نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- دیربالا:فائرنگ سے 6 افرادجاں بحق،5 زخمی،پولیس
  • بریکنگ :- دیربالا:اراضی تنازع،براول میں فریقین کےدرمیان تصادم
Coronavirus Updates

رشتے کو انا کا مسئلہ نہ بنائیں

خصوصی ایڈیشن

تحریر : یاسر خان بلوچ


ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ماں باپ اپنی بیٹی کیلئے جاہل ،گنوار،نکما اور فضول شخص منتخب کر لیتے ہیں مگر ایک اچھا پڑھا لکھا شخص رشتہ لے آئے اورکہے کہ میں آپکی بیٹی سے محبت کرتا ہوں تو وہ اسے انکارکر دیتے ہیں بناء کسی جواز کے اور اپنی بیٹی سے پوچھنا تک مناسب نہیں سمجھتے۔ جبکہ ان کی اپنی بیٹی بھی اسے پسند کرتی ہو وہ اپنی ہی اولاد کی پسند کو اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں کہ اس نے ہماری اجازت کے بنا باہر کیوں محبت کی؟ جبکہ دوسری طرف اسلام نے اس بات کی مخالفت کی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اگر آپ کے گھر کوئی رشتہ آتا ہے تو اپنی بیٹی یا بیٹے سے فیصلہ کرنے سے پہلے ضرور مشورہ کرو اور اسے پورا اختیار دیں کہ وہ آزادانہ طور پر اس کے بارے میں فیصلہ کرے۔اگر اسے پسند ہو تو آپ بھی پسند کریں اور اگر اسے پسند نہ ہو تو اسے مجبور نہ کریں۔

جبکہ ہمارے ہاں یہ بات دور دور تک عمل میں نہیں ہے۔پہلے تو کوئی اپنی بیٹی سے پوچھتا نہیں اور اگر کوئی دوسرا اسے اپنی اولاد سے مشورہ کرنے کا کہے تو اسے جواب دیتے ہیں ہمارا خون ہے ہمیں پتا ہے کہ ان کیلئے کیا برا ہے اور کیا اچھا ، بھلا کوئی ماں باپ بھی اپنی اولاد کا برا چاہتا ہیــ اور ہمیں یقین ہے کہ ہماری بیٹی کو بھی ہماری پسند پر اعتراض نہیں ہوگا۔ دوسری طرف اگر کوئی والدین اپنی بیٹی سے پوچھ لیں اور جواب میں اگر وہ اعتراض کر دے تو اسے اپنی اَنا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں اور بیٹی پر بدچلنی کا ٹھپہ لگا دیتے ہیں۔اس سے پورا گھر بلکہ پورا معاشرہ منہ موڑ لیتا ہے۔اس بیچاری پر دبائو ڈالا جاتا ہے ہر کوئی اسے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے دوست،رشتہ دار اور گھر والے سب۔اگر والدین اپنی بیٹی سے پوچھیں اور بیٹی انکار کر دے یا والدین بیٹی کی مان لیں تب بھی لوگ  طرح طرح کی باتیں کرنے لگتے ہیں، الزام لگائے جاتے ہیں۔انجام یہ ہوتا ہے کہ والدین لوگوں کی باتوں میں آکر اپنی بیٹی کی نہیں سنتے اور بس ایک  جملہ کہہ دیدیتے  ہیں کہ ’’ بیٹا ہم مجبور تھے۔‘‘ اپنی بیٹی کی ذرا سی تکلیف پر تڑپ اُٹھنے والے بھی ایسے موقع پر ٹھنڈے پڑ جاتے ہیں اور اپنی اَناکو لے کے بیٹھ جاتے ہیں۔ ایک المیہ یہ ہے کہ وہ اپنی بیٹی کی پسند اور خوشیوں کو اپنے ہی ہاتھوں قتل کر بیٹھتے ہیں اور وہ بھی بے دردی سے، اور اگر ان کا یہ فیصلہ غلط ہو جائے تو کہا جاتا ہے ’’ بس نصیب !! اس کے نصیب میں ایسا لکھا تھا۔‘‘

ہم اپنے رسم و رواج کی وجہ سے اپنی بیٹیوں کی زندگیاں برباد کرتے ہیں۔ اسی انا پرستی یارسم و رواج کی وجہ سے بعض لڑکیاں گھر کی دہلیز پار کر جاتی ہیں وہ اپنے والدین کو نہیں بتا پاتیں کہ انہیں فلاں شخص سے محبت ہے کیونکہ انہیں یقین ہوتا ہے کہ ان کے والدین اس کی پسند کو قبول نہیں کریں گے۔بعض اوقات لڑکیوں کا گھر سے قدم باہر نکالنے کی وجہ ان کے گھر کا ماحول ہوتا ہے کہ اس کی اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ وہ اپنے دل کی بات اپنے گھر والوں کو کھل کر کہہ سکے۔گھر کی دہلیز پار کرنے سے بہتر ہے کہ بیٹی ماں باپ کو کھل کر سب بتا دے کہ اسے فلاں شخص سے محبت ہے، اسے کسی سے نہیں ڈرنا چاہیے ۔ اور والدین کو چاہیے کہ وہ اپنی بیٹی کی بات سنیں اور اس شخص کے بارے میں تصدیق کریں اگر اچھا لگے تو ٹھیک نہیں تو بیٹی کو آگاہ کریں نا کہ اس معاملے کو اَنا کا مسئلہ بنائیں اور گھر کا ماحول خراب کریں۔ خدارا اپنی بیٹیوں کے ساتھ ایسا تعلق رکھیں کہ وہ اپنے بارے میں کوئی بھی فیصلہ لینے لگیں تو آپ کو بتائیں اور اسے یقین ہو کہ آپ اس کی بات سنیں گے، اَنا کو بیچ میں نہیں لائیں گے۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لمبی فراکس کا بدلتا فیشن ،ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جائے ہیں

یوں تو لمبی قمیضیں اور فراکس گزشتہ کئی سال سے فیشن میں’’اِن‘‘ ہیں لیکن آج کل خاص طور پرگھیر دار اور فلور لینتھ یعنی پاؤں تک آنے والے ڈریسزبھی فیشن کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ ماڈرن ڈریسرز میں بھی ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جا رہے ہیں۔ویسے بھی لمبی فراکس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ جب لڑکیاں بالیاں انہیں زیب تن کرتی ہیں تو ان کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کپڑوں کے ڈیزائن بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور زیادہ تر خواتین موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے کپڑے پہننے کے انداز کو بھی بدلنا شروع کر دیتی ہیں تاکہ وہ بھی وقت کے ساتھ الگ نظر آئیں۔ ہر عورت کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ اچھی نظر آئے۔بناؤ سنگھار کرنا، اپنی جلد کا خیال رکھنا،اچھے کپڑے پہننا کس عورت کو پسند نہیں ہوتا۔ زمانہ چاہے کوئی بھی ہو نیا یا پرانا ۔ہر زمانے کے ساتھ کپڑوں کے نئے اور جدید کٹس فیشن میں آتے رہتے ہیں ۔

جلد کو خوبصورت اور چمکدار بنانے والی ہربل وائٹنگ کریم :خود تیار کریں

افرا تفری کے اس دور میں خواتین اپنے چہرے کو نکھارنے کیلئے پوری طاقت صرف کر دیتی ہیں۔ جلد کو خوبصورت،نکھری اور چمکدار بنانے کیلئے نسخے آج بھی اتنے ہی کار آمد ہیں جتنے آج سے صدیوں پہلے تھے۔اگر آپ خود پر تھوڑی توجہ دیں تو آپ کا رنگ بھی دنوں میں نکھر سکتا ہے۔ رنگت نکھارنے اور جلد کو تروتازہ رکھنے کیلئے گھریلو ٹوٹکوں کا استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف جلد جوان رہتی ہے بلکہ داغ دھبوں اور جھریوں سے بھی پاک رہتی ہے۔

خبردار!میک اپ کے ساتھ ورزش نہیں کریں،کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہوجاتے ہیں

بہت سی لڑکیاں اور خواتین اپنے چہرے پر مکمل میک اپ کے ساتھ ورزش کرتی ہیں اور جلد پر اس کے منفی اثرات اور نتائج سے واقف نہیں ۔ طبی ماہرین منع کرتے ہیں کہ ورزش کے دوران چہرے پر کاسمیٹکس کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہو جاتے ہیں ۔

آج کا پکوان سبزیوں کے چپلی کباب

اجزاء: پالک 200گرام، آلو دو عدد درمیانے، گاجر ایک عدد، مٹر ایک پیالی، سیم کی پھلی دس سے بارہ عدد، نمک حسبِ ذائقہ، ادرک لہسن پسا ہوا ایک چائے کا چمچ، پیاز دو عدد درمیانی، ٹماٹر دو عدد درمیانے، کٹی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، بھنا کٹا دھنیا زیرہ ایک چائے کا چمچ، پسی ہوئی کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ، انار دانہ ایک چائے کا چمچ، انڈے دو عدد، مکئی کا آٹا دو کھانے کے چمچ، کوکنگ آئل حسبِ ضرورت۔

نیوزی لینڈٹیم کی کھیلے بغیر واپسی، سازش یا کچھ اور؟ سیریز کی اچانک منسوخی کے بعد بھارتی صحافی نندن مشرا کی خبر کو اُ ن کے میڈیا نے خوب نشر کیا

معلوم نہیں نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے، نیوزی لینڈ بورڈ اب ہمیں آئی سی سی میں سُنے گا،چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ,کیوی کرکٹرز ، آفیشلز اورسیکیورٹی حکام پاکستان کی جانب سے بہترین انتظامات اور فول پروف سیکیورٹی کی مسلسل تعریف کرتے رہے

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔