نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی کوکینیڈین ہم منصب کاٹیلیفون
  • بریکنگ :- دونوں وزرائےخارجہ کےدرمیان دوطرفہ تعلقات پرتبادلہ خیال
  • بریکنگ :- پرامن اورمستحکم افغانستان پورےخطےکیلئےاہمیت کاحامل ہے،وزیرخارجہ
  • بریکنگ :- شاہ محمودقریشی نےکینیڈین وزیرخارجہ کوافغان صورتحال سےآگاہ کیا
  • بریکنگ :- افغانستان میں امن خطےمیں استحکام اورترقی کیلئےناگزیرہے،شاہ محمودقریشی
Coronavirus Updates

فضائل حج

خصوصی ایڈیشن

تحریر : علامہ عماد الدین عندلیب


’’نماز قائم کرو! زکوٰۃ ادا کرو! بیت اللہ کا حج کرو ! اور اُس کا عمرہ کرو! اور استقامت اختیار کرو! (اس کے نتیجے میں مخلوق کے ساتھ معاملات میں)تمہیں دوام اور ہمیشگی عطاکی جائے گی۔‘‘حدیث ِ رسولﷺ

’’حج‘‘ اسلام کے اُن پانچ بنیادی ارکانوں میں سے ایک اہم ترین رکن ہے جن پر اسلام کی پوری عمارت قائم ہے ۔ اِس کی فضیلت و اہمیت کے حوالے سے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہوسکتی ہے کہ اوّل البشر حضرت آدم  ؑ سے لے کر رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم تک تمام یا اکثر انبیاء ؑ نے حج ادا فرمایا ہے ۔(روح المعانی: 2/230)

اُمت محمدیہ ﷺ پر حج کی فرضیت کا حکم کس وقت نازل ہوا؟ اس کے بارے میں حضراتِ اہل علم کے مختلف اقوال تاریخ کی کتابوں میں ملتے ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ حج کی فرضیت کا حکم سنہ پانچ ہجری میں نازل ہوا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ سنہ چھ ہجری میں نازل ہوا۔ تیسرا قول یہ ہے کہ سنہ سات ہجری میں نازل ہوا۔ چوتھا قول یہ ہے کہ سنہ آٹھ ہجری میں نازل ہوا ۔ پانچواں قول یہ ہے کہ سنہ نو ہجری میں نازل ہوا۔ تاہم اکثر و بیشتر حضراتِ اہل علم نے دوسرے قول کو ترجیح دی ہے اور فرمایا ہے کہ حج کی فرضیت کا حکم سنہ چھ ہجری میں نازل ہوا ۔(روح المعانی: 2/230) قرآن و حدیث میں جہاں حج ادا کرنے کی بہت زیادہ تاکید، اہمیت اور فضیلت بیان فرمائی گئی ہے تو وہیں اُس کے ترک کرنے پر سخت سے سزائیں اور وعیدیں بھی ذکر فرمائی گئی ہیں ۔

چنانچہ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: ترجمہ:’’اورلوگوں میں سے جو لوگ اس (بیت اللہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں ان پر اللہ کے لئے اس گھر کا حج کرنا فرض ہے ۔ اور اگر کوئی انکار کرے تو اللہ دُنیا جہان کے تمام لوگوں سے بے پرواہ ہے۔‘‘  (سورۂ آل عمران : 97) ایک دوسری جگہ قرآنِ مجید میں حضرت ابراہیم ؑ سے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ’’ترجمہ:’’ اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو کہ وہ تمہارے پاس پیدل آئیں ، اور دُور دراز کے راستوں سے سفر کرنے والی اُن اُونٹنیوں پر سوار ہوکر آئیں جو (لمبے سفر سے ) دُبلی ہوگئی ہوں۔‘‘(سورۃ الحج : 27) چنانچہ یہی ہواکہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حکم خداوندی سے اعلان فرمایا تو دیکھتے ہی دیکھتے زمین کے دُور دراز علاقوں سے حج و عمرہ کی ادائیگی کے لئے فرزندانِ اسلام قطار اندر قطار، جوق در جوق تلبیہ پڑھتے ہوئے آپہنچے۔

چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام بیت اللہ کی تعمیر سے فارغ ہوئے تو انہوں نے عرض کی کہ : ’’اے میرے رب! میں (بیت اللہ کی تعمیر سے) فارغ ہوچکا ہوں ۔‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’ آپ لوگوں میں حج کا اعلان فرمادیجئے! ۔‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا : ’’اے میرے رب! کیا میری آواز تمام ( تمام لوگوںتک) پہنچ جائے گی ؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’آپ اعلان فرمایئے! آواز کا پہنچانا ہمارا کام ہے ۔‘‘ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے عرض کیا : ’’اے میرے رب! میں کیسے اعلان کروں؟‘‘ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ’’آپ یہ کہیں کہ: ’’اے لوگو! تم پر بیت عتیق (یعنی بیت اللہ) کا حج فرض کیا گیا ہے ۔‘‘ (جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان کیا تو) آپ کی آواز کو زمین و آسمان کے درمیان والوں سب نے سن لیا ۔ دیکھتے نہیں کہ لوگ (آج بھی)زمین کے دُور دراز علاقوں سے حج و عمرہ کا تلبیہ پڑھتے ہوئے (کس طرح ) جوق در جوق (دیوانہ وار) چلے آتے ہیں ؟ ( یہ اسی اعلان کا اثر ہے۔) (مستدرک حاکم:2/421)

اسی طرح حدیث شریف میں بھی حج کرنے کے بے شمار فضائل وارد ہوئے ہیں ۔ چنانچہ حضرت ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’اسلام کی بنیاد چار چیزوں پر ہے : (1)اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے (آخری) رسول ہیں۔ (2)نماز کو قائم کرنا ۔ (3)زکوٰۃ دینا۔ (4) (بیت اللہ شریف کا) حج کرنا اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔‘‘ (بخاری ، مسلم ، ترمذی ، نسائی)اسی طرح ایک مرتبہ حضرت جبرئیل امین علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا : ’’ مجھے اسلام کے بارے میں بتلایئے (کہ اُس کی حقیقت کیا ہے؟)آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’’اسلام یہ ہے کہ آپ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی معبود نہیں اور یہ کہ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کے (آخری) رسول ہیں۔ آپ نماز قائم کریں۔ زکوٰۃ ادا کریں ۔ رمضان المبارک کے روزے رکھیں ۔ اگر بیت اللہ شریف کی طرف راستہ چلنے کی استطاعت رکھتے ہیں تو اُس کا حج کریں ۔‘‘ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے عرض کیاکہ : ’’آپ ﷺ نے سچ فرمایا ۔‘‘ (صحیح مسلم) 

حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ ایک دن رسول اللہؐ نے ہمیں خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا کہ : ’’اے لوگو! تم پر اللہ تعالیٰ نے حج فرض کیا ہے لہٰذا حج ادا کرو!۔‘‘ (صحیح مسلم)حضرت سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا : ’’نماز قائم کرو! زکوٰۃ ادا کرو! بیت اللہ کا حج کرو ! اور اُس کا عمرہ کرو! اور( اپنے ایمان و اعمالِ صالحہ پر) استقامت (یعنی دوام اور ہمیشگی) اختیار کرو! (اس کے نتیجے میں تمہیں مخلوق کے ساتھ معاملات میں) استقامت (یعنی دوام اور ہمیشگی ) عطاکی جائے گی۔‘‘(معجم طبرانی: 7/216) حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ ہمیں (یعنی شہر کے لوگوں کو) رسول اللہ ﷺ سے (غیر ضروری) چیزوں کے بارے میں سوال کرنے سے روک دیا گیا تھا ، اس لئے ہم چاہتے تھے کہ کوئی دیہاتی عقل مند شخص آئے اور وہ رسول اللہ ﷺسے سوال کرے اور ہم (اس کا جواب) سنیں ۔ چنانچہ ایک دیہاتی شخص آیا اور عرض کیا: ’’یا رسول اللہ صلی علیہ وآلہٖ وسلم ہمارے پاس آپﷺ کا قاصد آیا اور اُس نے ہمیں یہ بات بتلائی کہ آپﷺ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو (اپنا) رسول بنا کر (اِس دُنیا میں) بھیجا ہے ۔‘‘ آپﷺ نے فرمایا کہ : ’’اُس نے سچ کہا۔‘‘ … ( اس کے علاوہ بھی اُس دیہاتی شخص نے آپﷺ سے بیسیوں سوال و جواب کیے منجملہ اُن میں سے ایک یہ بھی تھا کہ ) ’’آپﷺ کا قاصد یہ یقین ظاہر کرتا ہے کہ ہم میں سے ہر اُس شخص پر بیت اللہ کا حج کرنا فرض ہے جو اس کی طرف راستہ چلنے کی قدرت و استطاعت رکھتا ہو۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ : ’’اُس نے سچ کہا۔‘‘ (صحیح مسلم)ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایاکہ: ’’جس شخص نے (خاص) اللہ تعالیٰ کیلئے حج کیا ، اس میں نہ کوئی فحش گوئی کی اور نہ کوئی گناہ کیا تو وہ شخص اُس دن کی مانند (اپنے گھر کی طرف واپس) لوٹتا ہے ، جس دن کہ اُس کی ماں نے اُس کو جنا تھا۔‘‘(بخاری و مسلم) ایک دوسری حدیث میں آتا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’حج اور عمرہ کو ملاکر کرو! کیوں کہ یہ دونوں فقر اور گناہوں کو اِس طرح دُور کرتے ہیں جیساکہ بھٹی سونے ، چاندی اور لوہے کے میل کو دُور کرتی ہے ۔ اور حج مبرور(یعنی حج مقبول) کی جزاء (اور اُس کا بدلہ)جنت کے علاوہ (اور)کچھ بھی نہیں ہے۔‘‘(ترمذی ، نسائی)ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ رسولِ مقبولﷺ نے ارشاد فرمایا  ’’جو شخص حج کرنے کا ارادہ رکھتا ہو تو اُس کو چاہیے کہ وہ جلدی کرے!۔‘‘( ابو داؤد ، دارمی)ایک دوسری حدیث میں حضورِ اقدسؐ کا ارشاد مروی ہے کہ ’’حج کرنے والے اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کے مہمان ہیں ۔ اگر وہ دُعا مانگیں تو اللہ تعالیٰ قبول فرمائیں ۔ اگر وہ استغفار کریں تو اللہ تعالیٰ اُن کی مغفرت کردے اور اُن کو بخش دے۔‘‘ (الترغیب والترہیب ، نسائی ، ابن ماجہ)حج چوں کہ اسلام کا انتہائی اہم اور بنیادی رکن ہے اس لئے جہاں اس کی ادائیگی کی اہمیت و فضیلت ثابت ہے تو وہیں اُس کے ترک کرنے اور ادانہ کرنے پر سخت سے سخت وعیدیں بھی احادیث و روایات میں وارد ہوئی ہیں۔ چنانچہ ایک حدیث میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا ’’ جس شخص کے پاس حج کے سفر کا ضروری سامان ہو اور اُس کو سواری (یا سواری کا کرایہ ) میسر ہو جو بیت اللہ تک اُس کو پہنچاسکے اور پھر(بھی) وہ حج نہ کرے، تو پھر چاہے وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے (اُس کیلئے برابر ہے)‘‘ اور یہ اس لئے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں فرمایا ہے : ترجمہ:’’اورلوگوں میں سے جو لوگ اس (بیت اللہ) تک پہنچنے کی استطاعت رکھتے ہوں اُن پر اللہ کیلئے اِس گھر کا حج کرنا فرض ہے ۔‘‘ (جامع ترمذی)ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ حضرت ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’جس شخص کیلئے کوئی ظاہری ضرورت حج سے مانع (رکاوٹ ڈالنے والی) نہ ہو ، یا کسی ظالم بادشاہ کی طرف سے اُسے کوئی روک ٹوک نہ ہو ، یا اُسے کوئی ایسا مرض لاحق نہ ہو کہ جو اُسے حج سے روک سکے اور وہ حج کیے بغیر (اسی حال میں) مرجائے تو چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے۔‘‘ (سنن دارمی ، سنن بیہقی)

اسی طرح مشہور تابعی حضرت عمرو بن میمونؒ سے بھی روایت ہے کہ حضرت عمر ؓ نے بیان کیا کہ ’’جو شخص حج ادا کرنے کی قدرت اور طاقت رکھتا ہو (اس کے باوجود وہ ) حج نہ کرے تو چاہے وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے ۔‘‘( اخبارِ مکہ للفاکہیؒ:( 1/381)

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔

سچ جھوٹ

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے لبنان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے بادشاہ سے بہت محبّت تھی۔ بادشاہ بھی رعایا کا بیحد خیال رکھتا تھا۔ وہ اپنے بزرگوں کی تقلید کرتے ہوئے روزانہ سادہ کپڑوں میں شہر کی گلیوں میں گھوم پھر کر لوگوں کے بارے میں معلوم کرتا تھا کہ لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر کوئی دُکھی ہوتا تو بادشاہ اس کی مدد بھی کر دیا کرتا۔

بچوں کی نفسیات : والدین اور اساتذہ کا کردار(تیسری قسط)

بچوں کی صحیح سمت میں تربیت کیلئے کے لیے اُن کی نفسیات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے بنیادی شرط بچوں سے قریبی تعلق ہے اور اس قربت کے ساتھ ساتھ ان سے بے پناہ لگائو بھی ہے۔

پہیلیاں

پہیلی ۱۔مٹی سے نکلی اک گوریسر پر لیے پتوں کی بوریجواب :مولی

ذرا مُسکرائیے

ٹھنڈا پانی سخت سردی ک موسم تھا۔ ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا’’ تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو۔ آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟‘‘بیوقوف بولا:’’ پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا‘‘۔

اسلام میں کسب حلال کی فضیلت

حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے