نیوز الرٹ
  • بریکنگ :- معاون خصوصی شہبازگل کاشاہدخاقان عباسی کےبیان پرردعمل
  • بریکنگ :- درباری پن سےوزیراعظم بننےوالےاپنےحلقےسےہارےہیں،شہبازگل
  • بریکنگ :- پروپیگنڈاکرنےوالوں کوعوام 2018 میں مستردکرچکے،شہبازگل
  • بریکنگ :- بیرونی طاقتوں کےپاؤں پڑنےوالےنااہل ملکی بدنامی کاباعث بنے،شہبازگل
Coronavirus Updates

لوگ دکھ میں بھی مسکراتے ہیں۔۔۔نذیر قیصر کی زیر صدارت زینۃ دل ادبی محفل کے زیر اہتمام مشاعرہ ملک بھر سے شعرا کی شرکت

خصوصی ایڈیشن

تحریر : رپورٹ :ثقلین جعفری


صوبائی دارالحکومت لاہور میں عید الاضحی سے چند روز قبل انیل ارشاد خان کی رہائش گاہ پر زینہء دل ادبی محفل اور انیس احمدکے زیر انتظام مشاعرہ ہوا جس کی صدارت ملک کے مایۂ ناز شاعر جناب نذیر قیصر صاحب نے کی۔ مشاعرے کو کراچی کے ایک نجی ٹی وی کی جانب سے لائیو نشر کیا گیا جو پوری دنیا میں دیکھا گیا۔کراچی سے نسیم شیخ اور جناب نظر فاطمی جبکہ نیو یارک سے جناب اعجاز احمد بھٹی خصوصی طور پر شامل ہوئے۔ مشاعرے میں کلر کہار سے عرفان خانی (عالمی ادب اکادمی کے سربراہ) ، ڈیرہ اسماعیل خان سے رحمتہ اللہ عامر، حافظ آباد سے شاہ دل شمس صاحب، آصف جاوید اور ساجد لطیف صاحب نے شرکت فرمائی۔لاہور سے پروین سجل ، انمول گوہر، عابدہ قیصر، تجدید قیصر ، وحید ناز، راشد ممتاز لاہوری اور محمد علی صابری موجود تھے۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض انیس احمد نے احسن انداز میں ادا کئے ، مشاعرے کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا جسکی سعادت انیل ارشاد خان نے حاصل کی۔نظامت کے فرائض سرانجام دینے والے انیس احمد صاحب نے سب سے پہلے اپنا کلام پیش کیا۔

عشق ایسا ہوا آخری سانس میں

عمر بھر کا صلہ آخری سانس میں

انمول گوہر نے اپنا کلام سنایا۔ راحیل ارشاد خان نے اپنی دو غزلیں پیش کیں۔ انیل ارشاد خان نے بھی اپنی دو غزلیں سنائیں۔ پہلی غزل کے چند اشعار

آنکھوں کی جھیل چھوڑ کے دریا تلاش کر

دو گھونٹ لے کے پانی کے پیاسا تلاش کر

جاڑوں میں دھوپ کھینچ کے لائے تھے ہم یہاں

گرمی میں اب انیل تو سایا تلاش کر

دوسری غزل یہ سنائی۔

دل کا تو آئے روز تماشا عجیب ہے

اس پر بھی مضطرب ہے کہ جاناں قریب ہے

ناراض ہو رہے ہیں یہ ناصح بھی اب انیل

واعظ خفا خفا ہے تو برہم خطیب ہے

 وحید ناز نے پنجابی اور اردو کلام پیش کیا ۔ ثقلین جعفری صاحب نے اپنے اشعار سے محفل کو چار چاند لگا دیئے۔

بات دستار تک چلی آئی

میرے کردار تک چلی آئی

ہائے ثقلین وہ ترے پیچھے

گھر سے بازار تک چلی آئی

…٭٭…

گلِ زخمِ ہے اور میں ہوں

محبت کا ثمر ہے اور میں ہوں

وہ مطلوبِ نظر تھا اور میں تھا

وہ محبوبِ نظر ہے اور میں ہوں

…٭٭…

 پروین سجل نے اردو اور پنجابی میں خوبصورت نظم اور اشعار گوش گزار کئے۔ محمد علی صابری صاحب نے متفرق اشعار اور غزلیات پیش کی۔

ظلم ہے امن کو نگلتا ہوا

چار سو ہے جہان جلتا ہوا

دیکھتا ہوں خود کو اندر سے

صابری ٹوٹتا بکھرتا ہوا

…٭٭…

دشوار ہے کٹھن ہے مگر کاٹنا تو ہے

دنیا میں زندگی کا سفر کاٹنا تو ہے

مانا کہ آج صابری دنیا پہ بوجھ ہوں

اب عمر کا یہ پچھلا پہر کاٹنا تو ہے

شاعر، ادیب، ناول نگار راشد محمود لاہوری کی طرف سے کلام پیش کیا گیا۔ نذیر قیصر کی صاحبزادی تجدید قیصر نے بھی اشعار سنائے۔ رحمتہ اللہ عامر صاحب نے سنجیدہ و مزاحیہ کلام سنایا۔جدید لہجے کے خوبصورت شاعر شاہ دل شمس صاحب نے بھی اپنے کلام سے نوازا۔ لطیف ساجد کے اشعار سے حاضرینِ محفل بہت محظوظ ہوئے۔ عرفان خانی نے دلفریب اشعار پیش کئے۔ آصف جاوید نے بھی اپنے کلام سے سامعین کو نوازا۔ نظر فاطمی نے متفرق اشعار اور ترنم سے غزل پیش کی۔ سید سلمان گیلانی نے نعت اور مزاحیہ کلام پیش کیا۔ نسیم شیخ نے اپنے کلام سے حاضرین پر سحر طاری کر دیا۔ اعجاز احمد بھٹی نے اردو غزل اور پنجابی نظم پیش کی۔آخر میں صاحبِ صدر نذیر قیصر نے اپنا صدارتی خطبہ پیش کیا جس میں انہوں نے میزبانوں خصوص طور پر  انیل ارشاد خان  و بیگم ریشماں انیل، انیس احمد ، زینۂ دل ادبی محفل ور شرکاء کا شکریہ ادا کیا ۔ انہوں نے جگر مراد آبادی صاحب کے ساتھ پڑھے ہوئے مشاعروں کی یادوں کا تذکرہ کیا اور اپنی تازہ ترین غزلیں پیش کیں۔

دل سے دنیا نکال دی میں نے

آگ کاسے میں ڈال دی میں نے

پیاس چھلکی تھی میری چھاگل سے

آسمان تک اچھال دی میں نے

نقشِ پا ہیں میرے ستاروں پر

وقت کو اپنی چال دی میں نے

تیری جنت کے ساتھ دنیا بھی

تیرے پیروں میں ڈال دی میں نے

اور وہ جب پہلی نیند سے جاگی

اس کو پتوں کی شال دی میں نے

رات کے ہاتھ میں تھی شاخِ گلاب

شاخ بوتل میں ڈال دی میں نے

شاعروں کی پرانی محبوبہ

شاعری سے نکال دی میں نے

ایک مچھلی جو ہاتھ آئی تھی

پھر سے دریا میں ڈال دی میں نے

لوگ دکھ میں بھی مسکراتے ہیں

اس کو اپنی مثال دی میں نے

اور آخر خدا کی صورت بھی

اپنی غزلوں میں ڈھال دی میں نے

 مشاعرے کے اختتام پر انیل ارشاد خان کی اردو شاعری کی دوسری کتاب’’پابجولاں خواہشیں‘‘اور نثر کی پہلی کتاب ’’آرٹیکل شپ، گردِ سفر اور فراز‘‘ حاضرین میں تقسیم کی گئیں۔

 

روزنامہ دنیا ایپ انسٹال کریں
Advertisement

لمبی فراکس کا بدلتا فیشن ،ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جائے ہیں

یوں تو لمبی قمیضیں اور فراکس گزشتہ کئی سال سے فیشن میں’’اِن‘‘ ہیں لیکن آج کل خاص طور پرگھیر دار اور فلور لینتھ یعنی پاؤں تک آنے والے ڈریسزبھی فیشن کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔حتیٰ کہ ماڈرن ڈریسرز میں بھی ان دنوں شارٹ ڈریسرز کے بجائے زیادہ لمبائی والے ملبوسات ہی پسند کئے جا رہے ہیں۔ویسے بھی لمبی فراکس کی بات ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ جب لڑکیاں بالیاں انہیں زیب تن کرتی ہیں تو ان کی شان ہی کچھ اور ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ کپڑوں کے ڈیزائن بھی تبدیل ہوتے رہتے ہیں اور زیادہ تر خواتین موسم بدلنے کے ساتھ ساتھ اپنے کپڑے پہننے کے انداز کو بھی بدلنا شروع کر دیتی ہیں تاکہ وہ بھی وقت کے ساتھ الگ نظر آئیں۔ ہر عورت کی ہمیشہ سے یہی خواہش رہی ہے کہ وہ اچھی نظر آئے۔بناؤ سنگھار کرنا، اپنی جلد کا خیال رکھنا،اچھے کپڑے پہننا کس عورت کو پسند نہیں ہوتا۔ زمانہ چاہے کوئی بھی ہو نیا یا پرانا ۔ہر زمانے کے ساتھ کپڑوں کے نئے اور جدید کٹس فیشن میں آتے رہتے ہیں ۔

جلد کو خوبصورت اور چمکدار بنانے والی ہربل وائٹنگ کریم :خود تیار کریں

افرا تفری کے اس دور میں خواتین اپنے چہرے کو نکھارنے کیلئے پوری طاقت صرف کر دیتی ہیں۔ جلد کو خوبصورت،نکھری اور چمکدار بنانے کیلئے نسخے آج بھی اتنے ہی کار آمد ہیں جتنے آج سے صدیوں پہلے تھے۔اگر آپ خود پر تھوڑی توجہ دیں تو آپ کا رنگ بھی دنوں میں نکھر سکتا ہے۔ رنگت نکھارنے اور جلد کو تروتازہ رکھنے کیلئے گھریلو ٹوٹکوں کا استعمال کیا جائے تو اس سے نہ صرف جلد جوان رہتی ہے بلکہ داغ دھبوں اور جھریوں سے بھی پاک رہتی ہے۔

خبردار!میک اپ کے ساتھ ورزش نہیں کریں،کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہوجاتے ہیں

بہت سی لڑکیاں اور خواتین اپنے چہرے پر مکمل میک اپ کے ساتھ ورزش کرتی ہیں اور جلد پر اس کے منفی اثرات اور نتائج سے واقف نہیں ۔ طبی ماہرین منع کرتے ہیں کہ ورزش کے دوران چہرے پر کاسمیٹکس کا استعمال نہیں کرنا چاہئے۔اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ کاسمیٹکس سے چہرے کے مسام بند ہو جاتے ہیں ۔

آج کا پکوان سبزیوں کے چپلی کباب

اجزاء: پالک 200گرام، آلو دو عدد درمیانے، گاجر ایک عدد، مٹر ایک پیالی، سیم کی پھلی دس سے بارہ عدد، نمک حسبِ ذائقہ، ادرک لہسن پسا ہوا ایک چائے کا چمچ، پیاز دو عدد درمیانی، ٹماٹر دو عدد درمیانے، کٹی ہوئی لال مرچ ایک چائے کا چمچ، بھنا کٹا دھنیا زیرہ ایک چائے کا چمچ، پسی ہوئی کالی مرچ آدھا چائے کا چمچ، انار دانہ ایک چائے کا چمچ، انڈے دو عدد، مکئی کا آٹا دو کھانے کے چمچ، کوکنگ آئل حسبِ ضرورت۔

نیوزی لینڈٹیم کی کھیلے بغیر واپسی، سازش یا کچھ اور؟ سیریز کی اچانک منسوخی کے بعد بھارتی صحافی نندن مشرا کی خبر کو اُ ن کے میڈیا نے خوب نشر کیا

معلوم نہیں نیوزی لینڈ کس دنیا میں رہ رہا ہے، نیوزی لینڈ بورڈ اب ہمیں آئی سی سی میں سُنے گا،چیئرمین پی سی بی رمیز راجہ,کیوی کرکٹرز ، آفیشلز اورسیکیورٹی حکام پاکستان کی جانب سے بہترین انتظامات اور فول پروف سیکیورٹی کی مسلسل تعریف کرتے رہے

لکڑہارے کی ایمانداری (آخری قسط)

بیوی کوستے ہوئے پوچھنے لگی کہ یہ کیسی جڑی بوٹیاں اٹھا کر لے آئے ہو اور ان کا کیا کرو گے۔؟ لکڑہارے نے بیوی کی سنی ان سنی کرتے ہوئے جڑی بوٹیوں کو کھرل میں ڈال کر کوٹنا شروع کر دیا۔ دوسرے دن صبح سویرے وہ دوائیں لے کر بازار کی طرف چلا گیا اور آوازیں لگانے لگا کہ اس کے پاس ہر قسم کے مرض کی دوا موجود ہے، ہر نئے پرانے مرض کا شرطیہ علاج ہے، اپنا مرض بتائیں مجھ سے دوا لیں اور شفایاب ہوجائیں۔ لوگ اس کی آوازیں سن کر ہنسنے لگے اور مذاق اڑانے لگے ۔ لکڑہارا بدستور آوازیں نکالتا رہا ۔اچانک ایک عورت روتی ہوئی اپنی بیٹی سمیت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ اس کی بیٹی پیٹ درد کی وجہ سے مرے جا رہی ہے اور اس کا درد کسی دوا سے ٹھیک نہیں ہوا۔