نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- اورنگی اورگلشن میں فائرنگ کےواقعات ٹارگٹ کلنگ لگتےہیں،پولیس
  • بریکنگ :- کراچی:اورنگی ٹاؤن میں فائرنگ سے 46 سالہ شخص جاں بحق،پولیس
  • بریکنگ :- گلشن میں ہوٹل میں فائرنگ،سیاسی جماعت کاکارکن جاں بحق،پولیس
  • بریکنگ :- کراچی:سائٹ سپرہائی وےپرچھریوں کےوارسےایک شخص جاں بحق،پولیس
  • بریکنگ :- کراچی کےمختلف علاقوں میں قتل کی 3 وارداتیں
  • بریکنگ :- کراچی:واقعات گلشن اقبال،اورنگی ٹاؤن ،سپرہائی وےپرپیش آئے،پولیس
Coronavirus Updates

قربانی اور اظہار بندگی

خصوصی ایڈیشن

تحریر : ڈاکٹر محمد طاہر القادری


قربانی کا لفظ اپنے معنوی اطلاقات کے اعتبار سے وسیع مفہوم کا حامل ہے۔ قربانی سے مراد ایسا عمل ہے جس سے اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہو۔ اصطلاحاً ’’قربانی‘‘ کا لفظ عیدالاضحی کے ذبیحہ کیلئے استعمال کیا جاتا ہے کیونکہ اس دن قربِ الٰہی حاصل کرنے کیلئے جانور ذبح کیے جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ قربانی سے مراد اپنی جان، مال، اولاد، عزت و آبرو، راحت و آرام سمیت ہر چیز کو اﷲ کی رضا کیلئے قربان کر دینا ہے ۔ سورئہ انعام کی آیت نمبر۲۶۱ میں ہے: ’’بے شک میری نماز اور میرا حج اور قربانی (سمیت سب بندگی) اور میری زندگی اور میری موت اﷲ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے۔‘‘

قربانی کا تاریخی پس منظر:کسی حلال جانور کو قرب الٰہی کے حصول کی نیت سے ذبح کرنے کا سلسلہ اس وقت سے شروع ہے جب سے حضرت آدم ؑ اس دنیا میں تشریف لائے۔ سب سے پہلے قرآن حکیم میں حضرت آدم ؑ کے دو بیٹوں ہابیل و قابیل کی طرف سے دی گئی قربانی کا ذکر کیا گیا۔ قربانی کی ابتداء تو حضرت آدم ؑ کے بیٹوں نے کی لیکن اس کو دائمی شہرت حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کے واقعہ سے ملی۔ یہ قربانی ذبح عظیم کی آئینہ دار تھی۔ حضرت ابراہیم ؑ اور حضرت اسماعیل ؑ کی یاد کو قیامت تک زندہ رکھنے کیلیے ہر سال دس ذی الحج کو قربانی کا فریضہ ادا کیا جاتا رہے گا۔

مقاصدِ قربانی:ربانی محض ایک رسم کے طور پر جانور ذبح کرنا ہی نہیں بلکہ اس کے ذریعے درج ذیل مقاصد کا حصول مطلوب ہے:

قربانی ہی وہ سنت ابراہیمی ہے جسے اُمتِ محمدیہ میں ایک زندہ جاوید یاد کے طور پر دوام عطا کر دیا گیا ہے اور امت مسلمہ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اس کی روح کو تازہ کر تے ہوئے اس کا عملی مظاہرہ کرتی رہے جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:’’اور ہم نے ہر امت کے لیے ایک قربانی مقرر کر دی ہے۔‘‘ (الحج،۲۲: ۴۳)

اللہ تعالیٰ نے سنتِ ابراہیمی کی تقلید کو عبادت کا درجہ دے دیا۔ حضرت زید بن ارقمؓ  روایت کرتے ہیں کہ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: یہ قربانی کیا شے ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: ’’یہ تمہارے باپ ابراہیم ؑ کی سنت ہے۔‘‘ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: اس قربانی سے ہمیں کیا ثواب ملے گا؟ آپ ﷺنے فرمایا:’’ (قربانی کے جانور کے) ہر بال کے عوض ایک نیکی۔‘‘ صحابہؓ نے عرض کیا: اگر مینڈھا ہو تو؟ آپ ؐ نے فرمایا: ’’تب بھی ہر بال کے عوض ایک نیکی ملے گی۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہ ؓروایت کرتے ہیں کہ ’’نبی اکرمﷺ قربانی کاارادہ کرتے تو دو مینڈھے خریدتے جو موٹے تازے سینگوں والے کالے اور سیاہ رنگ دار ہوتے ایک اپنی امت کے ہر فرد کی جانب سے ذبح کرتے اور دوسرا اپنی اور اپنی آل کی جانب سے ذبح فرماتے۔‘‘ (سنن ابن ماجہ)

حضرت حنشؓ روایت کرتے ہیں کہ ’’میں نے حضرت علی ؓ کو دو دُنبے ذبح کرتے دیکھا تو عرض گزار ہوا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟ انہوں نے فرمایا کہ رسولؐ اللہ نے مجھے اپنی طرف سے قربانی کرنے کی وصیت فرمائی تھی، چنانچہ (ارشادِ عالی کے تحت) ایک قربانی میں حضور نبی اکرمؐ کی طرف سے پیش کر رہا ہوں۔‘‘ (سنن ابی داؤد)

یہ بات سنت سے ثابت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے خود اپنے لیے بھی قربانی کی، اپنے اہل بیت ؓ اور قیامت تک آنے والی اپنی امت کی طرف سے بھی قربانی کی۔ یہ عمل آپ ؐ کو سیدنا ابراہیم ؑ کی سنت کے احیاء اور یادگار کے طور پر اللہ رب العزت کی طرف سے عطا ہوا تھا۔ اس لیے آپؐ نے حضرت علی ؓ کو وصیت فرمائی تھی کہ میرے بعد میری طرف سے اور اپنی طرف سے قربانی دینا۔ اِس پر امیر المومنین سیدنا علیؓ ہمیشہ عمل پیرا رہے۔

سنتِ ابراہیمی کی تقلید کرنے سے نہ صرف اُن کے اعمال کی یاد زندہ رہتی ہے بلکہ نیک عمل کا جذبہ بھی بیدار ہوتا ہے۔ سنت ِابراہیمی امت مسلمہ کو یاد دلاتی ہے کہ جس طرح وہ آج حضرت اسماعیل ؑ کی قربانی کی یادگار سنت کو جاری رکھے ہوئے ہیں اس طرح اس خون کو گواہ بنا کریہ وعدہ کریں کہ دین کی سربلندی کیلئے جان کی قربانی کا نذرانہ پیش کرنا پڑے تب بھی وہ اس سے دریغ نہیں کرے گی۔ 

قربانی کا مقصد مسلمانوں میں ایثار و قربانی کا جذبہ پیدا کرنا ہے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے سنت ِ ابراہیمی کو قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے واجب قرار دیا۔ یہ عبادت بلااختلاف اُمت ِ محمدیہ میں سیدنا ابراہیم ؑ اور حضوراکرم ﷺ کی سنت کے طور پر رائج ہے۔ جامع ترمذی میں منقول حدیث مبارکہ حضرت عبد اللہ بن عمر ؓسے یوں مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ مدینہ طیبہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور آپؐ قربانی دیتے رہے۔‘‘

قربانی کا اصل مدعا مسلمانوں کے اندر جذبۂ ایثار اجاگر کرنا ہے تاکہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی ہر عزیز شے قربان کرنے کیلئے مستعد رہیں۔

ہر عمل انسانی شخصیت، نفس اور قلب و باطن پر خاص اثرات مرتب کرتا ہے لیکن کچھ اعمال ایسے ہوتے ہیں جن سے خاص اللہ تعالیٰ کا قرب نصیب ہوتا ہے۔ قربانی بھی ایسے ہی اعمال میں سے ہے لیکن وہی قربانی اللہ رب العزت کی بارگاہ میں مقبول ہوتی ہے جس کا مقصد رضائے الٰہی کا حصول ہو۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:ترجمہ ’’ہرگز نہ (تو) اﷲ کو ان (قربانیوں) کا گوشت پہنچتا ہے اور نہ ان کا خون مگر اسے تمہاری طرف سے تقویٰ پہنچتا ہے۔‘‘ (الحج، ۲۲: ۷۳)

اسی بنا ء پر اللہ کی رضا کیلئے کی جانے والی قربانی کے خون کا قطرہ ابھی زمین پر نہیں گرتا کہ وہ اللہ کی بارگاہ میں شرف قبولیت پا لیتا ہے اوربندے کو بارگاہ الٰہی میں قبولیت کی وہ شان عطا کرتا ہے جس کا ذکر ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہؓ  کی اس روایت میں ہے کہ نبی اکرم ؐ نے فرمایا:’’قربانی کے دن اللہ کو خون بہانے سے زیادہ بندے کا کوئی عمل محبوب نہیں اور وہ جانور قیامت کے دن اپنے سینگوں اور کُھروں سمیت آئے گا۔ وہ خون زمین پر گرنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک بلند درجہ حاصل کر لیتا ہے تو تمہیں اپنی قربانی سے مسرور ہونا چاہیے۔‘‘  (جامع ترمذی)

قربانی کی قبولیت میں جو چیز بنیادی اہمیت کی حامل ہے وہ اللہ کی بارگاہ میں حسن ِ نیت اور صدق و اخلاص ہے۔ عمل اگر صدق و اخلاص کی بناء پر کیا جائے تو چاہے قلیل تر ہی کیوں نہ ہو انسان کا درجہ بلند تر کر دیتا ہے جبکہ وہی عمل اگر صدق و اخلاص، نیک نیتی اور للّٰہیت سے خالی ہو تو خواہ وہ پہاڑوں کی طرح کیوں نہ ہو خدا کی بارگاہ میں کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اگر قربانی میں نیت یہ ہو کہ بہت بڑے اور کثرت سے جانور خرید کر ان کی نمود و نمائش کریں تاکہ لوگ متاثر ہوں اور وہ یہ کہیں کہ بہت بڑا آدمی ہے۔ لوگوں کی نظروں کو تو دھوکہ دیا جا سکتا ہے لیکن خدا کے ہاں ایسا آدمی بڑا نہیں ہوتا۔ عین ممکن ہے کہ خدا کے ہاں پچھلی صف پر بیٹھا ہوا وہ آدمی بڑا ہو جس میں قربانی کرنے کی سکت بھی نہ ہو لیکن اس کا دل چاہ رہا ہو کہ میرے پاس دولت ہوتی تو میں خدا کی رضا کیلئے قربانی کرتا۔ ممکن ہے قربانی نہ کر کے بھی اُس غریب کو اللہ کی بارگاہ میں وہ اَجر مل جائے جو ریاکاری کی قربانی کرنے والے کو کبھی میسر نہ ہو سکے۔ لہٰذا قربانی کا قبول ہونا اس پر موقوف ہے کہ قربانی کس نیت سے دی جا رہی ہے۔ اس لیے خلوص اور صرف رضائے الٰہی کے حصول کی نیت سے ہی قربانی کرنی چاہیے۔

 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

آزاد کشمیر میں کامیابی پر بحث کیوں ۔۔۔؟

آزاد کشمیر میں انتخابات کا مرحلہ کامیابی سے اپنے اختتام کو پہنچ گیا ۔ ماضی کے بر عکس اس بار کشمیر میں انتخابات سے پہلے پاکستان کی تمام بڑی جماعتوں نے بھرپور الیکشن مہم چلائی۔ بے شک سب سے زور دار مہم(ن )لیگ کی نائب صدر مریم نواز نے چلائی بھر پور جلسے کیے اور اپنے والد اور پارٹی قائد نواز شریف کے مزاحمتی بیانیے کو پر زور انداز میں اپنے ووٹرز اور سپورٹرز تک پہنچایا۔ بلاول بھٹو زرداری بھی اپنے لائو لشکر کے ساتھ کشمیر کے مختلف اضلاع میں گئے اور اپنی پیپلزپارٹی کی تاریخ اور اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کے بارے میں لوگوں کو بتایا۔اسی دوران کچھ عرصے کیلئے بلاول کو ذاتی مصروفیات کیلئے امریکہ جانا پڑا تو ان کی جگہ آصفہ بھٹو میدان میں موجود رہیں۔ شروع میں حکومتی جماعت کے وزرا ء خاص طور پر علی امین گنڈا پور اور مراد سعید بھی میدان میں موجود رہے۔ انتخابات سے چند دن پہلے وزیراعظم آزادکشمیر گئے اور بھر پور جلسے کیے۔

مسلم لیگ(ن)کا سیاسی بیانیہ ۔۔۔؟

آزاد کشمیر کے انتخابات میں پی ٹی آئی کی جیت یقینی تھی کیونکہ کہا یہی جاتا ہے کہ جس کی بھی اسلام آباد میں حکومت ہوگی وہی جماعت عملًا آزاد کشمیر کے انتخابات میں کامیابی حاصل کرتی ہے ۔لیکن اس انتخاب کی اہم بات مسلم لیگ( ن) جس کی آزاد کشمیر میں حکومت تھی اس کا تیسری پوزیشن پر آنا ہے ۔ ان کے مقابلے میں پیپلز پارٹی حیران کن طور پر 11نشستیں حاصل کرگئی ہے اور سب ہی اس بات پر حیران ہیں کہ مسلم لیگ( ن) جس نے وہاں مریم نواز کی قیادت میں نہ صرف بھرپور انتخابی مہم چلائی بلکہ سب سے بڑے عوامی جلسے بھی کیے مگر ان کو انتخابات میں تیسری پوزیشن حاصل ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان آزاد کشمیر کے انتخابات کے بعد مسلم لیگ( ن )میں کافی مایوسی پائی جاتی ہے ۔ اگرچہ مسلم لیگ( ن) کی قیادت نے آزاد کشمیر میں انتخابی شکست کو ایک بڑی انتخابی دھاندلی سے جوڑا ہے اور ان کے بقول ہمیں خاص سازش کے تحت انتخابی میدان میں دیوار سے لگایا گیا ہے ۔

سندھ میں اپوزیشن ’’ایک پیج‘‘ پر۔۔۔؟

کیا اگلے عام انتخابات میں سندھ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی طویل حکومت کا خاتمہ ہوجائیگا۔۔؟یہ وہ سوال ہے جو اب کراچی کی ہر سیاسی اور سماجی بیٹھک کا موضوع بن چکا ہے۔مبصرین اس امکان کو خاص اہمیت دے رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ میں حکومت کا خاتمہ ممکن بنانے کیلئے بہت سے سیاسی مخالفین ایک پیج پر جمع ہورہے ہیں۔ اس ایک پیج پر پی ٹی آئی اور ایم کیو ایم پاکستان کے علاوہ ہ پاک سرزمین پارٹی بھی شامل ہوگئی ہے۔چیئرمین پی ایس پی مصطفی کمال نے کہا ہے کہ ’’صوبے کو پیپلزپارٹی کی جاگیر بنا دیا گیا ہے، سندھ ریاست کے اندر ریاست بن چکاہے۔‘‘

خیبر پختونخوا کابینہ میں پھر اکھاڑ پچھاڑ

خیبرپختونخوا میں اختیارات کی کشمکش پاکستان تحریک انصاف کی موجودہ حکومت کے آغاز سے ہی چل رہی ہے ۔گورنر شاہ فرمان اور وزیراعلیٰ محمود خان بظاہر ایک ہی پیج پر نظر آتے ہیں لیکن دیکھا جائے تو اختیارات کا منبع گورنر ہائوس ہی ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت بنتے ہی پہلا تنازعہ سابق آئی جی پولیس صلاح الدین محسود کے تبادلے کے وقت پیش آیا۔ ایک شخصیت تبادلہ نہیں چاہتی تھی لیکن دوسری شخصیت کا پلڑا بھاری نکلا اسی طرح کابینہ سے دیگر افراد بھی ایک شخصیت کی پسند وناپسند سے باہر کئے گئے۔ دوسری جانب گورنر شاہ فرمان نے ثالثی کا کردار بھی بخوبی ادا کیا۔

دعوے ، کامیابی اور سیاست کے بدلتے رنگ

آزاد کشمیر کے انتخابات کی گہما گہمی پہلی مرتبہ ملک بھر میں محسوس کی گئی،صر ف جلسے ہی لوگوں کو نہیں گرما رہے تھے بلکہ سیاسی رہنما جہاں جہاں موجود تھے وہ آزادکشمیر کے انتخابات پر بات کررہے تھے ، دعوے کیے جارہے تھے اورایک دوسرے پر تنقید ہو رہی تھی۔مہاجرین کی نشستوں پر انتخابات کے لیے ملک کے دیگر علاقوں کی طرح جنوبی پنجاب میں بھی پولنگ سٹیشن بنے تھے ان انتخابات میں مقامی سیاستدان متحرک تھے اور اپنی جماعتوں کے کارکنوں کو بھی متحر ک رکھے ہوئے تھے، سیاسی جماعتوں خصوصاً اپوزیشن جماعتوں نے اتنی بھر پور مہم چلائی کہ لوگوں نے محسوس کیا کہ شاید آزاد کشمیر کے انتخابات میں روایت بدلنے جارہی ہے اور ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کوئی مخلوط سیٹ اپ لانے میں کامیاب ہو جائیں لیکن ایسا نہ ہو سکا البتہ اب آزادکشمیر کے انتخابی نتائج بھی ملک پر اثر انداز ہو رہے ہیں ۔

شہادت حضرت عثمان غنیؓ

رسول اللہﷺ کے تمام اصحاب پیکرِ صدق و وفا ،ہدایت کا سرچشمہ اور ظلمتوں کے اندھیرے میں روشنی کا وہ عظیم مینارہیں جن سے جہان ہدایت پاتاہے ،وہ قیامت تک آنے والی نسلِ انسانی کیلئے پیکرِرُشدوہدایت ہیں۔حضرت عثمان غنیؓ کو اللہ تعالیٰ نے عظیم صفات سے متصف فرمایا حیاکا ایساپیکر تھے کہ فرشتے بھی آپؓ سے حیا کرتے تھے۔آپؓ عشرہ مبشرہ میں سے ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ نے دنیا میں جنت کی بشارت دی۔حضرت حسان بن عطیہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:’’ اے عثمان !اللہ تعالیٰ نے تمہارے اگلے اور پچھلے کام بخش دیئے اور وہ کام جو تم نے پوشیدہ کیے اورجو ظاہر کیے اوروہ جو قیامت تک ہونے والے ہیں ‘‘۔