نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- افغانستان 40 سال کی جنگ میں تباہ ہوچکاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- افغانستان کوعالمی امدادکی ضرورت ہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- کوئی ملک امدادبغیرشرائط کےنہیں دیتا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- امریکاکارویہ امتیازی ہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- امریکاکےآلہ کارافغانستان میں اب بھی جنگ چاہتےہیں،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- میں سمجھتاہوں ایسےلوگوں سےمفاہمت نہیں کرنی چاہیے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پاکستان نےافغان مہاجرین کوپناہ دی،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- ماضی کی افغان حکومت میں پاکستان پرالزامات لگائےگئے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پنج شیرکےحوالےسےبھی پاکستان پرالزام لگایاگیا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- افغانستان سےپاکستان کےخلاف پروپیگنڈاہوتارہاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- سی آئی اےکاچیف افغانستان آتاہےتوشورنہیں مچایاجاتا،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- پاکستانی وفدافغانستان آتاہےتودنیامیں شورمچ جاتاہے،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- غیرملکی طاقتوں نےافغانستان میں غیرنمائندہ حکومتیں مسلط کیں،گلبدین حکمت یار
  • بریکنگ :- سابق صدراشرف غنی پیسےلےکرملک سےفرارہوئے،گلبدین حکمت یار
Coronavirus Updates

شاعری کی دنیا

خصوصی ایڈیشن

تحریر : روزنامہ دنیا


چراغ جلا رہے ہیں زندگی سے یہ نصیب کا چراغ، ہوائے تند! رک! بجھا نہ تو غریب کا چراغ

 چراغ

 جلا رہے ہیں زندگی سے یہ نصیب کا چراغ

 ہوائے تند! رک! بجھا نہ تو غریب کا چراغ

 درِ رسولﷺ پر جھکا ہوا ہوں پھر سے کبریا! 

 عطا ہو خاک زاد کو ترے حبیبؐ کا چراغ

 جہاں میں جس نے روشنی کو زاویے کئی دیے

 کہ اس جہاں میں کیوں بجھے گا اس ادیب کا چراغ

 تم اپنی اپنی ذات  سے الجھ کے ہو گئے فنا

 نشاں مگر ہے عزم کا یہاں حسیب کا چراغ

 اتا ، پتا کوئی تو ان کو خضر کا عطا کرے

 جو لے کے چل رہے ہیں ہاتھ میں نقیب کا چراغ

 شبِ فراق،جاں مری لیے بغیر کب ٹلی 

 نہ طاہر اب کے جل سکا مرے طبیب کا چراغ

 طاہر حنفی، اسلام آباد

 

میرا اللہ مجھ کو کافی ہے

تیرے حق میں دوا ہی شافی ہے 

میرا اللہ مجھ کو کافی ہے 

تو نہیں ہے تو ایسا لگتا ہے 

میری ہر سانس اب اضافی ہے 

گفتگو تیری خوب ہے لیکن 

تیرے کردار کے منافی ہے 

عشق سب نے کیا ہے دنیا میں 

یہ خطا قابل معافی ہے 

تم پہ تنقید میں نہیں کرتی

یہ بھی اک پہلو اختلافی ہے 

ایک جیسا نظر نہیں آتا 

تیرا اطوار بھی غلافی ہے

چھپ کے کرتا ہے یہ بھی ورد ترا 

دل کی خصلت بھی اعتکافی ہے 

عہد ِ حاضر کی زندگی نصرت 

سر سے پا تک تو انحرافی ہے 

خامشی گیت تیرے گاتی ہے

نصرت عتیق گور کھپوری

 

مجھ کو تنہائی کب ستاتی ہے 

خامشی گیت تیرے گاتی ہے

تُو نہیں گر ہماری دنیا میں 

تیری خوشبو کہاں سے آتی ہے 

ساتھ رہتا ہے میرے سناٹا 

اور تُو دل میں گنگناتی ہے

میں تو حیراں ہوں کس طرح دنیا 

اپنے پیاروں کو بھول جاتی ہے

اونگھ جاتی ہے رات بھی جس وقت 

تیرے قدموں کی چاپ آتی ہے

رکنے لگتی ہیں جب مری سانسیں 

زندہ رہنے پہ تُو مناتی ہے 

صابرہ ! ہو مقام جنت میں 

لب پہ ہر دم دعا یہ آتی ہے 

خواجہ طاہر حسن طاہر /اسلام آباد 

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔

سچ جھوٹ

بہت عرصہ پہلے کی بات ہے لبنان میں ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ وہاں کے لوگوں کو اپنے بادشاہ سے بہت محبّت تھی۔ بادشاہ بھی رعایا کا بیحد خیال رکھتا تھا۔ وہ اپنے بزرگوں کی تقلید کرتے ہوئے روزانہ سادہ کپڑوں میں شہر کی گلیوں میں گھوم پھر کر لوگوں کے بارے میں معلوم کرتا تھا کہ لوگ کس طرح زندگی گزار رہے ہیں۔ اگر کوئی دُکھی ہوتا تو بادشاہ اس کی مدد بھی کر دیا کرتا۔

بچوں کی نفسیات : والدین اور اساتذہ کا کردار(تیسری قسط)

بچوں کی صحیح سمت میں تربیت کیلئے کے لیے اُن کی نفسیات کو سمجھنا نہایت ضروری ہے۔ اس کے لئے بنیادی شرط بچوں سے قریبی تعلق ہے اور اس قربت کے ساتھ ساتھ ان سے بے پناہ لگائو بھی ہے۔

پہیلیاں

پہیلی ۱۔مٹی سے نکلی اک گوریسر پر لیے پتوں کی بوریجواب :مولی

ذرا مُسکرائیے

ٹھنڈا پانی سخت سردی ک موسم تھا۔ ایک بیوقوف مسلسل پانی بھرے جارہا تھا۔ ایک صاحب نے پوچھا’’ تم صبح سے اتنا پانی کیوں بھر رہے ہو۔ آخر اتنے پانی کا کیا کرو گے؟‘‘بیوقوف بولا:’’ پانی بہت ٹھنڈا ہے، گرمیوں میں کام آئے گا‘‘۔

اسلام میں کسب حلال کی فضیلت

حضور پاک ﷺ کا ارشاد گرامی ہے کہ اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے یعنی دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے