نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- سری نگر:قابض فوج نےضلع بانڈی پورہ میں نوجوان کوشہیدکردیا
  • بریکنگ :- سری نگر:کشمیری نوجوان کوسرچ آپریشن کی آڑمیں شہیدکیاگیا
  • بریکنگ :- سری نگر:علاقےمیں انٹرنیٹ اورموبائل فون سروس بند
Coronavirus Updates

ایثار کا درس جاوداں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : آغا سید حامد علی شاہ موسوی


راہِ خدا میں حضرت اسمعیل ؑ کو قربان کرنے کا واقعہ 10 ذو الحجہ کو پیش آیا اللہ نے اس دن یوم النحریعنی قربانی کے دن کو حج کا مبارک ترین دن قرار دیا اس لئے تمام ملتِ اسلامیہ آزمائش میں حضرت ابراہیمؑ کی کامیابی کی یاد تازہ کرتے ہوئے عید مناتی ہے۔باپ کی قربانی و ایثار اور فرزند کی تسلیم ورضا کی داستان کو اللہ نے ابد تک قائم رکھنے کا انتظام فرمایا۔ حضرت ابراہیم ؑ کی قربانی سے وابستہ ہر ہر اقدام کو شعائر اللہ قرار دیتے ہوئے حج کی عبادات و واجبات میں شامل کر دیا۔ قربانی ہو یا تکبیرات یا کنکریاں مارنے کے ذریعے شیطانوں سے بیزاری کا اظہارہو اس داستان خلیل و ذبیح میں انسانیت کیلئے لاتعداد دروس پنہاں ہیں ۔

 جب حضرت اسماعیل ؑ 13برس کے ہوگئے تو ان کے والد گرامی بے خبر آتش نمرود میں کود پڑنے والے خلیل خدا حضرت ابراہیم ؑ نے عجیب خواب دیکھا کہ انہیں خدا کی طرف سے یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنے ہاتھ سے قربان کرتے ہوئے  ذبح کر دیں ۔ پہلی مرتبہ ’’شب ترویہ‘‘(8 ذی ا لحجہ کی رات) یہ خواب دیکھا اور’’عرفہ‘‘ 9ذی الحجہ اور 10ذی الحجہ کی رات میں پھرخواب آیا۔ انبیائؑ کے خواب وحی کا درجہ رکھتے ہیں اور وحی ناقابل تردید حقیقت ہے۔ اس لیے حضرت ابراہیم ؑ کو اس بات میں کوئی شک نہ رہا کہ اپنے لخت جگر کو اپنے ہاتھ سے ذبح کرنے کا حکم مل رہا ہے۔

حضرت ابراہیم ؑ جو بارہا امتحانِ خداوندی کی گرم بھٹی سے سرفراز ہو کر باہر آئے تھے ایک بار پھر ’ ’بحر ِعشق‘ ‘میں کودنے اور اللہ کی جانب سے ایک اور آزمائش درپیش ہونے پر اپنے اس فرزند کی قربانی کیلئے تیار ہوگئے جسکے انتظار میں عمر کا ایک حصہ گزار دیا تھا اور جسکے حصول کیلئے اللہ کے حضور گڑ گڑا کر دعائیں کیا کرتے تھے ۔ عشق کی اس معراج پر عقل انسانی آج بھی حیران ہے ۔حضرت ابراہیم ؑ نے اپنے بیٹے کو مخاطب کرکے فرمایا، ترجمہ ’’ بیٹامیں نے خواب دیکھا ہے کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔‘‘

باپ اللہ کے عشق میں ڈوبا ہوا تھا تو بیٹا بھی  خلاق عالم کی آزمائش میں صبر و ایثار کا پیکر بنا نظر آتا ہے حضرت اسماعیل ؑ نے جو جواب دیا وہ تاریخ کے ماتھے پر آج بھی ثبت ہے : ترجمہ ’’ابا جان ! آپ کو جو حکم ملا ہے اس کی تعمیل کیجیے ، انشاء  اللہ آپ مجھے صابروں میں سے پائیں گے۔‘‘

 دنیا کے دانش مند ششدرو حیران ہیں کہ اس نوجوان کے قلب و جگر کردار و گفتار میں تسلیم و رضا کا یہ جذبہ کیسے ودیعت ہوا 

یہ فیضان نظر تھا یا مکتب کی کرامت تھی 

سکھائے کس نے اسماعیل ؑکو آدابِ فرزندی 

شیطان جس نے اللہ سے وقت معلوم تک صراط مستقیم پر بیٹھ کر انسانوں کو راہ خداوندی سے بھٹکانے کی مہلت لے رکھی تھی سے یہ منظر تسلیم و رضا دیکھا نہ گیا شیطان نے بہت ہاتھ پاؤں مارے کہ حضرت اسماعیل ؑ و حضرت ہاجرہؑ کو بہکا سکے ۔ آخر میں حضرت ابراہیم ؑکے پاس آیا اور ان سے کہا :جو خواب تم نے دیکھا ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں تم ہرگز اطاعت نہ کرو۔ حضرت ابراہیم ؑ نے نورِ ایمان اور نبوت کے پر تو میں اسے پہچان لیااور کہا :’’’دور ہو جا اے دشمن خدا‘‘ حدیث میں ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ جمرہ اولیٰ کے پاس آئے۔ شیطان وہاں بھی ان کے پیچھے آیا۔ حضرت ابراہیم ؑ نے7 پتھر اٹھا کر اسے مارے۔ جس وقت دوسرے جمرہ کے پاس پہنچے تو پھر شیطان کو دیکھا ، دوبارہ 7 پتھر اسے مارے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ میں آئے تو 7اور پتھراسے مارے۔  اور اسے ہمیشہ کیلئے اپنے سے مایوس کردیا۔ وہ لمحہ آ گیا جب کائنات کی نبضیں تھمنے لگیں اور قرآن نے یوں منظر کشی کی کہ فَلَمَّآ  اَسْلَمَا وَتَلَّہٗ  لِلْجَبِیْنترجمہ ’’ اور (باپ) ابراہیم نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹایا۔‘‘’’تلہ للجبین‘‘ سے مراد یہ تھی کہ بیٹے کی پیشانی خود اس کی فرمائش پر زمین پر رکھی اور چھری کو حرکت دی اور تیزی اور طاقت کے ساتھ اسے بیٹے کے گلے پر پھیر دیا ، صرف عشق خدا ہی انہیں اپنی راہ میں کسی شک کے بغیر آگے بڑھا رہا تھا لیکن تیز دھار چھری نے بیٹے کے لطیف و نازک گلے پر معمولی سا بھی اثر نہیں کیا حضرت ابراہیم ؑنے دوبارہ چھری کو چلایا لیکن پھر بھی وہ کارگرثابت نہ ہوئی۔یہ وہ منزل ہے کہ جہاں قرآن ایک مختصر اور معنی خیز جملے کے ساتھ انتظار کو ختم کرتے ہوئے حضرت ابراہیم ؑ کی کامیابی کا اعلان کردیتا ہے: ترجمہ ’’ اس وقت ہم نے ندا دی۔اے ابراہیم ! خواب میں جو حکم تمہیں دیا گیا تھا وہ تم نے پورا کردیا۔ ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیا کرتے ہیں ۔‘‘

خداوند عالم حضرت ابراہیم ؑ کے جذبۂ قربانی کو شرف قبولیت عطاکرنا چاہتے تھے اسی لئے خدا نے مینڈھا بھیج دیاتاکہ بیٹے کی جگہ اس کی قربانی کریں اور مراسم حج اور سر زمین منیٰ میں آنے والوں کیلئے اپنی سنت چھوڑ جائیں۔ چنانچہ قرآن کہتا ہے : ترجمہ ’’بے شک یہ کھلی ہوئی آزمائش تھی اورہم نے ذبح عظیم کو اس (اسماعیل ؑ ) کا فدیہ قرار دیا۔‘‘ 

حضرت ابراہیم ؑ رب کا شکر بجا لائے۔ اس مینڈھے کے سینگ کئی سال تک خانہ کعبہ کے اندر لٹکے رہے۔ (ابن کثیر، قصص الانبیاء) یہ قربانی اللہ تعالیٰ کو اس قدر پسند آئی کہ ہمیشہ کیلئے ملت ِ ابراہیمی کا شعار ٹھہرا دی گئی اللہ نے اس قربانی کی یاد ہمیشہ باقی رکھنے کیلئے انتظام بھی فرما دیا۔ترجمہ ’’اور ہم نے انکا تذکرہ بعد میں آنیوالی قوموں میں باقی رکھا۔ابراہیم پر سلام ہو۔ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی صلہ دیا کرتے ہیں۔‘‘ (سورہ الصافات)

 اللہ نے حضرت ابراہیم ؑ کے فرزند کو بچالیا اور ان کی قربانی بھی قبول کرلی یوں یہ دن مسلمانوں کیلئے عید کا دن بن گیا۔ قیامت تک آنے والے قربانی کے جانور بھی شعائر اللہ میں شامل ہوگئے۔ ترجمہ ’’اور موٹے تازے اونٹوں کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ قرار دیا جن میں تمہارے لئے خیر و برکت ہے ۔‘‘ (سورہ حج )

قربانی کی اس داستان کا ہر پہلو انسانوں کیلئے درس عمل ہے ۔اللہ نے اپنے خلیل کی قربانی کے ہر عمل کو باقی رکھنے کا انتظام فرمایا جس سے یہ ثابت ہوا کہ اللہ کی برگزیدہ ہستیوں کا عمل اور سنت باقی رکھنا واجب ہے اسی طرح دین اسلام کی راہ میں دی گئی نبی کریم محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ہر قربانی کو یاد رکھنا مسلمانان عالم کیلئے واجب ہے ان قربانیوں سے وابستہ یادگاروں کو باقی رکھنا اور ان کی تعظیم کرناتقویٰ کی علامت ہے اور اللہ کے نزدیک قربانی کا گوشت نہیں دلوں کا تقویٰ قبولیت کا درجہ رکھتا ہے ۔

عید قربان شیطانوں اور شیطانی ہتھکنڈوں سے نجات کا بھی درس دیتی ہے ۔قربانی ایسا آبِ حیات ہے جس نے پیغام توحید کو ابدیت عطا کردی تاریخ اسلام گواہ ہے کہ خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے وصال کے بعد جب شیطنت پوری قوت سے اسلام پر حملہ آور ہوئی تو نواسۂ رسول الثقلین ﷺ فخر اسماعیل ؑ حضرت امام حسین ؓنے دشت کربلا میں اپنی اور اپنے پیاروں کی لازوال قربانی سے اسلام کے گرد ایسا حصار قائم کیا کہ اسلام کو تاابد زندہ وجاوید کردیا۔

غریب و سادہ و رنگیں ہے داستان حرم

نہایت اس کی حسین ؓ ابتداء ہے اسماعیل ؑ

آج عید الاضحی اسلامیان ِعالم سے تقاضا کررہی ہے کہ شیطان اور اسکے آلۂ کاروں سے نجات اور دوری حاصل کریں ۔ قربانی کا جذبہ اپنے اندر پیدا کریں۔جب مسلمان ایثار و قربانی کی ’’فضائے ابراہیمی ‘‘پیدا کر یں گے تو اللہ کی مدد بھی شامل حال ہو جائے گی ۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

ساون بھادوں ایک ہی موسم ، یہ موسم ہے دل کا موسم

میر،غالبؔ ، انیسؔ و دبیرؔسمیت رومانوی شعراء نے اس موسم کو دل وجان سے چاہا ہے

مجید امجد۔۔۔۔’’احساس کا شاعر ‘‘

انفرادیت، مخصوص تمثال نگاری اور لفظوں کی ملائم ترتیب و تنظیم ان کے اعلیٰ شعری مرتبے کی عکاس ہیں’’مجید امجد نے خارج کی مادی دنیا کو باطن کی غیر مادی دنیا سے مربوط کرنے میں فنی بالیدگی کا ثبوت دیا ہے۔‘‘ڈاکٹروزیر آغا

عید ملن ادبی بیٹھک،راولپنڈی اور وفاقی دارالحکومت سے تعلق رکھنے والے ادیبوں اور شاعروں نے بڑی تعداد میں شرکت کی

محترمہ قیصرہ علوی کے خاندان کا یہ امتیاز رہا ہے کہ وہ ہر دور میں اپنے ہاںاسلام آباد میں ادبی محفلوں کا انعقاد کرتے رہے ہیں،یہ سلسلہ آج سے نہیں کئی دہائیوں پر محیط ہے ، اِن کے ہاں فیض احمد فیض سے لے کر صوفی غلام مصطفیٰ تبسم ، انتظار حسین اور ہر دور کے نامور دانشور شاعر، قلم کار ، خواتین و حضرات شرکت کر تے رہیں ۔

کورونا نے بدلا کیا کچھ ۔۔۔شادی پر خرچے ہوگئے کم

کورونا وائرس کے پھیلنے کے بعد کیا کچھ نہیں بدلا ، گھر ، دفتر کا ماحول ،عزیز و اقارب اور ہمسایوں سے میل ملاپ حتیٰ کہ شادی بیاہ کی تقریبات بھی کافی حد تک بدل چکی ہیں ۔ایک طرف مہمانوں کی گہما گہمی کم ہو چکی ہے تو دوسری جانب شادی بیاہ کے بڑھتے اخراجات کو بھی بریک لگ چکی ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔ متوسط اور غریب گھرانوں کیلئے اب بیٹیوں کی ڈولی اٹھانا مشکل نہیں رہا اس میں کچھ آسانیاں آ گئی ہیں۔ ان آسانیوں اور تبدیلیوں کو صرف ہمارے ملک میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر کے ممالک میں محسوس کیا جا رہا ہے ۔ آج ہم انہی معاملات پر مختصراً بات کریں گے ۔کورونا وباء کے باعث لگائی جانے والی پابندیوں سے معاشرتی روایات بدل سی گئی ہیں۔ ان میں شادی کی تقریبات سرفہرست ہیں کیونکہ یہ لوگوں کے جمع ہونے کی سب سے بڑی جگہ ہوتی ہیں مختلف جگہوں کے لوگ اور خاندانوں کے افراد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں جس کی وجہ سے کورونا پھیلنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔ اسی بارے میں ایک غیر ملکی جریدے نے شادیوں کے حوالے سے خصوصی رپورٹ شائع کی جس میں کہا گیا ہے کہ کورونا وباء سے قبل شادی کی تقریب کا انعقاد مالی لحاظ سے ایک مشکل کام تھا کیونکہ شادی میں ایسے نئے نئے رواج داخل ہوچکے تھے جو بہت مہنگے تھے۔ کسی عام شخص کیلئے شادی کرنا بہت مشکل ہو گیا تھا۔کورونا کے پھیلنے کے بعد شادی کے انتظامات اور پروٹوکول میں خاصا بدلاؤ آ گیا ہے۔ ہم ذیل میں کورونا وائرس کے شادی کی تقریبات پر اثرات کو واضح کرتے ہیں۔

خوشگوار زندگی گزاریں ۔۔۔یہ اصول اپنائیں

صحت مند ذہن اور جسم سے ہی صحت مند زندگی جنم لیتی ہے۔ لہٰذا جسمانی، ذہنی اور سماجی، تینوں طرح کی صحت برابر اہمیت کی حامل ہے۔ آج کی خواتین کو مختلف سماجی کردار نبھانے پڑتے ہیں۔ اس لیے انہیں اکثر کام اور خاندان کے حوالے سے دباؤ کا سامنا رہتا ہے۔ ان میں سے ہر کردار کی ذمہ داریاں نبھانا اور اس کے ساتھ صحت مند زندگی گزارنا آسان کام نہیں۔ خواتین کو اپنی ذہنی صحت کے ساتھ جسمانی صحت پر بھی توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ اچھی صحت اور خوشی سے بھرپور زندگی گزار سکیں۔

خواہشوں کے پر۔۔۔

انسان کے پر نہیں ہوتے۔۔۔مگر اپنی خواہشوں کو پر لگائے ان کو اپنی پلکوں پر بٹھائے وہ کہیں حسین تصور کی دنیامیں کھو جاتا ہے۔جہاں اس کی خواہشات پنپتی ہیں۔۔۔۔۔بڑھتی ہیں ۔ ۔ ۔ پوری ہوتی ہیں۔۔۔۔۔۔۔