نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- چہلم شہدائےکربلاکےدوران موبائل فون سروس بندرہےگی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- چہلم شہدائے کربلا پرفوج ،رینجرزتعینات ہوگی،شیخ رشید
  • بریکنگ :- اپوزیشن نیوزی لینڈ ٹیم کامعاملہ ہم پرڈال رہی ہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- اپوزیشن شیشے کےگھرمیں بیٹھ کرحکومت پرپتھرنہ مارے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- پتانہیں آخری وقت نیوزی لینڈ نےکیافیصلہ کیا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ایک دن آئے گایہ سب یہاں کھیلنے آئیں گے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- ایک ماہ سےبھارت میں منفی پرو پیگنڈا چل رہاہے،شیخ رشید
  • بریکنگ :- اتنی نیوزی لینڈ میں فورسزنہیں ہوں گی جتنی یہاں سکیورٹی دی گئی ،شیخ رشید
  • بریکنگ :- نیوزی لینڈ کی ٹیم کوسکیورٹی دینا ہمارافرض تھا،شیخ رشید
  • بریکنگ :- روس میں آج ایک شخص نے8 افراد کوقتل کردیا،شیخ رشید
Coronavirus Updates

قربانی خوش دلی سے کرو

خصوصی ایڈیشن

تحریر : مولانا رضوان اللہ پشاوری


آنحضرتﷺ نے فرمایا:’’ اللہ تعالیٰ کی عبادت کیلئے عشرہ ذی الحجہ سے بہتر کوئی زمانہ نہیں۔ ان میں ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر اور ایک رات کی عبادت شب قدر کی عبادت کے برابر ہے۔‘‘ (ترمذی، ابن ماجہ) قرآن مجید میں سورۃ الفجر میں اللہ تعالیٰ نے 10 راتوں کی قسم کھائی ہے اور وہ10 راتیں جمہور کے قول کے مطابق یہی عشرہ ذی الحجہ کی راتیں ہیں۔ خصوصاً نویں ذی الحجہ کا روزہ رکھنا ایک سال گذشتہ اور ایک سال آئندہ کے گناہوں کا کفارہ ہے اور عید کی رات میں بیدار رہ کر عبادت میں مشغول رہنا بڑی فضیلت اور ثواب کا موجب ہے۔

فضائل قربانی:قربانی کرنا واجب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ہجرت کے بعد ہر سال قربانی فرمائی کسی سال ترک نہیں فرمائی۔ جس عمل کو حضور اکرم ﷺ نے لگاتار کیا اور کسی سال بھی نہ چھوڑا ہو تو یہ اس عمل کے واجب ہونے کی دلیل ہے۔ علاوہ ازیں آپ ﷺنے قربانی نہ کرنے والوں پر وعید ارشاد فرمائی، حدیث پاک میں بہت سی وعیدیں ملتی ہیں مثلاً آپﷺ کا یہ ارشاد کہ جو قربانی نہ کرے وہ ہماری عید گاہ میں نہ آئے، علاوہ ازیں خود قرآن میں بعض آیات سے بھی قربانی کا وجوب ثابت ہے۔ جو لوگ حدیث پاک کے مخالف ہیں اور اس کو حجت نہیں مانتے وہ قربانی کا انکار کرتے ہیں۔ ان سے جو لوگ متاثر ہوتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ پیسے دیدیئے جائیں یا یتیم خانہ میں رقم دیدی جائے یہ بالکل غلط ہے۔ کیونکہ عمل کی ایک تو صورت ہوتی ہے دوسری حقیقت ہے۔ قربانی کی صورت یہی ضروری ہے اس کی بڑی مصلحتیں ہیں اس کی حقیقت اخلاص ہے۔ آیت قرآنی سے بھی یہی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔

مسند احمد کی روایت میں ایک حدیث پاک ہے حضرت زید بن ارقمؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سے صحابہ کرام ؓ نے عرض کیا کہ یہ قربانیاں کیا ہیں؟ آپﷺ نے فرمایا ’’قربانی تمہارے باپ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے۔‘‘صحابہ کرام ؓ نے پوچھا، ہمارے لئے اس میں کیا ثواب ہے؟ آپﷺ نے فرمایا ’’ ایک بال کے عوض ایک نیکی ہے۔‘‘ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ؓ بیان کرتی ہیں، رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا:’’ قربانی کے دن اس سے زیادہ کوئی عمل محبوب نہیں۔ قیامت کے دن قربانی کا جانور سینگوں، بالوں، کھروں کے ساتھ لایا جائے گا اور خون کے زمین پر گرنے سے پہلے اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی سند لے لیتا ہے اس لئے تم قربانی خوش دلی سے کرو۔‘‘ حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں قربانی سے زیادہ کوئی دوسرا عمل نہیں الّایہ کہ رشتہ داری کا پاس کیا جائے۔ (طبرانی)

رسول اکرمﷺ نے اپنی صاحبزادی حضرت فاطمۃ الزہراءؓ سے ارشاد فرمایا ’’ تم اپنی قربانی ذبح ہوتے وقت موجود رہو کیونکہ پہلا قطرہ خون گرنے سے پہلے انسان کی مغفرت ہوجاتی ہے۔‘‘قربانی کی فضیلت کے بارے میں متعدد احادیث ہیں اس لئے اہل اسلام سے درخواست ہے کہ اس عبادت کو ہرگز ترک نہ کریں جو اسلام کے شعائر میں سے ہے اور اس سلسلے میں جن شرائط و آداب کا ملحوظ رکھنا ضروری ہے انہیں اپنے سامنے رکھیں اور قربانی کا جانور خوب دیکھ بھال کر خریدیں۔ قربانی سے متعلق مسائل آئندہ سطور میں پیش کئے جارہے ہیں۔

مسائل قربانی:جس شخص پر صدقہ ٔفطر واجب ہے اس پر قربانی بھی واجب ہے۔ یعنی قربانی کے تین ایام (12؍11؍10 ذو الحج) کے دوران اپنی ضرورت سے زائد اتنا حلال مال یا اشیاء جمع ہوجائیں کہ جن کی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہوتو اس پر قربانی لازم ہے، مثلاً رہائشی مکان کے علاوہ کوئی مکان ہو خواہ تجارت کیلئے ہو یا نہ ہو اسی طرح ضروری سواری کے طور پر استعمال ہونے والی گاڑی کے علاوہ گاڑی ہوتو ایسے شخص پر بھی قربانی لازم ہے۔

٭: مسافر پر قربانی واجب نہیں۔

٭: قربانی کا وقت دسویں تاریخ سے لے کر بارہویں تاریخ کی شام تک ہے، بارہویں تاریخ کا سورج غروب ہوجانے کے بعد درست نہیں۔ قربانی کا جانور دن کو ذبح کرنا افضل ہے اگرچہ رات کو بھی ذبح کرسکتے ہیں لیکن افضل بقر عید کا دن پھر گیارہویں اور پھر بارہویں تاریخ ہے۔

٭:  شہر اور قصبوں میں رہنے والوں کیلئے عید الاضحی کی نماز پڑھ لینے سے قبل قربانی کا جانور ذبح کرنا درست نہیں ہے۔ دیہات اور گاؤں والے صبح صادق کے بعد فجر کی نماز سے پہلے بھی قربانی کا جانور ذبح کرسکتے ہیں اگر شہری اپنا جانور قربانی کیلئے دیہات میں بھیج دے تو وہاں اس کی قربانی بھی نماز عید سے قبل درست ہے اور ذبح کرانے کے بعد اس کا گوشت منگواسکتا ہے۔

٭: اگر مسافر مالدار ہو اور کسی جگہ پندرہ دن قیام کی نیت کرے، یا بارہویں تاریخ کو سورج غروب ہونے سے پہلے گھر پہنچ جائے، یا کسی نادار آدمی کے پاس بارہویں تاریخ کو غروب شمس سے پہلے اتنا مال آجائے کہ صاحب نصاب ہوجائے تو ان تمام صورتوں میں اس پر قربانی واجب ہوجاتی ہے۔ نیز مسافر مالدار ہو دوران سفر قربانی کیلئے رقم بھی ہو اور وہ پندرہ دن سے کم عرصے کیلئے رہائش پذیر ہونے کے باوجود بآسانی قربانی کرسکتا ہو تو قربانی کرلینا بہتر ہے۔

٭: قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت زبان سے نیت پڑھنا ضروری نہیں دل میں بھی پڑھ سکتا ہے۔

٭:  قربانی کا جانور ذبح کرتے وقت اس کو قبلہ رخ لٹائے۔

 دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں قربانی کی روح ، اصل حقیقت سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہماری یہ ظاہری قربانی حقیقی قربانی کیلئے پیش خیمہ ہو اور ہم اس ظاہری و مادی قربانی کی طرح اللہ کے ہرحکم پر اپنی جان کی قربانی کیلئے بھی ہمیشہ تیار رہیں۔آمین

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لمبی فراکس کا بدلتا فیشن ،ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جائے ہیں

یوں تو لمبی قمیضیں اور فراکس گزشتہ کئی سال سے فیشن میں’’اِن‘‘ ہیں لیکن آج کل خاص طور پرگھیر دار اور فلور لینتھ یعنی پاؤں تک آنے والے ڈریسزبھی فیشن کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ ماڈرن ڈریسرز میں بھی ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جا رہے ہیں۔ویسے بھی لمبی فراکس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ جب لڑکیاں بالیاں انہیں زیب تن کرتی ہیں تو ان کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کپڑوں کے ڈیزائن بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور زیادہ تر خواتین موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے کپڑے پہننے کے انداز کو بھی بدلنا شروع کر دیتی ہیں تاکہ وہ بھی وقت کے ساتھ الگ نظر آئیں۔ ہر عورت کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ اچھی نظر آئے۔بناؤ سنگھار کرنا، اپنی جلد کا خیال رکھنا،اچھے کپڑے پہننا کس عورت کو پسند نہیں ہوتا۔ زمانہ چاہے کوئی بھی ہو نیا یا پرانا ۔ہر زمانے کے ساتھ کپڑوں کے نئے اور جدید کٹس فیشن میں آتے رہتے ہیں ۔

جلد کو خوبصورت اور چمکدار بنانے والی ہربل وائٹنگ کریم :خود تیار کریں

افرا تفری کے اس دور میں خواتین اپنے چہرے کو نکھارنے کیلئے پوری طاقت صرف کر دیتی ہیں۔ جلد کو خوبصورت،نکھری اور چمکدار بنانے کیلئے نسخے آج بھی اتنے ہی کار آمد ہیں جتنے آج سے صدیوں پہلے تھے۔اگر آپ خود پر تھوڑی توجہ دیں تو آپ کا رنگ بھی دنوں میں نکھر سکتا ہے۔ رنگت نکھارنے اور جلد کو تروتازہ رکھنے کیلئے گھریلو ٹوٹکوں کا استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف جلد جوان رہتی ہے بلکہ داغ دھبوں اور جھریوں سے بھی پاک رہتی ہے۔

خبردار!میک اپ کے ساتھ ورزش نہیں کریں،کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہوجاتے ہیں

بہت سی لڑکیاں اور خواتین اپنے چہرے پر مکمل میک اپ کے ساتھ ورزش کرتی ہیں اور جلد پر اس کے منفی اثرات اور نتائج سے واقف نہیں ۔ طبی ماہرین منع کرتے ہیں کہ ورزش کے دوران چہرے پر کاسمیٹکس کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہو جاتے ہیں ۔

آج کا پکوان سبزیوں کے چپلی کباب

اجزاء: پالک 200گرام، آلو دو عدد درمیانے، گاجر ایک عدد، مٹر ایک پیالی، سیم کی پھلی دس سے بارہ عدد، نمک حسبِ ذائقہ، ادرک لہسن پسا ہوا ایک چائے کا چمچ، پیاز دو عدد درمیانی، ٹماٹر دو عدد درمیانے، کٹی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، بھنا کٹا دھنیا زیرہ ایک چائے کا چمچ، پسی ہوئی کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ، انار دانہ ایک چائے کا چمچ، انڈے دو عدد، مکئی کا آٹا دو کھانے کے چمچ، کوکنگ آئل حسبِ ضرورت۔

نیوزی لینڈٹیم کی کھیلے بغیر واپسی، سازش یا کچھ اور؟ سیریز کی اچانک منسوخی کے بعد بھارتی صحافی نندن مشرا کی خبر کو اُ ن کے میڈیا نے خوب نشر کیا

معلوم نہیں نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے، نیوزی لینڈ بورڈ اب ہمیں آئی سی سی میں سُنے گا،چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ,کیوی کرکٹرز ، آفیشلز اورسیکیورٹی حکام پاکستان کی جانب سے بہترین انتظامات اور فول پروف سیکیورٹی کی مسلسل تعریف کرتے رہے

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔