں آیا اور ملکی ترقی کی شرح مزید تنزلی کا شکار ہو کر منفی 0.4 فیصد تک جا پہنچی۔ اس سے قبل پاکستان کی معیشت میں منفی گروتھ 1952-1951 میں دیکھی گئی تھی۔ تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں ڈالر کی قدر میں اضافہ، پٹرول و دیگر اجناس کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگائی اور بیروزگاری کی شرح میں اضافے نے ملکی جی ڈی پی کو منفی تک لیجانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ تاہم رواں مالی سال کے دوران حکومت کی جانب سے بروقت کیے جانے والے اقدامات جس میں لاک ڈاؤن میں نرمی، 1200 ارب روپے کا تاریخی کورونا ریلیف پیکج اور اسٹیٹ بینک کی جانب سے مانیٹری پالیسی ریٹ میں 47 فیصد کمی کر کے 13.25 فیصد سے 7 فیصد پر مستحکم کرنا شامل ہیں۔ حکومت کے ان اقدامات نے معیشت پر مثبت اثرات چھوڑے جس کے باعث پاکستان اسٹاک مارکیٹ ریکارڈ اضافے کے ساتھ 48000 پوائنٹس کی نفسیاتی سطح کو عبور کر گئی۔ اس کے ساتھ ہی ملک کے مجموعی زرمبادلہ کے ذخائر 4 ارب 41 کروڑ ڈالرز اضافے کے ساتھ 23.29 ارب ڈالر کو پہنچ گئے۔اس کے علاوہ حکومت نے موجودہ مالی سال میں ترقیاتی کاموں کو اہمیت دیتے ہوئے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام میں 561 ارب روپے خرچ کیے اور کنسٹرکشن اسکیم کو بھی جاری رکھا جس سے ملک میں انڈسٹریل سیکٹر کو مزید بڑھنے کا موقع ملا۔ پاکستان کے اداراہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق پاکستان کی کل جی ڈی پی 41 ہزار 500 ارب روپے سے بڑھ کر 47 ہزار 709 ارب روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔اس سب کے ثمرات پاکستان معاشی ترقی پر آئے جس سے پاکستان کی ترقی کی شرح تقریباً 800 فیصد اضافے کے ساتھ منفی 0.4 سے بڑھ کر 3.94 فیصد تک آن پہنچی ہے۔ 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

بجٹ22-2021 کس کو کیا ملا؟

پاکستان تحریک انصاف حکومت کے چوتھے وزیرخزانہ نے تیسرا بجٹ پیش کردیا ہے۔ اس بجٹ میں پاکستان کے کل سالانہ اخراجات کا تخمینہ 7523 ارب روپے لگایا گیا ہے جو گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے، جبکہ اس کے مقابلے میں ملک کی کل آمدنی 7909 ارب روپے ہے، یوں ماضی کی طرح موجودہ بجٹ بھی خسارے کا بجٹ ہی ہے۔ بجٹ دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال میں این ایف سی ایوارڈ کے تحت صوبوں کو مجموعی طور پر 3412 ارب روپے منتقل کیے جانے کا تخمینہ ہے۔ اس قابل تقسیم محصولات میں ہے پنجاب کو 1691ارب روپے، سندھ کو 848 ارب روپے، خیبر پختونخوا کو 559 ارب روپے اور بلوچستان کو 313 ارب روپے دیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ یوں صوبوں کو پیسوں کی ترسیل کے بعد وفاقی حکومت کے پاس 4497 ارب روپے رہ جاتے ہیں جن سے ملک کو چلایا جائے گا۔ موجودہ مالی سال میں ہونے والے اخراجات کی جانب نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس سال مجموعی طور پر 3060 ارب روپے قرضوں پر سود کی مد میں ادا کیے جائیں گے، جن میں سے اندرونی قرضوں پر سود کی مد میں 2757 ارب روپے جبکہ بیرونی قرضوں پر سود کی مد میں 302 ارب روپے ادا کیے جائیں گے۔ اسی طرح وفاقی سول حکومت کو چلانے کے اخراجات کی مد میں 479 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ کی تفصیل میں جایا جائے تو موجودہ بجٹ میں دفاعی اخراجات کیلئے 1370 ارب روپے رکھے گئے ہیں جو کہ گزشتہ مالی بجٹ کے مقابلے میں تقریباً 80 ارب زیادہ ہیں۔ اسی طرح حکومت کی جانب اس دفعہ پنشن کی مد میں 480 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن میں سے ملٹری پنشن کیلئے 360 ارب روپے اور سول ملازمین کی پنشن کیلئے 120 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ آئندہ مالی سال کا وفاقی ترقیاتی بجٹ 900 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جو گزشتہ مالی بجٹ کے مقابلے میں 40 فیصد زیادہ ہے۔ اب اگر وفاقی حکومت کے سالانہ ترقیاتی پروگرام کا موازنہ کیا جائے تو موجودہ مالی سال میں حکومت نے سڑکوں اور شاہراہوں کی تعمیر و مرمت کیلئے نیشنل ہائی ویز اتھارٹی کو 113 ارب روپے دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی بجٹ سے 5 ارب روپے کم ہے۔ اس کے علاوہ آبی وسائل کی بہتری کیلئے 103 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں

بجٹ 22-2021ماہرین کی نظر میں

یہ بجٹ غلط دعووں پر مبنی غلط اعدادوشمار پر مبنی بجٹ ہے۔ البتہ اس میں عوام کے لیے کچھ ریلیف ہے۔ اس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ جس قدر ریلیف دینے کی بات کی گئی ہے اس سے زیادہ عوام کی جیب سے نکالنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔ تو پیٹرولیم منصوعات کی قیمتیں ہر پندرہ دن بعد ریویو ہوا کریں گی اور اس میں بڑی تیزی سے اضافہ ہوگا جس کا اثر براہ راست عوام پر پڑے گا۔ سب سے پریشان کن بات یہ ہے کہ پیٹرولیم لیوی ہے جسے ہم بھتہ کہتے ہیں کیونکہ اس کا کوئی جواز موجود نہیں ہے، سپریم کورٹ نے اسے غلط قرار دیا تھا تو اس کا نام تبدیل کردیا گیا۔

حسد سے بچیں

’’آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ حسد نہ کرو۔ نہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ بغض رکھواور نہ ہی آپس میں ایک دوسرے سے قطع تعلقی کرو اوربھائی بھائی ہو جاؤ۔‘‘ فرمانِ رسول ﷺ ’’حسد سے بچو! کیوں کہ حسد نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جس طرح آگ لکڑیوں کو کھا جاتی ہے۔‘‘ حدیثِ رسولﷺ

سیرت مصطفٰیﷺ۔۔۔فلاح انسانیت کا ذریعہ

فخرِ موجودات، باعثِ تخلیقِ کائنات، ہادیٔ برحق ،خاتم الانبیاء حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دنیا میں آمد اللہ کا انسانیت پر اتنا بڑا احسان عظیم ہے ،جس کا احاطہ بڑے بڑے دانشور نکتہ داں مفکر نہیں کرسکتے ۔ذات مصطفی ؐ ہی خدا کی پہچان کا واحد ذریعہ ہے نبی کریم ﷺکی آمد کی پیش گوئیاں ہر نبی کرتا رہا ،خدا والوں کو بھی صدیوں سے آپؐ کا انتظار تھاصاحبانِ عرفان آپؐ کے کمالات معجزات نشانیاں جانتے تھے اور آپؐ کے شدت سے منتظر تھے ۔جہاں انتظار کرنے والوں نے آپؐ کی مدح سرائی کی وہاں جمالِ مصطفی ؐ کا مشاہدہ کرنے والوں نے بھی آپؐ کے مقام کو دنیا کے سامنے آشکار کیا۔انہی ہستیوں میں ایک سب سے نمایاں نام حضرت ابو طالبؓ کا بھی ہے ۔جنہوں نے نہ صرف مقام مصطفیؐ کو دنیا کے سامنے آشکار کیا بلکہ ذات مصطفیؐ کے تحفظ کیلئے ہر مصیبت و الم کو برداشت کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ جب ام المومنین حضرت خدیجہؓ کے بعد حضرت ابو طالبؓ دنیا میں نہ رہے تو حضرت جبرئیلؑ نے آکر اللہ کے نبی ؐ کو وحی کی کہ اب مکہ چھوڑ دیں اس شہر میں آپکا پاسبان و مربی کوئی نہیں رہا ۔یوں حضرت ابو طالب ؓکے بعد مکہ چھوڑنا پڑ ااور ہجرت پر مجبور ہو نا پڑا۔

حقوق العباد

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی عبادت کیلئے اس دارفانی میں پیدا کیا تو اس پر اس سماجی زندگی میں کچھ حقوق رکھ دیئے تاکہ بندہ ان حقوق کی پاسداری کر کے اسی کے ذریعے قرب باری تعالیٰ حاصل کرے۔سب سے پہلے ان حقوق کی 2 قسمیں ہیں۔1:حقوق اللہ 2:حقوق العباد۔ہم یہاں حقوق العباد بیان کریں گے۔حقوق العباد میں سب سے زیادہ حق و الدین کا ہے،اس لیے سب سے پہلے والدین کے حقوق بیان کرتے ہیں۔

مسائل اور ان کا حل

سونا اور نقدی ملاکر ساڑھے باون تولہ چاندی کے بقدر ہونے پر زکوٰۃ واجب ہے سوال :(1)اسکی وضاحت فرمائیں کہ دویاتین تولے سونے پرکون سی زکوٰۃ ہوتی ہے اوردویاتین تولے سونے کے ساتھ ایک روپیہ بھی ہوتوکونسی زکوٰۃ ہوتی ہے؟ (عامربن غلام جیلانی )جواب:(1) دراصل سونے کی زکوٰۃ کانصاب ساڑھے سات تولہ ہے جسکی تفصیل یہ ہے کہ اگرکسی کے پاس صرف سوناہوسونے کے علاوہ چاندی ،نقدی یا مال تجارت کچھ نہ ہوتوایسی صورت میں ساڑھے سات تولہ سونے سے کم سونے پرزکوٰۃ واجب نہیں اورساڑھے سات تولہ سونایااس سے زیادہ سوناہونے کی صورت میں زکوٰۃ واجب ہے ، تاہم اگرسوناساڑھے سات تولے سے کم ہو اور اسکے ساتھ نقدی بھی ہوتوایسی صورت میں اب شرعاً سونے کے نصاب کااعتبارنہیں کیا جائیگا بلکہ اب ایسی صورت میں چاندی کانصاب معتبرہوگا جوکہ ساڑھے باون تولہ ہے لہٰذاایک دوتولہ سونے کے ساتھ ایک روپیہ بھی ہوتواسکی مجموعی قیمت چونکہ ساڑھے باون تولہ (چاندی کے نصاب کے بقدر)مالیت بنتی ہے اسلئے اس صورت میں چاندی کے نصاب کے اعتبارسے شرعاً زکوٰۃ واجب ہوگی۔(مزید تفصیل اور حوالہ جات کیلئے دیکھئے فتاویٰ عثمانی 2؍70)‘‘